حکومتی ریلیف پیکج بہت بڑا فراڈ ہے، وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کی مدد نہیں کر رہی ہے: قمر زمان کائرہ

لاہور: پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ کورونا کی وبا، طوفانوں اور زلزلوں سے بھی زیادہ خطرناک ہے، یہ وہ خطرہ ہے جو بظاہر نظر نہیں آرہا، کورونا وائرس سے لڑنے کیلئے انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔


قمر زمان کائرہ نے ان خیالات کا اظہار ساہیوال ڈویژن کے وڈیو لنک اجلاس کی صدارت اور خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سیاسی جماعتوں کا کام رائے اور تجاویز دینا ہوتا ہے، ان پر عملدارامد کرنا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ پیپلز پارٹی نے لاک ڈاؤن، بے انکم سپورٹ پروگرام اور قومی یکجہتی کے حوالے سے جو تجاویز دیں، حکومت نے اُس کی مخالفت کی ۔
حکومت اگر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی امدادی رقم پرانے نظام کے تحت تقسیم کرتی تو مجمعوں کا تماشہ نہ لگتا۔

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ حکومت وضاحت کرے کہ 12 سو ارب روپیہ کہاں کہاں خرچ ہوا ہے۔اس کی تمام تفصیلات عوام کو بتائی جائیں۔کرونا کے حوالے سے آنے والے دن زیادہ خطرناک ہیں۔کرونا سے لڑنے کیلئے ملک میں اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔بدقسمتی سے وزیراعظم نفاق اوراختلافات کا سبب بن رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا کام تو اتفاق رائے پیدا کرنا ہے۔وزیراعظم دنیا کے تجربے سے بھی فائدہ نہیں اٹھانا چاہتے۔سندھ حکومت کے اقدامات اور فیصلوں کی دنیا تعریف کر رہی ہے۔ وزیراعظم سندھ حکومت کی بھی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی عہدیدار اپنے تئیں احتیاطی تدابیر کے ساتھ ریلیف کا کام جاری رکھیں۔

قمر زمان کائرہ نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے سستے عوامی تندور قائم کئے ہیں، اور عوام کو سبسڈائزاڈ فوڈ فراہم کررہی ہے، حکومتی ریلیف پیکج بہت بڑا فراڈ ہے، حکومت نہ ڈاکٹرز کو سپورٹ کررہی ہے، اور نہ ہی عوام کو امداد دے رہی ہے۔ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کی مدد نہیں کر رہی ہے،کرونا بحران میں سندھ حکومت نے چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں لیڈ کیا ہے،پیپلز پارٹی ہی وہ واحد جماعت ہے جس کے پاس بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت، تجربہ، قیادت اورٹیم ہے۔


پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے جنرل سیکرٹری چوہدری منظور احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام کو ریلیف اور امداد دینے سے بھاگ رہی ہے، دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں جو تاریخی کمی آئی ہے، اس حساب سے عوام کو ریلیف فراہم نہیں کررہی ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت نے پہلے تفتان مین غلطی کی، پھر تبلیغی اجتماع کے بارے فیصلے میں تاخیر کی۔ وزیراعظم غلط کہتے ہیں کہ موجودہ امدادی پیکج ملک کا سب سے بڑا پروگرام ہے۔ عمران خان کا جغرافیہ تو پہلے سے خراب تھا، وہ تاریخ سے بھی ناواقف ہیں۔ سب سے بڑا پروگرام پیپلزپارٹی نے 2010ء میں سیلاب زدگان کیلئے دیا تھا۔

انہوں نے کہا ایک کروڑ 40 لاکھ لوگوں کو 25 ہزار روپے فی کس امداد دی گئی تھی۔ وزیراعظم لاک ڈاؤن کے بارے میں خود کنفیوژن پھیلا رہے ہیں۔

اجلاس میں قرارداد کے زریعے چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں سندھ حکومت کو کرونا کیخلاف شاندار اقدامات پر زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا، اجلاس میں حکومت کے منفی رویے پر شدید تنقید کی گئی۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت 1240 ارب روپے کے کورونا پیکج کی تفصیل پارلیمینٹ میں پیش کرے اور عوام کو اس کا حساب دے۔

اجلاس میں پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات سید حسن مرتضیٰ، نائب صدر چوہدری اسلم گل، عثمان سلیم ملک، عاصم بھٹی، غلام فرید کاٹھیا، شمساد انور، سید محمد علی بخاری، حافظ رضوان، رانا محمد ظہیر خان، ندیم خالد، عاطف بلوچ، میاں ہمایوں، سرور بودلہ، سجاد الحسن، بابر گجر، گلریز نسیم، ڈاکٹر خیام حفیظ، رانا محمد ظہیر خانم حافظ رضوان، شوکت باجوہ، ذکی چوہدری، رائے رشید اقبال سجاد، سید فخر اسلام، علامہ یوسف اعوان، فاروق سنگوکا، مہر جاوید نارنگ، یوسف کلاسن اور دیگر نے شرکت کی، اپنے خیالات کا اظہار کیا، اپنے علاقے میں امدادی اقدامات سے آگاہ کیا، اور تجاویز پیش کئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں