Metro Bus Project Islamabad/Rawalpindi is reflective of govt’s flawed development strategy, says Mian Manzoor Wattoo

Metro Bus Project Islamabad/Rawalpindi is a bigger disaster environmentally and speaks volumes of the erroneous priorities of the government reflective of their flawed development strategy, said Mian Manzoor Ahmed Wattoo in a statement issued here. He said that Punjab Chief Minister was engaged in undermining the historical façade of the cities under his misplaced narrative of development, he added.
He observed that development is justified on the parameters of improvement and not at the altar of severing historical and cultural links of the metropolis through such projects.
He said that the cost of the project of Rawalpindi/Islamabad had been projected as Rs.24 billion which was more than six times as the Asian Development Bank study worked out the cost around Rs. 4 billions. The silence of government over this was disturbing because no clarification was issued by the government. The Prime Minister may direct to address the issues raised at the earliest, he added.
Punjab Chief Minister passion for mega projects is understandable but serious allegations levelled by important quarters should be looked into adding the government should have taken the notice of it much earlier.
The other contour of the project was that it had put the people of Islamabad in great discomfort because the diversion of the routes was senseless and takes much time for them to reach their offices or destinations. The scale of the digging gives the look of a battle field than “Islamabad the beautiful”, he observed.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo rejected the idea of building new roads for the proposed project because there was enough space in Islamabad roads for carving out a bus-lane solely dedicated to the buses only. The problem of the daily commuters would have been solved with a fraction of the cost, he pointed out.
He lamented the authorities that that like the Lahore Expressway Train project the Rawalpindi/Islamabad project lacks the input of the civil society which was always valuable because the people take the ownership of such projects if taken into confidence. The criticism of the projects would have been taken care of if the projects have been discussed threadbare in all relevant forums of the society.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo expressed his anger and frustration over the uprooting of thousands of trees to start the civil work for the project adding this reckless murder of tree would spite the beautiful face of the capital.

میاں منظور احمد وٹو صدر پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب نے راولپنڈی/ اسلام آباد میٹروبس پراجیکٹ پر تبصرہ کر تے ہوئے کہا کہ یہ ایک اور موجودہ حکومت کی غلط ترقیاتی حکمت عملی اور غلط ترجیحات کا مظہر ہے۔ یہ بات انہوں نے آج یہاں سے جاری ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ ترقی کے نام پر بڑے شہروں کے تاریخی پس منظر کو پس پشت ڈال کر شہروں کا حلیہ بگاڑ رہے ہیں۔ ترقی شہروں کی حقیقی خوبصورتی کا باعث ہونی چاہئیے نہ کہ شہروں کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو ترقیاتی منصوبوں کی بھینٹ چڑھا دیا جائے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ راولپنڈی اسلام آباد میٹروبس پراجیکٹ پر تقریباً 24ارب روپے کی خطیر رقم خرچ ہوگی جبکہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی سٹڈی کے مطابق 4ارب روپے میں منصوبہ مکمل ہو سکتا ہے، منصوبے پر اٹھنے والے اخراجات میں اتنے بڑے فرق کی وجہ حکومت کو بتانی چاہیے کیونکہ اسکی خاموشی سے الزامات کے متعلق تاثر مضبوط ہو رہا ہے،وزیر اعظم کو اسکا جلد نوٹس لینا چاہیے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی بڑے بڑے منصوبوں میں دلچسپی درحقیقت قومی خزانے کا ضیاع ہے اور انکو چاہیے کہ وہ ان منصوبوں کی افادیت ، ان پر اٹھنے والے اخراجات اور دوسرے ضروری قوائد و ضوابط کو شفافیت کے تابع لائیں کیونکہ انکی عدم موجودگی میں شک و شبہات کا جنم لینا فطری ہے۔ الزامات کی جامع اور مدلل وضاحت ضروری ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ اسلام آباد/ راولپنڈی بس پراجیکٹ کا دوسرا تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ دونوں شہروں میں بغیر سوچے سمجھے روٹس تبدیل کئے گئے ہیں جسکی وجہ سے لوگوں کو آنے جانے میں بڑی تکلیف ہو رہی ہے۔ اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر کھدائی کی وجہ سے اسلام آباد اب میدان جنگ زیادہ اور خوبصورت شہر کم دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے میٹروبس پراجیکٹ کے لیے اسلام آباد میں نئی سڑکیں تعمیر کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس شہر کی سڑکیں اتنی وسیع ہیں کہ ان میں سے بسوں کے لیے ایک مختص سڑک نکالی جا سکتی تھی جس سے منصوبے پر انتہائی کم اخراجات اٹھتے اور لوگوں کو آرام دہ اور باعزت سفر کی سہولتیں بھی میسر ہوتیں۔ میا ں منظور احمد وٹو نے کہا کہ ایکسپریس ٹرین پراجیکٹ کی طرح راولپنڈی/اسلام آباد میٹرو بس پراجیکٹ کا کا م شروع کرنے سے پہلے سول سوسائٹی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا جسکی وجہ سے اب ان پر تنقید ہو رہی ہے۔ یاد رہے کہ سول سوسائٹی کی تجاویز منصوبے کے لیے ہمیشہ سود مند ہوتی ہے اور پھر تنقید کے امکانات بھی ختم ہو جاتے ہیں۔ میاں منظور احمد وٹو نے اس منصوبے کی خاطر ہزاروں درختوں کے قتل پر رنج و غم کا اظہار کیا کیونکہ اسکی وجہ سے دونوں شہروں کا ماحول اور خوبصورتی متاثر ہوئی ہے۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں