!!!پاکستان کھپے اور آصف علی زرداری کا صبر !!! تحریر ملک خلیل احمد

ملک خلیل احمد

مانا کہ آصف علی زرداری وہ شخص جو بائیس کروڑ لوگوں میں واحد بدعنوان سیاستدان ہے اور قابل گردن زنی ہے۔ لیکن یقیناً اس کو یہ دن دیکھنے نہ پڑتے اگر وہ اپنے اقتدار کے پہلے ہی دن تمام معطل شدہ جج بحال کر دیتا۔
اسے اور اس کے ساتھیوں اور پارٹی کو ‘ماب لِنچِـنگ’ کا سامنا نہ کرنا پڑتا اگر وہ کشمیر میں ‘گھس بیٹھیوں’ کو دہشت گرد قرار نہ دیتا، بھارت کے ساتھ دوستی کی باتیں نہ کرتا۔۔۔ کہتے ہیں ممبئي حملے اس کی ہندوستان پالیسی کا، اس کو، اسٹیبلشمینٹ کی طرف سے جواب تھا۔ پاکستانی فوجی اسٹیبلشمینٹ سے اسی آنکھ مچولی میں بینظیر بھٹو ماری گئیں۔
وہ پھر بھی بچ جاتا اگر وہ کیری لوگر بل میں وہ شقیں نہ ڈلواتا جن شقوں کا براہ راست تعلق فوجی مداخلت روکنے یا اس سے مشروط غیر فوجی امداد سے تھا۔ وہ جو کہتے ہیں نہ کہ، ‘مگر یہ نہ ہو سکا اور اب یہ عالم ہے۔۔۔’ اسٹیبلشمینٹ اس کے خلاف نعرہ مار کر میدان میں اتر آئي ہے ‘زرداری نہ کھپے۔۔۔’ بقول میرے دوست کے کیا کسی نے کبھی کیانی اور جنرل شجاع پاشا کےاستعفوں کا بھی مطالبہ کیا ہے؟ یہ لوگ بھی تو این آر او کے سٹیک ہولڈر تھے نہ؟
آصف علی زرداری ساڑھے آٹھ سال تک بدعنوانی، قتل اور ڈاکوں کے مقدمات میں جیلیں کاٹتے رہے اور بینظیر اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کی انگلی پکڑ کر کبھی احتساب عدالتوں تو کبھی لانڈھی اور سینٹرل جیل کراچي کے پھاٹکوں پر دھکے کھاتی رہی

ایک جج کو جام صادق علی نے شوگر مل کا پرمٹ جاری کیا تھا جس نے آصف علی زرداری کی ضمانتوں کی درخواستیں مسترد کی تھیں اور اسی سب انسپکٹر کو ایس پی اور ڈی آئی جی تک ترقی دی جس نے زرداری پر سی آئی سینٹر کراچي میں جسمانی و ذہنی تشدد کا ٹھیکہ لیا تھا۔
مئي انیس سو اٹھانوے میں جب حیدرآباد سندھ میں تربت بلوچستان سے پی آئی اے کے جہاز کی مبینہ طور اغوا کی کوشش ناکام ہوئی تھی تو تب نواز شریف کی حکومت تھی اور آصف زرداری جیل میں تھے۔ وزیر اعظم سیکرٹریٹ سےحیدرآباد میں تب کے ایک سینئر پولیس افسر کو فون آیا تھا کہ ہوائي جہاز کی ایف آئي آر میں آصف علی زرداری کو ڈالا جائے۔
سچی بات یہ ہے کہ مجھے کوئی ایسی خوش فہمی لاحق نہیں کہ ایسے عناصر جو پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید سے نفرت کرتے تھے ان کے دل میں آصف زرداری کے لئے نرم گوشہ پیدا ہو سکتا ہے، ان کو آصف علی زرداری اس لئے پسند نہیں کیونکہ آصف علی زرداری نے قائد عوام کی فلاسفی اور محترمہ بینظیر بھٹو کے مشن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ اگر آصف علی زرداری قائد عوام بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے نظریئے سے انحراف کرتے تو یقینا ان کے لئے قابل قبول ہوجاتے جن کا خون بھٹو کا نام سن کر کھولتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ آصف علی زرداری نے آخر کیا غلطی کی کہ انہیں بھٹو کی سیاست سے دوری کا طعنہ دیا جائے۔ یا انکو دوبارہ جیل میں ڈالا جاتا ؟؟؟
ہاں انہوں نے مفاہمت اور برداشت کی بات کی۔ تاریخ گواہ ہے کہ قائد عوام بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد جمہوریت کی خاطر مادرِ جمہوریت بیگم نصرت بھٹو نے 70کلفٹن میں ان سیاستدانوں کا بھی استقبال کیا جو زندگی بھر بھٹو کے مخالف رہے۔ ہاں آصف علی زرداری میثاق جمہوریت پر ثابت قدم رہے کیونکہ میثاق جمہوریت پر محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے دستخط کئے تھے۔اب آتے ہیں بحیثیت صدر کس مقام پرقائد عوام بھٹو کے فلسفے اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے مشن کو بھولے؟ محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے زندگی بھر 1973ء کے آئین کی بحالی اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے جدوجہد کی تھی۔یہ آصف علی زرداری کی سیاسی بصیرت اور قائدانہ صلاحیت تھی کہ پارلیمنٹ میں فیصلہ کن اکثریت نہ ہونے کے باوجود آئین شکن مشرف کو ایوان صدر چھوڑنے پر مجبور کیا اور پھر 1973ء کے آئین کو اصل شکل میں بحال کرکے محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے مشن کی تکمیل کی۔اس طرح پارلیمنٹ کو بااختیار بنانا بھی محترمہ بینظیر بھٹو شہید کا مشن تھا صدرآصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کے وہ اختیارات جو آمروں نے غصب کئے تھے پارلیمنٹ کو واپس دئیے۔ آصف علی زرداری کو یاد تھا کہ ان کے قائد بھٹو نے صوبوں کو خودمختاری دینے کا وعدہ کیا تھا۔ دنیا نے دیکھا آصف علی زرداری نے صوبوں کو خودمختاری دی۔
محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے عہد کیا تھا کہ وہ ان شدت پسندوں جنہوں نے ریاست کی رٹ کو چیلنج کرکے سوات سے قومی پرچم اتار دیا تھا کو شکست دے کر دوبارہ قومی پرچم سربلند کریں گی۔ آصف علی زرداری نے سوات میں دوبارہ قومی پرچم سربلند کرکے شہید بی بی کے عہد کی تکمیل کی۔ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا صوبہ دینے کا وعدہ محترمہ شہید کا تھا۔ آصف علی زرداری نے وہ وعدہ بھی پورا کیا۔ اگر آصف علی زرداری کے مخالفین، بغض اور تعصب کی عینک اتار کر دیکھیں تو انہیں صاف نظر آئے گا کہ آصف علی زرداری بھی اپنے قائد بھٹو شہید، محترمہ بی بی شہید کی طرح سچے قوم پرست پاکستانی ہیں۔ اگر گوادرمنصوبے کا کنٹریکٹ سنگاپور سے واپس لے کر اسے چین کو نہ دیا جاتا تو آج راہداری کا کوئی وجود نہ ہوتا؟ پاک ایران گیس پائپ لائن ان کا کارنامہ تھا۔ موجودہ حکومت نے اس منصوبے کو پس پشت ڈال دیا ہے۔
پیپلزپارٹی کا ایک ہی گناہ کبیرہ ھےکہ سیاست غریب کے گھر تک پہنچائی اور غریب کی حالت کو سدھارنے کی عملی کوشش کی ۔۔
جیل کاٹنا آصف علی زرداری کے لئے نئی بات نہیں اور نہ ہی مقتدر قوتوں کی یہ مشق ستم نئ بات ھے ۔۔آج میں یہ باتیں اسلئے لکھ رہا ہوں کہ آصف علی زرداری متعدد جان لیوا بیماریوں میں مبتلا ھے ۔
‏آصف علی زرداری صاحب کی کردار کشی کے لیے مقتدروں سیاسی ٹاؤٹوں ریاست نے اربوں روپے خرچ کیے لیکن انکی کردار کشی کوشش ناکام ہوئی ہے اس میں ان کے تدبر بردباری تحمل مزاجی اور گہری بصیرت کا بڑا دخل ہے ان کی صحت کے بارے افواہیں پھیلانے والوں کو ناکامی ہو گی سوچو سمجھو سیکھو
آصف علی زرادری فانی انسان ہے ۔ وہ مر جائے گا سب نے ایک دن مر جانا ہے لیکن یہ مرد حر تھا ،مرد حر ہے اور مرد حر رہے گا ۔
لیکن آصف علی زرداری کو خدانخواستہ کچھ ہو گیا تو یاد رکھنا سندھ سے یہ پاکستان کھپے کا نعرہ بلند کرنے والی آخری آواز ہو گی جو خاموش ہو جاۓ گی ۔۔!
ملک خلیل احمد

اپنا تبصرہ بھیجیں