پیپلز پارٹی کسانوں کے گھروں میں گھس کر گندم اٹھانے والے سرکاری اہلکاروں پر مقدمہ درج کروائے گی: سید حسن مرتضیٰ

لاہور: پیپلزپارٹی پنجاب نے کسانوں کے گھروں سے زبردستی گندم اٹھانے پر حکومت کے خلاف مقدمات درج کروانے کا اعلان کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، پارلیمانی لیڈر پیپلز پارٹی پنجاب نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پنجاب کے کسانوں کے گھروں پر ڈاکے ڈالے جا رہے ہیں، چور سرکار تمام حدیں پھلانگ چکی ہے، اب اسے مزید برداشت نہیں کیا سکتا۔

پیپلز پارٹی رہنما کا کہنا ہے کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے پنجاب میں گندم کا ہدف پورا نہیں ہوا، نااہل حکمران اپنی نالائقیوں کو چھپانے کیلئے کسان کے منہ سے نوالہ چھین رہے ہیں، محکمہ مال والے ہوش کے ناخن لے، سرکار کے ملازم بنیں نیازی کے نوکر نہ بنیں۔

انہوں نے کہا کہ وقت بدلتے دیر نہیں آپ کو کسان کے گھر سے اٹھائے گندم کے ایک ایک دانے کا حساب دینا پڑے گا، گندم کے دانے ہی تھے جو کسان کی غربت چھپا رہا تھا اب وہ بھی چھینے جا رہے ہیں، کسان کے گھر سے دس من ، بیس من گندم اٹھانا ہدف پورا کرنا نہیں ، ڈکیتی ہے.

حسن مرتضیٰ نے مزید کہا کہ آج قوم نیازی کو چور کہہ رہی ہے، تحصیلدار دیکھ لیں کل کو یہی نعرے ان کے دروازے پر لگ سکتے ہیں، کسان نے بیج اور روٹی کیلئے جو گندم رکھی ہے وہ بھی گھروں سے اٹھائی جا رہی ہے، کسان چوکس رہیں اپنے استعمال کی گندم اٹھانے والوں کی وڈیوز بنائیں ، پیپلز پارٹی کسانوں کے گھروں میں گھس کر گندم اٹھانے والے سرکاری اہلکاروں پر مقدمہ درج کروائے گی، بجٹ اجلاس میں کسان سے گندم چھیننے کے اس واردات کے خلاف احتجاج کیا جائے گا، فوڈ باسکٹ پنجاب کو نیازی ٹولے کی نالائقی نے گندم کی قلت والے صوبے میں بدل دیا ہے.

انہوں نے کہا کہ دوسرا سال ہے ملک میں ٹڈی دل یلغار پر یلغار کر رہی ہے اور حکمرانوں کے ڈرامے ختم نہیں ہوتے، چند کروڑ خرچ کر جس ٹڈی دل کا خاتمہ کیا جا سکتا تھا اس نے کھربوں کا نقصان کر دیا، عالمی اداروں کے مطابق ٹڈی دل کی وجہ سے صرف بڑی فصلوں کو آٹھ سو ارب کا نقصان ہوگا، نیازی بتائے کہ کسان کے آٹھ سو ارب کے نقصان کا ازالہ کون کرے گا ؟

کورونا آیا تو نیازی نے کہا کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے، لوگ وبا کے منہ سے کما کر بچوں کو کھلائیں، ٹڈی دل آیا تو نیازی ٹولہ سندھ کا مسئلہ کہہ کر تماشہ دیکھنے بیٹھ گیا، کورونا سے نہیں نمٹ سکتے، ٹڈی دل پر سپرے نہیں کر سکتے تو بیٹھے کیوں ہیں ؟ نیازی ٹولہ فوری طور پر استعفیٰ دے، گھر جائے، ملک چلانا اس کے بس میں نہیں ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں