پارلیمنٹ کا فوری طور پر اجلاس بلایا جائے اور اس میں حکومت کی طرف سے دیا جانے والے ریلیف پیکج کو منظور کروا جائے ورنہ یہ پیکج غیر قانونی ہوگا : پیپلزپارٹی


اسلام آباد : پاکستان پیپلزپارٹی کی مرکزی خواتین رہنماؤں نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا فوری طور پر اجلاس بلایا جائے اور اس میں حکومت کی طرف سے دیا جانے والے ریلیف پیکج کو منظور کروا جائے ورنہ یہ پیکج غیر قانونی ہوگا کیونکہ اس کا بڑا حصہ روزانہ کے اخراجات میں استعمال کیا جا رہا ہے.

پیپلزپارٹی پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاتھا کہ اس وبا سے ایک ہو کر لڑنا ہوگا اور نفرتیں ختم کرنی چاہئیں لیکن حکومت پیپلزپارٹی پارٹی سے لڑائی لڑ رہی ہے، گزشتہ روز ڈاکٹروں نے پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ لاک ڈون میں نرمی کی وجہ سے گزشتہ ہفتے میں جتنے کرونا وائرس کے کیس سامنے آئے ہیں اتنے پہلے نہیں تھے لحاظہ سخت لاک ڈون کرنا پڑے گا،صدر پاکستان رمضان المبارک کیلئے مفاہمت کی پالیسی اختیار کر رہے ہیں اس سے بھی کرونا وائرس کے کیس بڑھ سکتے ہیں، حکومت اپنے ٹائیگرز کو لگام دیں وہ ملک میں انتشار پھیلا رہے ہیں ڈبلیو ایچ او کی وارننگ کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی بنائی جائے،بتایا جائے کہ 3 سو کینال کے بنگلے میں رہنے والے وزیراعظم اور وزیروں مشیروں کی فوج نے ریلیف فنڈ میں کتنا حصہ ڈالا ہے،کرونا وائرس کی وجہ سے بیرون ملک پاکستانیوں کی اپنی یہ حالت ہے کہ اب وہ امداد کے مستحق ہیں لیکن ہمارے وزیراعظم آن کی طرف بھی کشکول بڑھا رہے ہیں, صدر پاکستان نے ملک کے ساتھ ریپ کرنے کی بات کر کے پاکستان کو گالی دی ہے.

ان خیالات کا اظہار پیپلزپارٹی پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ, ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات پلوشہ خان اور سینیٹر روبینہ خالد نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ سندھ کے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے کہا تھا کہ مئی میں کرونا وائرس کے کیس بڑھیں گے اور وزیراعظم اور ہیلتھ کے مشیر ظفر مرزا بھی یہی کہہ رہے ہیں لیکن لاک ڈون میں نرمی کی وجہ سے کیسوں میں اضافہ ہوا ہے جب تک لاک ڈون سخت نہیں کیا جائے گا اس وبا پر قابو پانا مشکل ہو جائیگا.

پیپلزپارٹی پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پہلے دن ہی کہاتھا کہ یہ وقت ملکر کام کرنے کا ہے ایسے وقت میں نفرتیں ختم ہونی چاہیں لیکن حکومت اپوزیشن سے لڑ رہی ہے ڈاکٹروں نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے اور یہ لڑائی ڈاکٹروں سے بھی شروع کر دی ہے ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل سٹاف جو اپنی زندگیاں داو پر لگا کر کام کر رہے ہیں وہ سندھ حکومت کے کہنے پر پریس کانفرنس کیسے کر سکتے ہیں 3 سو سے زائد لوگ متاثر ہوئے ہیں جن میں 3 ڈاکٹر اور 2 نرسیں شہید ہوئی ہیں ان کیلئے کسی پیکج کا اعلان نہیں کیا گیا انہوں نے کہا کہ کہ حکومت ڈبلیو ایچ او کی وارننگ ,ڈاکٹروں کی تجاویز اور علمائ کرام کی مشاورت سے پالیسی لیکر آئے جس پر سختی سے عمل کیا جائے پارلیمنٹ کا فوری اجلاس بلایا جائے اور جو حکومت کی طرف سے مالیاتی ایوارڈ دیا جارہا ہے اس کو ایوان سے منظور کروا جائے ورنہ یہ پیکج غیر قانونی ہو اس کا بڑا حصہ روزانہ کے اخراجات میں استعمال کیا جا رہا ہے اس میں ہیلتھ, ایس ایم ای بنک اور زراعت کا اعلان نہیں کیا گی.

پلوشہ خان نے کہا کہ وزیر اعظم کشکول لیکر بیٹھ گئے ہیں وہ یہ بتائیں کہ وہ 3سو کنال کے گھر میں رہتے ہیں اور ان کے وزیروں مشیروں نے ریلیف فنڈ میں کتنا حصہ ڈالا ہے رزاق داؤد, خسرو بختیار, عامر کیانی, مراد سعید, جہانگیر ترین, شیخ رشید آن سب نے کیا دیا ہے انہوں نے کہا کہ کہ وزیراعظم, صدر, وزرا اور مشیروں کے ٹی اے ڈی اے بند کر دیئے جائیں کیونکہ اس مشکل وقت میں عیاشیاں نہیں ہونی چاہیں اور بتایا جائے کہ کرونا وائرس کے حوالے سے جو کمیٹی کام کررہی ہے وہ روزانہ کتنا ٹی اے ڈی اے لے رہی ہے.

گورنر سندھ جن کو انگریزی اور اردو میں گورنر سندھ لکھنا نہیں آتا وہ ایک خاتون سے پوچھ رہا ہے کہ گن کر بتائیں کہ 12 ہزار کتنے ہوتے ہیں اگر کرونا وائرس کی آنکھیں ہوں تو وہ دیکھے کہ ہمارا وزیراعظم کتنا خوبصورت ہے اگر اس کا دماغ ہو تو وہ سوچھے کہ 1992 کا ورلڈ کپ وزیراعظم لیکر آئے تھے سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ اگر سندھ کے تاجروں کو اشتعال دیا گیا تو یہ اشتعال پورے ملک میں پھیلے گا خیبر پختون خواہ میں حالات بہت خراب ہیں افغانستان کا بارڈر کھولنے کی باتیں کی جارہی ہیں انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو کورنطینہ لیجایا جاتا ہے ان کو الگ الگ رکھنے کی بجائے ساتھ رکھا جاتا ہے جس سے سب لوگ متاثر ہوئے جاتے ہیں ایسی صورت حال میں پارلیمنٹ کا فوری طور پر اجلاس بلایا جانا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں