وفاقی حکومت اور وزیر اعظم عمران خان صوبوں سے لاتعلقی کا اظہار کر رہے ہیں: بلاول بھٹو زرداری


پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تحریک انصاف کی وفاقی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ صوبے کے ساتھ مل کر کام کرنے کے بجائے سندھ کے ‘بہتر کام کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔’

بی بی سی کو دیے گیے خصوصی انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت 18ویں آئینی ترمیم کی غلط تشریح کر کے ملک کے لیے ایک جامع حکمت عملی بنانے کی اپنی ذمہ داری سے دستبردار نہیں ہو سکتی۔

بلاول نے کہا: ‘ملکی قیادت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ قومی بحران کے موقعے پر مشکل فیصلے لیں۔۔۔ لیکن یہ پہلی بار ہو گا کہ وفاق اور وزیر اعظم صوبوں سے لاتعلقی کا اعلان کر رہے ہیں۔’

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا 18ویں ترمیم کے بعد صحت صوبوں کا مسئلہ نہیں، تو انھوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم وفاقی صوبوں کو اختیار دیتی ہے لیکن وفاقی حکومت کو راہ فرار نہیں دیتی۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی سطح پر پالیسی بنانے کی ذمہ داری وفاق کی ہی ہے اور اس وقت وہاں ‘قیادت کا فقدان ہے۔‘

سندھ حکومت کے چند بڑے ہسپتالوں کو وفاق کے زیر انتظام لانے کی حالیہ کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا: ‘جب وفاق سندھ کے ہسپتال چھیننا چاہتا ہے تو اُس وقت اٹھارویں ترمیم نظر نہیں آتی۔ لیکن جب پوری دنیا میں ایک وبا پھوٹی ہے اور ملک میں جنگ کی سی صورتحال ہے تو اِس وقت وہ اٹھارویں ترمیم کی بات کرتے ہیں۔ یہ بے حد زیادتی ہے۔’

وفاق کی ذمہ داریوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ اگر 18ویں ترمیم کے بعد وفاق کا کوئی کردار نہیں رہا ’تو پھر ملک میں نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ کا ادارہ کیوں موجود ہے؟ وفاقی ہیلتھ سیکریٹری کیوں ہیں؟‘

ان کا کہنا تھا کہ جب سیلاب آتا ہے تو کوئی ایک صوبہ ہی متاثر نہیں ہوتا اور جب جنگ ہوتی ہے تو پورا ملک اس میں لڑتا ہے۔ ‘افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں قیادت کے بحران کی وجہ سے کورونا کی وبا سے نمٹنے کے لئے یکساں حکومتی پالیسی تو دور کی بات، قومی یکجہتی بھی نظر نہیں آ رہی ہے۔’

وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں بیان دیا تھا کہ آزاد معاشرے لاک ڈاؤن نافذ کر کے لوگوں کو زبردستی گھروں میں بند نہیں کر سکتے۔ تاہم اس پر ردعمل دیتے ہوئے بلاول نے پوچھا کہ ‘یہ کیسا نیا پاکستان ہے جہاں آزاد معاشرہ کہہ کر عوامی بھلائی کے فیصلے نافذ نہیں کیے جا رہے؟’

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے بیانات ابہام پیدا کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کرتے۔

‘یہ وقت ایک ملک بن کے سوچنے کا ہے۔ وزیر اعظم کے یہ بیانات نہایت غیر ذمہ دارانہ ہیں۔ ہر صوبہ اپنی صلاحیت کے مطابق حالات کا مقابلہ کرنے کی پوری کوشش میں لگا ہوا ہے لیکن اس کے باوجود اگر صرف تنقید سننے کو ملے اور یہ پیغام ملے کے آپ اکیلے ہیں تو اس کے نتائج وفاق کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔’

بلاول نے کہا کہ آزاد ممالک میں جہاں عوام کی جان و صحت کی بات آتی ہے تو اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا۔

‘خان صاحب کی پالیسی میں ابہام اس بات کا تاثر دیتا ہے کہ ریاست پاکستان آزاد نہیں ہے۔ دنیا بھر میں مقبول فیصلوں کو ترک کر کے حکومتیں ان باتوں پر عمل درآمد کروا رہی ہیں جن سے ان کے عوام اور صحت کا تحفظ ممکن ہو۔’

وفاق اور صوبہ سندھ کے درمیان تناؤ کے تاثر پر بات کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ‘اپنی نالائقی اور نااہلی چھپانے کے لیے’ سب سے کامیاب صوبے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

کورونا ریلیف فنڈ کے لیے عطیات اکٹھے کرنے کے لیے منعقد کی گئی ٹیلی تھون کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان حالات میں پیسہ اکٹھا کرنا یقیناً ضروری ہے، لیکن عمران خان کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ چندہ اکٹھا کرنا ہی ہر مسئلے کا حل نہیں ہے۔

ان کے مطابق جس طرح ملک کی معیشت کو چلانا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے اسی طرح اقتصادی بحالی کے لیے راہ ہموار کرنا بھی وفاق کا ہی کام ہے۔ ‘خوش قسمتی سے پاکستان کو آئی ایم ایف کی طرف سے معاشی مدد ملی ہے اور ساتھ ہی تیل کی قیمتوں میں کمی نے بھی کچھ سہارا دیا ہے۔’

ان کے مطابق فی الوقت ضرورت اس بات کی ہے کہ دیگر ترقیاتی منصوبوں سے پیسے کاٹ کر صحت پر خرچ کیے جائیں۔

تاہم ان کے نزدیک ملک میں اس وقت صرف سیاست کھیلی جا رہی ہے: جہاں کام ہو رہا ہے اس پر تنقید ہوتی ہے اور جہاں کام نہیں ہو رہا اس پر کوئی سوال تک نہیں پوچھا جاتا۔

‘کورونا کی وبا سے ایک چیز ضرور واضح ہو گئی ہے کہ پیپلز پارٹی جتنا بھی اچھا کام کر لے، اقوام متحدہ اور عالمی ادارہ صحت جتنی بھی تعریف کر لیں، لیکن وفاق صرف تنقید ہی کرے گی۔’

اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے پارلیمان کے کردار پر بات کرتے ہوئے بلاول کا کہنا تھا کہ حکومت، قومی اسمبلی کے سپیکر سینیٹ کے چیئرمین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ بیٹھ کر یہ فیصلہ کریں کہ آیا قومی اسمبلی کے اِن پرسن اجلاس ہوں گے یا ورچوئل، اور اگر کسی قسم کی قانون سازی کی ضرورت ہے تو وہ بھی سوچنا چاہیے۔

بشکریہ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

اپنا تبصرہ بھیجیں