میاں منظور احمد وٹو کا پیپلز پارٹی پنجاب ایگزیکٹو کمیٹی اجلاس سے خطاب اور میڈیا بریفنگ

IMG_6769

لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر میاں منظور احمد وٹو نے کہا ہے کہ ہم نے الیکشن کے نتائج کو ملک و قوم اور جمہوریت کے مفاد میں ” تحفظات کے ساتھ ” قبول کیا ہے اور ہمارا الیکشن کمیشن سے مطالبہ ہے کہ وہ پنجاب کے جن حلقوں میں دھاندلی کی شکایات اور ٹھوس شواہد ملے ہیں وہاں 25 فیصد پولنگ اسٹیشنوں پر ڈالے گئے ووٹوں کو نادرا کے ذریعے چیک کرائے -پیپلز سیکرٹریٹ پنجاب میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ ہم ملک میں جمہوری اداروں کو رواں دواں دیکھنا چاہتے ہیں ، جمہوریت کے خلاف کوئی غیر جمہوری سازش کی گئی تو پیپلز پارٹی ڈٹ کر مقابلہ کرے گی خواہ اس کا فائدہ ن لیگ کو پہنچے یا تحریک انصاف کو مگر جمہوریت کی بقاء و سلامتی اور استحکام کو اولین ترجیح دی جائیگی – انہوں نے کہاکہ انہیں چھ ماہ قبل وسطی پنجاب میں ذمہ داری تفویض کی گئی تھی جسے انہوں نے بطریق احسن نبھایا تاہم انتخابی شکست پر اخلاقی طور پر ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنا استعفی پیش کر دیا ، اس حوالہ سے پارٹی قیادت جو بھی فیصلہ کرے گی انہیں قبول ہو گا وہ عام کارکن کی حیثیت سے بھی کام کرنے کو تیار ہیں مگر پارٹی کسی صورت بھی نہیں چھوڑیں گے – انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری پیر کو لاہور آ رہے ہیں وہ پیپلز پارٹی کے پنجاب سے نامزد کئے گئے عہدیداروں سے ملیں گے اور پارٹی کی تنظیم نو کے حوالہ سے عہدیداروں اور کارکنوں سے ملاقاتیں کریں گے – انہوں نے کہا کہ پارٹی کی تنظیم نو کا حتمی فیصلہ پارٹی کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کرے گی – انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی انتخابی شکست کے بعد پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئی ہے اور ہم بلاول بھٹو زرداری کی جواں پر عزم قیادت میں نئے عزم کے ساتھ عوامی خدمت کا تسلسل جاری رکھیں گے – ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ن لیگ اور عمران خان کو انتخابی مہم چلانے ، جلسے ، ریلیاں کرنے میں مکمل سہولت فراہم کی گئی جبکہ پیپلز پارٹی اور اے این پی کو خصوصی طور پر ٹارگٹ کیا گیا ، پیپلز پارٹی اور اے این پی کی قیادت نے جمہوریت کے لئے بہت بڑی قربانیاں دیں – انہوں نے کہا کہ پنجاب میں انتخابی مہم کے دوران بم دھماکے نہ ہونے کی وجہ سب لوگ اچھی طرح جانتے ہیں – میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی مضبوط ، فعال اور مثبت اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی – انہوں نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ الیکشن ہو گئے اور تاریخ میں پہلی بار ایک منتخب جمہوری حکومت اپنی آئینی مدت پوری کر کے اقتدار دوسری منتخب جمہوری حکومت کو منتقل کر رہی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ ہر صوبہ میں الگ الگ پارٹی کی اکثریت وفاق کے لئے خطرناک ہے – قومی جماعتوں کو تمام صوبوں سے نشستیں ملنی چاہئیں تھیں – ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ق لیگ ہماری اتحادیجماعت ہے اس کے ساتھ مل کر چلیں گے – قبل ازیں ایگزیکٹو کمیٹی اجلاس سے خطاب کے دوران میاں منظور احمد وٹو نے کہا ہے کہ کرپشن کا نام لے کرہمیں اس پر لعنت بھیجنا ہو گی اور جو کوئی بھی اس میں ملوث رہا ہے انہیں پارٹی میں نہیں رہنے دینا چاہئے ، ہمیں بدنام زمانہ لوگوں سے جان چھڑانا ہو گی – میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ آئندہ نوکریاں دی جائیں تو میرٹ پر ، کوئی سفارش ، رشوت اس کے راستے میں حائل نہ ہو – انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ناکامی کی وجوہات کو جانا جائے اور مستقبل میں ان وجوہات کا تدارک کیا جائے ، پاکستان پیپلز پارٹی بلا شبہ وفاق کی واحد پارٹی ہے – انہوں نے کہا کہ انتخابی ہار جیت جمہوریت کا حصہ ہے اور سیاسی جماعتوں کے جمہوری سفر میں اتار چڑھاؤ آتے ہی رہتے ہیں، ایسے میں ہمیں ایک دوسرے پر الزام تراشی سے بھی گریز کرنا چاہئے کہ کیونکہ شکست کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال دینے سے شکست اسٹیبلش ہو جاتی ہے – پختہ ہو جاتی ہے – ہمیں ہر گز اس ہار سے دلبرداشتہ نہیں ہونا چاہئے بلکہ یہ سوچنا چاہئے کہ پارٹی کو ازسر نو کیسے فعال کیا جائے انہوں نے کہاکہ میرے خیال میں اس دفعہ ووٹر نے انفرادی طور پر کارکردگی ، ڈویلپمنٹ نہیں دیکھی بلکہ اپنی سوچ کے مطابق پارٹیوں کو ووٹ دئیے ہیں – ہمارے پارٹی کو ووٹر نے نظر انداز کیا اور ن لیگ کو اپنے ووٹ کی سپورٹ دی ہے – اب ہمیں پارٹی امیج کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے – بہتر اور روشن چہروں کو سامنے لانے کی ضرورت ہے ، کرپٹ عناصر کی حوصلہ شکنی کرنے کی ضرورت ہے – ہماری کارکردگی بہتر ہو گی تو راجہ ریاض ، تنویر اشرف کائرہ ، اور منظور وٹو بھی جیت سکتے ہیں – اگر امیج بہتر نہ ہوا تو فتح نہیں مل سکے گی -انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اب بھی سب سے بڑی عوامی جماعت ہے جسے صرف پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں اکثریت حاصل ہے – قومی اسمبلی میں بھی اپوزیشن لیڈر پیپلز پارٹی سے ہو گا – انہوں نے کہا کہ سندھ اور گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کی حکومتیں بنیں گی جبکہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں بھی پیپلز پارٹی اکثریتی جماعت ہے – انہوں نے کہا کہ قومی سیاست اور اہم امور میں پیپلز پارٹی کی مسلمہ حیثیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا – پیپلز پارٹی قومی سیاست میں اہم کردار ادا کرتی رہے گی اور عوامی خدمات کا سلسلہ جاری رکھے گی – انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ پیپلز پارٹی نہ صرف اپنی غلطیوں کا اعتراف کریگی بلکہ اپنی غلطیوں کی اصلاح کرے گی – انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی جمہوریت کا تسلسل چاہتی تھی جسکی وجہ سے پیپلز پارٹی کو اتحادی حکومتیں بنانا پڑیں – انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نئے عزم کے ساتھ ملک و قوم کی خدمت ج
اری رکھے گی – انہوں نے کہا کہ جیالوں کو پیپلز پارٹی میں واپس لا کر دوبارہ متحرک کریں گے اور شہید بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی پارٹی بحال کریں گے – انہوں نے کہا کہ موجودہ ملکی حالات اور خطے کی صورتحال کے پیش نظر ملک کی سب سے بڑی جمہوری اور عوامی طاقت پیپلز پارٹی پر اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جنہیں وہ قومی فریضہ کی طرح بطریق احسن نبھائے گی –

اپنا تبصرہ بھیجیں