شریف برادران کا اقتدار میں پھر آنے کا خواب ادھورا رہے گا, 11مئی کو شریف قصہ پارینہ بن جائیں گے: میاں منظوراحمد وٹو

DSC_3569

پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر میاں منظوراحمد وٹو نے کہا کہ شہباز شریف کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی سنجیدگی کا اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ کبھی کہتے ہیں کہ چھ مہینے میں اس پر قابو پا لیں گے ۔ پھر ایک سال کے بعد ، دو سال کے بعد اور اب وہ تین سال کے بعد اس کو ختم کرنے کے دعوے کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شہباز شریف کی یاداشت کمزور ہے اور ایسی ذہنی کیفیت کے سیاستدان کو امورمملکت میں شامل کرنا تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ان کے کھوکھلے دعوے بھی 11مئی کے بعد انکے ساتھ ہی ہوا میں تحلیل ہو جائیں گئے ۔
میاں منظور وٹو نے کہا کہ وہ پاکستان کے عوام کو کسی خاطر میں نہیں لاتے اور سمجھتے ہیں کہ وہ ان کو دھوکا دے سکتے ہیں جو ان کی فاش غلطی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور جنرل مشرف دونوں ہی پاکستان میں لوڈشیڈنگ کے ذمہ دار ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے 26سالہ دورحکومت میں ایک میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کو عملی جامہ نہیں پہنایا ۔
اسکے برعکس ، انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے شہید بینظیر بھٹو کے غیر ملکی سرمایہ کاروں سے000 24 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے معاہدے منسوخ کر دیئے ۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرمایہ کاروں کے خلاف گرفتاری کے احکامات دیکر نواز شریف نے ان کو ملک سے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ اب شریف برادران لوڈشیڈنگ پر مگر مچھ کے آنسو بہارہے ہیں لیکن عوام ان کے کردار سے بخوبی واقف ہیں جس کا مظاہرہ وہ 11مئی کو ان کے خلاف ووٹ دے کر کریں گے ۔
انہوں نے یاد دلایا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے فرانس کے ساتھ 22سومیگا واٹ نیوکلیر ری پروسیسنگ پلانٹ کا معاہدہ کیا تھاتاکہ لوگوں کو سستی بجلی کا حصول ممکن ہو ۔ انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف کے سرپرست ضیاء الحق نے اسکو منسوخ کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ اپنے سرپرست کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نواز شریف نے شہید بینظیر بھٹو کے 24000میگاواٹ کے معاہدے منسوخ کر دئے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ان معاہدوں کو منسوخ نہ کیا جاتا تو پاکستان میں آئندہ کئی دھائیوں تک بھی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ پیدا نہ ہوتا ۔
میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پچھلی پیپلزپارٹی کی جمہوری حکومت نے ایران پاکستان گیس پائپ لائن کا افتتاح کر کے بجلی کے بحران پر قابو پانے میں بڑی اہم پیش رفت کی ہے کیونکہ اس سے اگلے سال کے آخر تک پانچ ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہو سکے گی ۔
انہوں نے کہا کہ شریف برادران کا اقتدار میں پھر آنے کا خواب ادھورا رہے گا کیوں کہ پاکستان کے عوام ، میڈیا اور سول سوسائٹی ان کے ماضی کو اچھی طرح جانتی ہے اور 11مئی کو ان کے خلاف ووٹ دیکر ان کو ملک کی سیاست میں قصہ پارینہ بنادے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں