آصف زرداری کی رہنمائی میں ملک کو اندھیرےسےنکالنےکیلیےکوشاں ہیں، مراد علی شاہ

آصف زرداری کا 660 میگا واٹ کے منصوبے تھرکول پاور پلانٹ کا دورہ، کام کی رفتار پر اظہار اطمینان، سابق صدر کا کہنا ہے کہ تھرپارکر مستقبل کا امیرترین علاقہ ہو گا۔

[youtube https://www.youtube.com/watch?v=H_t2FoFp0Qs&w=560&h=315]

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے آصف علی زرداری کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت پانچ مختلف کمپنیز کے ساتھ شراکت داری کرکے کان کنی اور پاور پلانٹ لگا رہی ہے، سندھ حکومت اینگرو کارپوریشن، حبکو، ہاؤس آف حبیب اور چائینز کمپنی سی ایم ای سی کے ساتھ کام کر رہی ہے، کان کنی اور پاور پلانٹ لگانے کا معاہدہ چائنیز کمپنی سی ایم ای سی کے ساتھ ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ فیز 1 میں کان کنی کرنے سے 3.8 ایم ٹی کوئلہ سالانہ نکالا جائے گا، اس کوئلے سے 660 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی، منصوبے کی کل لاگت 1.8 بلین ڈالر ہے اور یہ منصوبہ جون 2018ء میں مکمل ہو گا، فیز II میں کان کنی سے 7.6 ایم ٹی کوئلہ سالانہ نکالا جائے گا، اس پر 2 پلانٹس سے 330 میگاواٹ بجلی کی پیداوار ہو گی، اس کی کان کنی 200 ملین ڈالر سے ہو گی جبکہ بجلی کی پیداوار کے منصوبے کی لاگت 1 بلین ڈالر ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ فیز II منصوبہ دسمبر 2021ء میں مکمل ہو گا۔
وزیر اعلیٰ سندھ کا مزید کہنا تھا کہ فیز III منصوبے کے تحت سالانہ 13 ایم ٹی کوئلہ نکالا جائے گا جس کی لاگت 500 ملین ڈالر ہو گی، اس منصوبے میں 660 میگاواٹ اور 330 میگا واٹ بجلی کی پیداوار کے 2 منصوبے لگائے جائیں گے، فیز III منصوبے کی لاگت 1.5 بلین ڈالر ہو گی اور یہ دسمبر 2021ء میں مکمل ہو گا، اس منصوبے میں عارف حبیب کمپنی شیئر ہولڈر ہے۔
وزیر اعلیٰ نے سابق صدر کو بریفنگ دیتے ہوئے مزید کہا کہ فیز IV منصوبے کے تحت کان کنی کی مقدار 19 ایم ٹی ہو جائے گی، فیز IV منصوبے سے 3 پاور پلانٹس لگائیں گے جو 330 میگاواٹ بجلی پیدا کریں گے، فیز IV منصوبے کے پاور پلانٹس کی لاگت 1.5 بلین ڈالر ہو گی جبکہ کان کنی کی لاگت 500 ملین ڈالر ہو گی، اس منصوبے میں عارف حبیب کی کمپنی شیئر ہولڈر ہو گی۔ آصف علی زرداری نے کان کنی اور پاور پلانٹس پر تیز رفتار کام کی تعریف کی۔
کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں