خود کو مغل شہزادے سمجھنے والے شریف برادران کوعوام کی تکالیف کا احساس کیسے ہو سکتا ہے: میاں منظور احمد وٹو

DSC_3590

پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر اور حلقہ این اے 147 146-سے پیپلز پارٹی کے امیدوار میاں منظور احمد وٹو نے کہا ہے کہ میں کوئی فرشتہ نہیں انسان ہوں ، میرا مقابلہ فرشتوں سے نہیں میرے مقابل امیدواروں سے کریں اگر میرا پلڑا ان کے مقابلے میں آپکو بھاری لگے تو مجھے ووٹ دیں -انہوں نے کہا کہ میں نے صدر آصف علی زرداری سے کہا تھا کہ ہم حالت جنگ میں جا رہے ہیں اورفتح کیلئے ترکش کے سارے تیر چلائیں گے ، کوئی ایک تیر بھی بچنے نہیں دینگے اگر کوئی ایک تیر بچا تو خود کو مار لیں گے – اپنے انتخابی حلقوں میں میاں معظم جہانزیب وٹو ، خرم جہانگیر وٹو اور محترمہ جہاں آرا وٹو کے ہمراہ کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں آپکی خدمت کر سکا ہوں یا نہیں آپ بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں – انہوں نے کہا کہ میں حلقہ کے عوام کی محبت اور چاہت کو کبھی نہیں بھلا سکتا میں جیل تھا تو میری بیٹی روبینہ شاہین وٹو کو آپ نے 21 ہزار ووٹوں کی لیڈ سے جتوا کر میرے ساتھ خلوص اور محبت کا اظہار کیا – انہوں نے کہا کہ جس روز محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت ہوئی تھی اسی روز میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ مجھے شہیدوں کی پارٹی کے ساتھ چلنا ہے اور میں آزاد حیثیت سے الیکشن جیت چکا تھا مگر میں نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور اب میرا جینا مرنا اسی پارٹی کے ساتھ ہے ، کیونکہ یہی وہ پارٹی ہے جس کے قائدین نے اپنے عوام کے لئے موت کو بھی گلے لگایا – میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ خود کو مغل شہزادے سمجھنے والے شریف برادران کوعوام کی تکالیف کا احساس کیسے ہو سکتا ہے ، 70 ارب روپے کے خطیر وسائل صرف ایک اربن روٹ پر ضائع کر دینے والے اگر یہی قومی سرمایہ توانائی کے کسی منصوبے پر خرچ کرتے تو لوڈ شیڈنگ کے اندھیرے کم ہو سکتے تھے-انہوں نے کہا کہ ن لیگ محروم و پسماندہ اور نظر انداز علاقوں سے ووٹ تو لینا چاہتی ہے مگر ان سے کئے گئے وعدے پورے کرنے کو تیار نہیں اور کاٹن زون کی کمائی صرف لاہور ایک ایک اربن روٹ پر سہولیات کی فراہمی کیلئے محض اس لئے خرچ کئے گئے کہ اسی اربن روٹ پر ان کے اپنے سابقہ اور موجودہ عظیم الشان محلات واقع ہیں- میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ عام انتخابات کے بعد یہ لوگ عوام سے منہ چھپاتے پھریں گے ، انہو ں نے کہا کہ انتخابات کے بعد وفاق اور تمام صوبوں میں پیپلز پارٹی کا عوامی راج قائم ہو گا- انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی منتخب جمہوری حکومت نے سیاست کو روائتی آلودگی سے پاک کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے مثالی کام کئے ، پہلی بار انسانی حقوق کی مکمل وزارت تشکیل دی گئی ، ریکارڈ قانون سازی کی گئی اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے بنیادی حقوق کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے گئے ، آئینی ایکٹ-A 19 کے ذریعے معلومات تک رسائی کے حق کو قانونی حیثیت دی گئی ، انہوں نے کہا کہ قومی تاریخ میں یہ پہلی حکومت ہے جس کے پانچ سالہ دور میں ایک بھی سیاسی قیدی نہیں ، عدلیہ اور میڈیا آزادی سے موثر کردار ادا کر رہے ہیں ، تمام اداروں کو آئینی حدود میں رہتے ہوئے آزادانہ اور موثر کارکردگی کا موقع فراہم کیا گیا ، اقلیتوں کے تحفظ اور فلاح و بہبود کیلئے متعدد ٹھوس اقدامات کئے گئے ،، انہوں نے کہا کہ پہلی حکومت ہے جس نے خواتین کے حقوق اور انکے تحفظ کے لئے بہترین قانون سازی کی ، ، 70 لاکھ خواتین کے خاندان کو بے نظیر انکم سپورٹ کے ذریعے زندہ رہنے کا حوصلہ دیا -انہوں نے کہاکہ عجیب بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے دور میں پیپلز پارٹی کا وفاقی وزیر زیر حراست رہا ، انہوں نے کہا کہ حکومت کے پانچ سالہ دور حکومت میں مخالفوں کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی گئی ،، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حقائق پر مبنی مقدمات کو بھی نہیں کھولا گیا ، انہوں نے کہاکہ پی پی پی کا دور حکومت سیاسی رواداری کی بہترین مثال رہاہے – انہوں نے کہا کہ عوام باشعور ہیں اور وہ میرٹ پر ہی اپنے ووٹ کی پرچی کا درست استعمال کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کو پہلے سے زیادہ تائید سے سرفراز کریں گے ، تاکہ جمہوریت مضبوط ہو اور ملک و قوم ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو سکیں ،دیپالپور، بصیر پور ، رینالہ خورد، حجرہ شاہ مقیم ، سوبھا رام، سکھ پور وٹوواں والا ، بستی چشتی شام دین ، راجووال ،جھگیاں رحموں والا ،خان بہادر گاؤں اور بصیر پور سمیت متعدد علاقوں میں کارنر میٹنگز اور انتخابی جلسوں سے میاں معظم جہانزیب وٹو ، محترمہ جہاں آرا ء وٹو ، سابق وفاقی وزیر سید صمصام علی بخاری ،سید عباس رضا رضوی ، راؤ قیصر علی، راؤ اعجاز خان ، ندیم پٹھان ، حاجی ناصر خان ، حاجی ندیم ،ملک تحسین کھوکھر ، غلام احمد بودلہ ، چوہدری اختر خان ، عباس خان ، شہباز خان وٹو ، پیر محمد علی چشتی ، چوہدری بشیر احمد ، عبدالرشید چوہدری ، اشرف حسن چوہدری ، امجد حسن چوھدری ، جہانگیر نمبردار ، سردار عبدالوحید کمبوہ، سابق نائب ناظم راجووال ، پیر وقار شاہ کرمانی ، ملک خضر حیات ماڈھا سابق ناظم یوسی راجووال ، ، محمد امیر نے اپنے خطاب میں مخالفین کی جبر کی سیاست کے خاتمہ اور میاں منظور احمد وٹو اور انکے ساتھ تمام صوبائی امیدواروں کو فتح دلانے کے عزم کا اظہار کیا

خود کو مغل شہزادے سمجھنے والے شریف برادران کوعوام کی تکالیف کا احساس کیسے ہو سکتا ہے: میاں منظور احمد وٹو” ایک تبصرہ

  1. Allah Taa Allah ki madad
    Aur Awaam ki Duayeen aapke
    Saath hain
    aik TEER kaffi hy Sher k liye
    Bat kia maare ga…….
    best of luck…..

اپنا تبصرہ بھیجیں