پرائم اور کائرہ کا دکھ — تحریر جنید قیصر

جب بھی میں اس سانحے کے بارے میں سوچتا ہوں۔ تو میرے ذہن میں شہرہ آفاق ٹرائے کا وہ مکالمہ آتا ہے جو ٹرائےکے بوڑھے بادشاہ پرائم اور یونانی دیومالائی نیم دیوتا ایکیلز کے درمیان ہوا۔ ‘ٹرائے جن وار’ میں جب رات کی تاریکی میں پرائم اپنے بیٹے ہیکٹر کا جسد خاکی لینے کے لئے ایکلیز کے خیمے میں جاتا ہے۔ پرائم ، بچپن میں ہی ، ہرکولیس کی فوج کے ذریعہ اپنے آبائی شہر کی تباہی دیکھ چکا تھا۔ وہ ایک ماہر اور منصفانہ بادشاہ بن کر پروان چڑھا اور اس کے لوگ اس سے گہری محبت کرتے تھے۔ اب اپنے بڑھاپے میں وہ اسی تباہی سے گزرنے والا تھا۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ اپنے شہر کو نذر آتش ہوا دیکھے ، اس نے دیکھا کہ ایک کے بعد ایک اس کے بیٹوں کو ہلاک کیا گیا۔ ہیکٹر کے معاملے میں ، اسے نہ صرف اپنے ولی عہد کو کھو جانے پر اپنے دکھ سے نبرد آزما ہونا پڑا، یہاں تک کہ اسے اپنے سب سے محبوب بیٹے کی لاش کی بے حرمتی دیکھتے ہوئے بھی انتہائی تکلیف سے گزرنا پڑا۔

ہومر کی لافانی رزمیہ ’ایلیڈ‘ (Iliad) میں ٹرائے کی جنگ کا یہ وہ حصہ ہے، جو ایکلیز کے قہر سے شروع ہوتا ہے۔ جب پٹروکولس کو ایکلیز کے روپ میں میدان جنگ میں بھیجا گیا لیکن ہیکٹر نے ایک ہی وار میں اس کو ہلاک کر دیا۔ ہیکٹر کا خیال تھا کہ مرنے والا ایکلیز تھا۔ اسے خود بھی اس بچے کو مارنے پر شدید دکھ ہوا ۔ اپنے چھوٹے کزن کی موت کا سن کر ایکلیز نے جو اپنے بادشاہ سے ناراض ہو کر واپس لوٹنا چاہ رہا تھا، نے اپنا فیصلہ تبدیل کیا، وہ اپنے گھوڑے کے رتھ پر سوار ہو کر ٹرائے کے قلعے پہنچتا ہے، اور ہیکٹر کو جنگ کے لئے پکارتا ہے۔۔۔ ہیکٹر ہیکٹر ہیکٹر۔۔۔

ہیکٹر میدان میں آتا ہے اور اپنے سپاہیوں کو جو تیر برسانے کے لیے اپنی کمانیں سیدھی کر رہے ہیں ان کو روکتا ہے۔ ہیکٹر اور ایکلیز کے درمیان ایک ہولناک لڑائی ہوتی ہے۔ قلعوں کی دیواروں سے ہیکٹر کی بے بس بیوی اپنے نوزائیدہ بچے ، باپ، بھائی اور پوری فوج انتہائی تکلیف سے یہ لڑائی دیکھتی ہے۔ لڑائی سے پہلے ہیکٹر نے ایکلیز کو ایک معاہدے کی پیشکش کی کہ جو بھی مارا جائے گا وہ اپنے دشمن کو دفنانے کی رسومات کی اجازت دے گا۔ اپنے کزن کے قاتل کو سامنے دیکھ کر ایکلیز بولا… بھول جائو… کیونکہ شیروں اور انسانوں کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہوتا۔ ایکلیز نے ہیکٹر کو قتل کیا اور اس کی لاش اپنے رتھ کے پیچھے رسی سے باندھ کر اس کے بوڑھے باپ، نوجوان بیوہ ، بھائی اور پوری فوج کے سامنے گھسیٹ کر لے جاتا ہے۔

ہیکٹر کی لاش ایکلیز کے خیمے کے باہر بغیر تجہیز و تدفین پڑی ہے۔ کمزور ونحیف بوڑھا بادشاہ رات کی تاریکی میں ایکلیز کے خیمے میں داخل ہوتا ہے، اپنے گھٹنوں کے بل جھکتا ہے اور ایکلیز کے ہاتھوں کو چومتا ہے۔

ایکلیز: آپ کون ہیں؟

پرائم: میں نے وہ تکلیف برداشت کی جو اس سے پہلے زمین پر کسی نے برداشت نہیں کی۔ میں نے اس شخص کے ہاتھ چومے جس نے میرے بیٹے کو مارا۔

ایکلیز: [ کو احساس ہوتا ہے، اور وہ ہڑبڑا کر کھڑا ہوجاتا ہے] پرائم؟ آپ یہاں کیسے داخل ہوئے؟

پرائم: مجھے لگتا ہے کہ میں اپنے ملک کو یونانیوں سے بہتر جانتا ہوں۔

ایکلیز: [آگے بڑھتا ہے ، پرائم کو اٹھاتا ہے] آپ بہادر آدمی ہیں۔ میں آپ کے سر کو کو پلک جھپکتے تن سے جدا کرسکتا ہوں۔

پرائم: کیا آپ واقعی سوچتے ہیں کہ موت اب مجھے خوفزدہ کرتی ہے؟ میں نے اپنے بڑے بیٹے کو مرتے ہوئے دیکھا ، اس کے جسم کو رتھ کے پیچھے گھسیٹتے دیکھا۔ اسے میرے پاس واپس کرو۔ وہ مناسب تدفین کا مستحق ہے ، آپ جانتے ہو۔ اسے مجھے دو۔

ایکلیز: اس نے میرے کزن کو مار ڈالا۔

پرائم: اس نے سوچا کہ یہ آپ ہی ہیں۔ آپ نے کتنے کزنوں کو قتل کیا؟ کتنے بیٹے اور باپ ، بھائی اور شوہر؟ کتنے ، بہادر ایکلیز؟

پرائم: [ایکلیز کو] میں آپ کے والد کو جانتا تھا۔ وہ اپنے وقت سے بہت پہلے مر گیا۔ وہ اس قدر خوش قسمت تھا کہ اُس نے اپنے بیٹے کو جنگ میں گرتے نہیں دیکھا۔

پرائم: [ہیکٹر کے بارے میں ایکلیز کو] میں نے اپنے بیٹے کو اسی لمحے سے پیار کیا جب اس نے آنکھیں کھولیں اور اس وقت تک جب آپ نے انھیں بند کردیا۔

آہ

پرایم کے نزدیک خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اپنے بچوں سے پہلے دنیا سے چلے گئے۔۔۔

اس دنیا میں اولاد سے بڑا غم کوئی نہیں ہے۔ ہنستی کھیلتی اولاد کے یوں ایک لمحے میں چلے جانے سے بڑا کوئی سانحہ نہیں ہوسکتا۔ پرائم جیسے کئی بادشاہ اس سانحے سے گزرنے کے بعد ایک ذندہ لاش بن جاتے ہیں۔ قمر زمان کائرہ، اسامہ قمر کے یوں حادثے میں چلے جانے سے جس کرب، تکلیف سے گزرے ہیں، اس کا اندازہ بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ان سطروں کے زریعے پرائم کے دکھ کا سہارا لے کر اس سانحے کے کرب کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن یہ ناقابل بیان دکھ ہے۔

ایک برس قبل قمرالزمان کائرہ صاحب کے جواں سال بیٹے اسامہ، اور ان کے دوست حمزہ بٹ کے حادثے کے نتیجے میں انتقال کی اچانک ، اور بے وقت رحلت کی خبر نہ صرف قمرالزمان کائرہ کے لیے بلکہ ہرپاکستانی کے لیے نہایت دُکھ اور تکلیف دہ تھی۔ پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ کو بیٹے کی موت کی اطلاع اسلام آباد میں دی گئی تھی جب وہ ایک پریس کانفرنس کرنے والے تھے . بیٹے کی موت کی خبر ملنے پر قمر زمان کائرہ نے زندگی کے سب سے بڑے دکھ کی گھڑی میں کمال ضبط اور بہادری کا مظاہرہ کیا. لیکن کیا باہر سے کمال ضبط اور بہادری کا مظاہرہ کرنے سے اندر کی تکلیف اور کرب ختم ہوجاتا ہے؟ میرے نزدیک بالکل نہیں، یہ دکھ و تکیلف انسان کے اندر رہتی ہے، اور ایک نہ نظر آنے والا نہ بھرنے والا زخم بن جاتا ہے۔ جس کے ساتھ انسان نے ذندہ بھی رہنا ہوتا ہے اور پل پل مرنا بھی ہوتا ہے۔

اسامہ کائرہ کی برسی پر دعا ہے کہ خداوند کریم مرحوم کے درجات بلند کرے، جنت الفردوس میں جگہ دے اور سوگواروالدین کو صبر جمیل اور مزید استقامت دے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں