شریف برادران نے کروڑوں ڈالرز کی منی لانڈرنگ کی: رحمٰن ملک @SenRehmanMalik

942496_255822617888834_1350663950_n

شریف برادران کے خلاف اسی طرح ٹرائل ہو جس طرح بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف ہوا، رحمان ملک
شریف برادران کے خلاف اسی طرح ٹرائل ہو جس طرح بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف ہوا، رحمان ملک

لاہور: پیپلز پارٹی کے رہنما رحمان ملک نے کہا ہے کہ شریف برادران نے کروڑوں ڈالروں کی منی لانڈرنگ کی اورانہیں جھوٹوں کا آئی جی کہنے والوں میں ہمت ہے تو عدالت جائیں اور اگروہ سچ ثابت نہ کرسکے تو سیاست چھوڑ دیں گے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران رحمان ملک نے کہا کہ پیپلز پارٹی جب کوئی حقیقت عوام کو بتانا چاہتی ہے،تو اس کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے، اس کے خلاف حکم امتناعی لے لیا جاتا ہے اور پیپلز پارٹی کے خلاف فوراً کارروائیاں ہوتی ہیں۔ گزشتہ روز انہوں نے ٹیپس کی بات کی تو الیکشن کمیشن کے پاس سے حکم امتناعی لے آئے، وہ شریف برادران کے خلاف منی لانڈرنگ کے جو ثبوت پیش کررہے ہیں، اگروہ سچ ثابت نہ کرسکے تو سیاست چھوڑ دیں گے۔ شریف برادران کہتے ہیں کہ وہ لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ اپنی لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے۔
سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ شریف خاندان نے 15 سال قبل کروڑوں ڈالر کی منی لانڈرنگ کی جس کے لئے انہوں نے اسحاق ڈاراوران کے خاندان کے دیگر افراد کو استعمال کیا۔ شریف خاندان نے ان کے ناموں پر پاکستان میں بینک اکاؤنٹ کھولے اور جہاں ان کی مرضی کے بغیر پاکستانی کرنسی کو امریکی ڈالر میں تبدیل کیا اور انہیں بیرون ملک بھجوائے۔ اس بارے میں اسحاق ڈار کے اپنے ہاتھ سے لکھے بیان حلفی، موسیٰ غنی کے حلف نامے میں تفصیل سے ذکر ہے اور یہ تمام بیانات بین الاقوامی طور پر تصدیق شدہ ہیں۔
رحمان ملک نے کہا کہ شریف خاندان نے ناصرف کروڑوں ڈالرز کی منی لانڈرنگ کی بلکہ ان تمام افراد کے ساتھ دھوکا بھی کیا، ان کے جعلی دستخط کے ذریعے رقم کی لین دین کی گئی اسی وجہ سے سعودی شہری موسیٰ غنی کو ایک سال جیل میں گزارنے پڑے۔ انہوں نے کہا کہ لندن میں ان کی املاک برطانوی عدالت نے سیل کی تھی جسے انہوں نے رقم کی ادائیگی کے بعد دوبارہ حاصل کی تھی۔
رحمان ملک نے مزید کہا کہ بے نظیر بھٹو کو سزا دلوانے کےلئے ملک قیوم اور شہباز شریف کے درمیان ہونے والی گفتگو کے آڈیو ٹیپس منظر عام پر آنے کے باوجود سیف الرحمان اور شریف برادران سمیت 5 افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بہت اچھے کام کئے ہیں لیکن شاید یہ وہ کیس نہیں جس میں ان کی نیک نامی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ شریف برادران اپنی پیٹیشن مافیا کے ذریعے وڈیو اور آڈیو ٹیپس پر حکم امتناعی کے ماہر ہیں لیکن وہ دستاویزات اور ان کی زبان بندی پر حکم امتناعی نہیں لاسکتے، شہباز شریف انہیں جھوٹوں کا آئی جی کہتے ہیں تو اب انہیں جھوٹا ثابت کرکے دکھائیں۔ وہ کسی بھی عدالت میں انہیں گھسیٹے وہ کسی بھی وکیل کے بغیر وضاحت کریں گے۔ وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ شریف برادران کے خلاف اسی طرح ٹرائل ہو جس طرح بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وہ لکھ کر دینے کے لئے تیار ہیں کہ اگلی حکومت پیپلز پارٹی ہی اپنے اتحادیوں کے ساتھ بنائے گی۔

Video Link:
http://tune.pk/video/77117/Rehman-Malik-Presents-Proof-of-Sharif-Brothers-Money-Laundering-to-Saudi-Arabia

سابق وفاقی وزیر داخلہ سنیٹر رحمن ملک نے کہا ہے کہ جسٹس (ر) ملک قیوم کی سیف الرحمن سے گفتگو بالکل اصل ہے۔ اگر مسلم لیگ (ن) سمجھتی ہے کہ یہ گفتگو اصلی نہیں تو عدالت میں جا کر حکم امتناعی لینے کی بجائے میرے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دے اور ہتک عزت کا دعویٰ کرے۔ وہ اسلام آباد سے لاہور پہنچنے پر اخبار نویسوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ اس موقع پر سید عمر شریف بخاری بھی موجود تھے۔ رحمن ملک نے کہا کہ سیف الرحمن کی گفتگو کی ٹیپ حساس ادارے کے اہلکار نے لندن کے اخبار کو فراہم کی تھی۔ ٹیپ میں آوازوں کی تصدیق پر وہاں 8500 پاﺅنڈ خرچ ہوئے۔ یہ ثابت ہوا تھا کہ آوازیں ملک قیوم اور سیف الرحمن کی ہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شریف برادران نے ہمیشہ مفادات کی سیاست کی ہے۔ عوام اب ان کے اصل چہروں سے واقف ہو چکے ہیں۔ جن سیاسی جماعتوں کے سیاسی جلسوں میں دھماکے نہیں ہو رہے وہ طالبان کی حامی ہیں۔ پی پی پی، اے این پی اور ایم کیو ایم کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ عوام جانتے ہیں کہ طالبان کے حامی وزیراعظم آنے سے کس کو فائدہ ہو گا اس لئے وہ اسے ووٹ نہیں دینگے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے 5 سال لشکر جھنگوی کے خلاف کارروائی کی ہوتی تو آج کرچی میں دھماکے نہ ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ آج پریس کانفرنس میں اپنی باتوں کے ثبوت بھی دینگے۔ این این آئی کے مطابق رحمان ملک نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کےخلاف اگلا ٹیپ بڑا زبردست ہے۔ انہیں آج اپنا پہلا تحفہ پیش کروں گا، اگر یہ پھر بھی نہ مانے تو قوم فیصلہ کرے‘ اگر یہ سچے ہیں تو حکم امتناعی نہ لیں، ہمیں عدالتوں میں گھسیٹیں، میں سارا مواد پیش کروں گا‘ شریف برادران اندر معاہدے کرتے اور باہر آ کر پیپلز پارٹی کی قیادت کو گالیاں دیتے ہیں‘ آج ملک میں قتل و غارت کی ساری ذمہ داری شہباز شریف پر عائد ہوتی ہے، اگر یہ میری لشکر جھنگوی کے خلاف کارروائی کی بات مان لیتے تو ملک کے یہ حالات نہ ہوتے‘ اگر کوئی یہ سمجھتا ہوں کہ پیپلز پارٹی کا کہیں نام و نشان نہیں تووہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔ شریف برادران سچ سننے کے عادی نہیں، انہیں ذرا سا آئینہ دکھایا ہے تو برا مان گئے ہیں۔ شریف برادران عوام کے سامنے آ کر کہہ دیں یہ ٹیپ جعلی ہیں میں انہیں سچ ثابت کر کے دکھاﺅں گا۔ آئندہ چند دن میں میاں برادران کیخلاف انکشافاف کرنے جا رہا ہوں، جن حقائق کو بے نقاب کروں گا وہ قوم کیلئے بہت اہم ہونگے۔ جس آئین کے تحت دو ججوں کو فارغ کیا گیا، اس آئین کے تحت نواز شریف اور شہباز شریف کو نااہل قرار کیوں نہیں دیا گیا؟ کیا میاں برادران کے لئے آئین دوسرا ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے انتخابات کے جس طرح کے نتائج اپنے ذہن میں بٹھائے ہوئے ہے بالکل اسکے برعکس ہو گا۔ عوام گیارہ مئی کو پیپلز پارٹی کو ووٹ دینگے۔ انہیں مسترد کر دیا جائے گا۔ دہشت گردوں کیلئے نرم گوشہ رکھنے والے جلسے کر رہے ہیں جبکہ تین جماعتوں کو دیوار کے ساتھ لگا دیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی ملک میں طالبان کی سیاست نہیں چلنے دیگی۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ پنجاب حکومت کے دور میں اربوں روپے کرپشن کی نذر ہو گئے۔ لیپ ٹاپ، سستی روٹی سکیم اور میٹرو بس منصوبے میں اربوں روپے کھائے گئے۔ شریف برادران اب قوم کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونک سکیں گے۔ پیپلز پارٹی کے جیالے انتخابات کے روز انہیں چھٹی کا دودھ یاد کرا دینگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں