اگر شہبازشریف کی جگہ وزیر اعلیٰ سندھ ہوتے؟ -تحریر ناصر خان

10367718_10152455699877044_2293442930017634558_n

“شہباز شریف کی آرمی چیف سے 24 گھنٹے میں دوسری ملاقات”۔۔ صدر آصف زرداری کے دور میں بیگم فریال یا مظفر ٹپی میں سے کوئی سندھ کا چیف منسٹر ہوتا اور وہ صوبہ سندھ اپنے بیٹے / بیٹی کے سُپرد کر کے خود وفاقی حکومت کے نمائندہ یعنی وزیر خارجہ و وزیر سرمایہ کاری کی حیثیت سے امریکہ اور سعودیہ سمیت دیگر اہم مُمالک کے سفیروں کے ساتھ “تذویراتی اہمیت” اور چین و تُرکی جیسے مُمالک کے سُفراء کے ساتھ “اقتصادی تعاون” کے معاہدات کے ذریعے لاڑکانہ یا نواب شاہ کیلئے “میٹرو ٹرین” حاصل کرنے کے بعد اپنے بڑے بھائی کی حکومت بچانے کیلئے وزیر دفاع کی ذمہ داریاں بھی “ازخود” سبھال کر، آرمی چیف جنرل کیانی کے ساتھ بڑے بھائی کے دورہ بھارت، آئی ایس آئی / جیو چپقلش اور جرل مشرف کیس جیسے حساس امور طے کرنے کیلئے “خُفیہ اور سرعام ملاقاتیں کررہا ہوتا تو اس وقت جیو سمیت سارے میڈیا اور عمران خان سمیت تمام سیاست دانوں نے، آسمان سر پر نہ اُٹھا رکھا ہوتا؟؟۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں