عالمی وباءکورونا وائرس کے دوران وفاقی حکو مت کی جانب سے سندھ حکومت کے خلاف بیان بازی اور پوائنٹ اسکورنگ ایک شرمناک عمل ہے: پیپلزپارٹی بلوچستان

کوئٹہ(پی پی پی میڈیا سیل بلوچستان ) پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے صدر حاجی علی مدد جتک نے کہا ہے کہ عالمی وباءکورونا وائرس کے دوران وفاقی حکو مت کی جانب سے سندھ حکومت کے خلاف بیان بازی اور پوائنٹ اسکورنگ ایک شرمناک عمل ہے سندھ حکومت اس وقت کورونا وائرس کا مقابلہ کررہی ہے جبکہ وفاقی وزراءکورونا کے بجائے سندھ حکومت سے لڑ رہے ہیں،وفاقی اور صوبائی حکومتیں کورونا کے نا م پر فنڈز میں کرپشن کر رہی ہیں بلوچستان میں 6ارب روپے کا راشن صوبے میں تقسیم کیا لیکن کسی کو پتہ نہیں کہ یہ راشن کس کو دیا گیا ہے۔

یہ بات انہوں نے اتوار کو پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اقبال شاہ ، سابق سینیٹر روزی خان کاکڑ، شیخ بلال مندوخیل ، میرولی محمد قلندرانی ،ثناءاللہ جتک،ڈاکٹر عبدالغنی اور دیگر کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔حاجی علی مدد جتک نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں کورونا وائرس پھیلا ہوا ہے اوردنیا بھر کی حکومتیں اور ڈاکٹرز کروناوائرس کا مقابلہ کر رہے ہیں،پاکستان میں کورونا کے کیسز رپورٹ ہونے کے بعدوزیراعلی سندھ نے فوری طور پر صوبے میں لاک ڈاون کا فیصلہ کیا ،وزیراعلی سندھ کے اقدامات سے کافی حد تک کروناوائرس کے پھیلاو کو روکنے میں مدد ملی افسوس کی بات ہے کہ وفاقی وزرا وزیراعلیٰ سندھ کے اقدامات کی تعریف کرنے کی بجائے سندھ حکومت پر بلاوجہ تنقید کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کروناوائرس کے پھیلاو کو روکنے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کیے ۔انہوں نے کہا کہ جب بھی پاکستان پر کوئی مشکل وقت آیا پیپلزپارٹی نے ہمیشہ عوام کی خدمت کی وزیراعلی سندھ ووٹ کی طاقت سے اقتدار میں آئے ہیںاس لئے پیپلزپارٹی کو اپنے لوگوں کا احساس ہے لیکن وفاق ،پنجاب ،سندھ اور بلوچستان میں سلیکٹڈ حکومتیں ہیں انہیں عوام کی کوئی پرواہ نہیں ہے اورانہوں نے کورونا وائرس کو روکنے کیلئے کوئی خاص انتظامات نہیں اٹھائے۔

حاجی علی مدد جتک نے کہا کہ ریاست کی زمہ داری ہے کہ شہریوں کا تحفظ کیا جائے لیکن وفاقی حکومت اپنے شہریوں کا کورونا وائرس سے تحفظ کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے اور عوام کو کوروناوائرس کے رحم و کرم پر چھوڑ د یا گیا ہے وفاق اور تینوں صوبوں کی حکومتیں مستحقین کے نام پر میگا کرپشن میں مصروف ہیں بلوچستان حکومت نے صوبے میں 6ارب روپے کا راشن تقسیم کیا لیکن کسی کو معلوم نہیں ہے کہ یہ راشن کس کو دیا گیا ہے پاکستان پیپلز پارٹی کسی بھی صورت مستحقین کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں لاک ڈاون کے باعث غریب اور مستحق افراد کے گھروںکے چولہے ٹھنڈے پڑچکے ہیں لیکن حکمران صرف زبانی جمع خرچ میں مصروف ہیں ان غریب افراد کی کوئی امداد نہیں کی جارہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت وزیراعظم سمیت تمام حکمرانوں کے بچے ملک سے باہر ہیں لیکن شہید بی بی اور زرداری کا بیٹا ملک میں موجود ہے اور بلاول بھٹو زرداری سندھ میں کورونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے اور غریب عوام کو فراہم کی جانے والی امداد کی خود نگرانی کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کورونا وائرس کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والے ڈاکٹرز اپنے لئے حفاظتی کٹس مانگنے کیلئے احتجاج کر رہے تھے لیکن حکومت نے انہیں کٹس فراہم کرنے کی بجائے ان پر ڈنڈے برسائے اور جیلوں میں بند کیا اور ڈاکٹروں نے خود چندہ جمع کرکے اپنے لئے کٹس خریدیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے الٹا سندھ کے وزیراعلیٰ کی جانب سے لاک ڈاون کرنے پرسند ھ حکومت کو بلاجواز تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے وفاق کا سندھ حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ شرمناک عمل ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے رہنماوں نے پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدیت پر تمام سیاسی اختلافات کو بھلاکر وفاق کو کورونا وائرس کے خلاف لڑنے کی دعوت دی لیکن وفاقی وزراءسندھ حکومت کے خلاف بے بنیاد اور منفی پروپیگنڈے میں مصروف ہیں جس کی پاکستان پیپلز پارٹی مذمت کرتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں حاجی علی مدد جتک نے کہا کہ بلوچستان حکومت واٹس ایپ پر چلائی جارہی ہے اور صوبے میں سرعام کرپشن ہورہی ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ہے.

انہوں نے کہا کہ سندھ میں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اورانکی ٹیم رات کے اندھیرے میں لوگوں کے گھروں کے سامنے راشن رکھ رہی ہے اور کوئی فوٹو سیشن نہیں ہورہا ہے اسی طرح بلوچستان سمیت دیگرصوبوں میں بھی پیپلز پارٹی کے عہدیداران اور کارکن فوٹو سیشن کے بغیر غریب اور مستحق افراد کی مدد کررہے ہیں ۔پیپلزپارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سیداقبال شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت سے صوبوں کو بہت کم مدد مل رہی ہے وفاق سے صوبوں کو جو مدد مل رہی وہ بھی کرپشن اور اقرباءپروری کی نظر ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ڈاکٹرز کو اب تک حفاظتی آلات نہیں مل سکے جو کہ لمحہ فکریہ ہے ڈاکٹرز اپنی مدد آپ کے تحت حفاظتی آلات خرید رہے ہیں۔

[contact-form-7 404 "Not Found"]

اپنا تبصرہ بھیجیں