مستقبل پیپلز پارٹی کا ہے, ناراض ووٹرز کو اپنی کارکردگی کے بل پر منائیں گے: میاں منظور احمد وٹو

IMG_6769

پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر اور سابق وفاقی وزیر میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ مستقبل پیپلز پارٹی کا ہے ۔آنیوالے وقت میں پارٹی کو لاہور سمیت پنجاب بھر میں مضبوط کرنے کے لئے دن رات ایک کر دیں گے اور ناراض ووٹرز کو اپنی کارکردگی کے بل پر منائیں گے۔ماضی میں پیپلز پارٹی کے کارکن۔جیالے ناراض ہوئے مگر پارٹی سے تعلق کو کبھی ختم نہیں کیا ۔پیپلز پارٹی کے کارکن اور جیالے پارٹی کا اثاثہ ہیں آئندہ کارکنوں کو ساتھ لے کر چلیں گے ۔میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی لیڈرشپ نے تحفظات کے باوجود مخالفین کو ملنے والے مینڈیٹ کا احترام کیا ہے اور نتائج کو ملک کے وسیع تر قومی مفاد میں تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جعلی مینڈیٹ سے ریاست پر تو حکومت کی جا سکتی ہے مگر عوام کے دلوں پر نہیں ۔انہوں نے کہا کہ جو سمجھتے ہیں پیپلز پارٹی میں اب کوئی بھٹو نہیں رہا تو وہ جان لیں کہ بلاول بھٹو زرداری اپنی والدہ بینظیر بھٹو کی تصویر ہیں اور انکی قیادت میں ہر جیالا پیپلزپارٹی کا قائد ذوالفقار علی بھٹو ہے ۔پیپلز پارٹی کے ہر کارکن میں بھٹو سے وفا کا خون دوڑ رہا ہے جسے کسی بھی حالت میں نہ تو خریدا جا سکا ہے اور نہ ہی خریدا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھاری مینڈیٹ حاصل کرنے والے اپنے وعدوں سے کامیابی کے فورا ” بعد ہی مکرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں ۔شہباز شریف چھ ماہ سے تین سال تک لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے منافقانہ وعدے کرتے رہے اور بڑے میاں صاحب نے کامیابی حاصل کرنے کے بعد عوام کے سامنے اپنی نیک نیتی واضح کرتے ہوئے کہا کہ پانچ سال بعد لوڈ شیڈنگ ختم ہو جائیگی ۔انہوں نے کہا کہ اگر شریف برادران بینظیر دور میں توانائی معاہدوں کی بلا جواز مخالفت نہ کرتے اور 1997 میں برسراقتدار آ کر بینظیر حکومت کے توانائی معاہدے ختم نہ کرتے تو آج قومی ترقی کا پہیہ بہت تیز ہوتا -اور انہیں آج عوام سے بار بار یہ جھوٹے وعدے بھی نہ کرنا پڑتے ۔ صدر آصف علی زرداری نے بجلی بحران کے خاتمہ کیلئے پاک ایران گیس معاہدہ کرکے رکھ دی ہے۔پیپلز پارٹی کی جانب سے شروع کئے گئے تھر کول منصوبہ سے آئندہ کبھی بجلی کا بحران نہیں ہوگا۔پیپلز سیکرٹریٹ میں مختلف وفود سے بات چیت کے دوران انہوں نے کہا کہ لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے لئے متعدد میگا پراجیکٹس پیپلز پارٹی نے شروع کر دئے ہیں جس کے اثرات مستقبل قریب میں سامنے آجائیں گے مگر مخالفین ایٹمی پروگرام کی طرح یہ کریڈٹ بھی اپنی جھولی میں ڈالنے کی کوشش کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین یاد رکھیں کہ وہ ایٹمی پروگرام کا کریڈٹ لینے میں بھی ناکام رہے اور یہ کریڈٹ بھی لینے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے ۔ انہو ں نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے ملکی مفاد میں پاک ایران گیس لائین معاہدہ اور گوادر پورٹ کا چین سے معاہدہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین نے میڈیا کے ذریعے پیپلز پارٹی کی خامیوں کو اجاگر کیا ۔ اور میڈیا نے بھی پیپلز پارٹی کے کارناموں کو اجاگر نہیں کیا جس کی وجہ سے عوام کو یہ تاثر ملا کہ پیپلز پارٹی حکومت نے ان کے لئے کچھ نہیں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بتانا بھی گوارا نہیں کیا گیا کہ گوادر پورٹ ایسامعاہدہ ہے کہ جس کے مقابلے میں سینکڑوں موٹر وے بنا دئے جائیں تو اتنا فائدہ نہیں ہو سکتا جتنا ایک گوادر پورٹ معاہدے سے پاکستان کو پہنچے گا ۔انہوں نے کہا ہے کہ ن لیگ اور تحریک انصاف کی پروطالبان حکومتیں امریکی ایماء پر لائی گئیں تاکہ امریکہ کو اس خطہ سے نکلنے کے لئے محفوظ راستہ دیا جا سکے ۔ پیپلز پارٹی نے اپنے دور حکومت میں کوئی سیاسی انتقام نہیں لیا ۔جمہوریت مضبوط کی اور آئین کو اصل شکل میں بحال کیا ۔ پیپلز پارٹی سے مشکلات ، مجبوریوں اور نامساعد حالات کی وجہ سے غلطیاں ضرور سرزد ہوئی ہیں جنہیں مستقبل میں دہرایا نہیں جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ پاک ایران گیس پائپ لائین اور گودر پورٹ معاہدوں کی وجہ سے بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ پیپلز پارٹی سے خوش نہیں تھی جس کی سزا پیپلز پارٹی کوالیکشن میں شکست کی صورت میں دی گئی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں