اگر پہلے دن سے ملک میں کورونا وائرس سے مقابلہ کرنے کیلیے ایک مشترکہ پالیسی ہوتی تو آج اس کے ثمرات مختلف ہوتے: پیپلز پارٹی رہنماؤں کی پریس کانفرنس


کراچی(18 اپریل2020ء) پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما سینیٹر شیری رحمٰٰن نے کہا ہے کہ کرونا کی وبا نے پوری دنیا کوئی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ابھی تک اس بیماری کی ویکسین موجود نہیں سماجی دوری بہت ضروری ہے ،یواین او کے مطابق پاکستان میں کرونا کی خطرناک صورتحال ہوسکتی ہے ایسے میں وفاق اور صوبوں کا یک ہی بیانیہ ہونا چاہیے ہمیں کورونا سے لڑنا ہے آپس میں نہیں۔


انہوں نے یہ بات ہفتہ کو بلاول ہائوس میڈیا سیل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی اس موقع پر ان کے ہمراہ شازیہ عطا مری، وقار مہدی اور راشد ربانی بھی تھے۔شیری رحمن نے کہا کہ موجودہ نازک گھڑی میں ہم وفاق سے کہہ رہے ہیں ہم آپ کے ساتھ ہیں،بجٹ آنے والا ہے آپ آرڈینس جاری کررہے ہیں موجودہ مشکل صورتحال میں لوگوں کی جانیں بچائیں ۔ لیکن افسوس کہ وزیر اعظم پانچ منٹ تقریر کرنے کے بعد ایوان سے نکل گے انہوں نے کہا کہ فرنٹ لائن پر طبی اور غیر طبی عملہ ہے ان کا تحفظ کیا جائے ،صحت کے شعبے میں رقم لگانی چاہیے۔


پریس کانفرنس میں شازیہ مری کا کہنا تھا کہ یہ وقت گالی دینے پر دھمکی دینے کا نہیں۔ ہم بھی ایک گالی کا جواب دس گالیوں سے دے سکتے ہیں لیکن ہماری تربیت ایسی نہیں، فی الحال صورتحال غیرمعمولی ہے اتحاد کی ضرورت ہے۔ پیپلز پارٹی رہنماوں کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس سے بچاو کیلئے سماجی دوری ہی واحد زریعہ ہےجب تک کرونا کی ویکسین تیار نہیں ہوتی شہری سماجی دوری اختیار کریں۔


حکومت تعمیری شعبے کے ساتھ ساتھ صحت پرتوجہ دے ہیں شیری رحمان نے کہا کہ جو حکومت میڈیا سے بھی لڑرہی ہو وہ آئندہ چینلجز کا کیسے سامنا کرے گی۔ شیری رحمن نے کہا کہ ہم بھی تنقید کا جواب دے سکتے ہیں مگر بلاول بھٹو نے وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بنانے سے انکار کیا۔ اس وقت ہمیں لوگوں کی جان اور روزگار دونوں کا تحفظ کرنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میر شکیل الرحمن کو گرفتار کیا گیا ،خورشید شاہ گرفتار ہیں اور شہباز شریف کو نیب کا نوٹس ملا ہے۔


یہ سب سیاسی انتقامی کارروائی کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ کرونا کی وبا کے دوران ہم راشن کھانے پینے اور دیگر اشیالوگوں کو فراہم کررہے ہیں۔انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ وفاقی وزراپارٹی قیادت کی ہدایت پر تنقید اور سیاست میں مصروف ہیں۔اب تک نہ کشمیر پر نہ ہی کورونا پر نیشنل ایکشن نہ بنایا جاسکا ۔شازیہ مری نے کہا کہ گالیاں دینے والوں کی سرزنش کی جانی چاہیے ،ہم گالیوں کا جواب دے سکتے ہیں مگر یہ ہماری سیاست کا حصہ نہیں ۔


انہوں نے کہا کہ ہم کرونا وائرس سے جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے تعزیت پیش کرتے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت قومی یکجہتی کی اشد ضرورت ہے شازیہ مری نے کہا کہ کرونا پر سندھ حکومت نے بہت اچھا کام کیا ہے جس کی ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بھی تعریف کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی سندھ نے 26فروری کو کرونا سے نمٹنے کے لئے جو اقدامات کیے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔شازیہ مری نے کہا کہ وفاقی حکومت عام آدمی کے مسائل پر توجہ دینے کے بجائے ایسے کام کررہی ہے جس کا عام پاکستانی کو کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ ماہر معاشیات قیصر بنگالی نے بھی تعمیری شعبے کو رعایت دینے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں