قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو اور ایٹمی پاکستان کی تاریخ …تحریر : محمد ضرار یوسف پہلی قسط

آج سے بائیس سال پہلے پاکستان نے ایٹمی ھتھیاروں کے ایک ساتھ پانچ زیر زمین جوہری تجربات کئے جن کا کوڈ نام چاغی اول رکھا گیا ۔ پاکستان نے 28 مئی 1998 کو پی ایس ٹی کے وقت 15: 15 بجے یہ ٹیسٹ ضلع چاغی صوبہ بلوچستان کے راس کوہ پہاڑیوں میں کیے گئے تھے ۔[1]
اود پاکستان پوری دنیا میں ساتواں اور پہلا اسلامی ایٹمی ملک ایک طاقت کا نشان بن کر ابھرا ۔
یہاں تک پہنچنے کا سفر جو 1965 میں ذوالفقار علی بھٹو نے جو خواب دیکھا تھا جس پہ عملی کام ، 20 جنوری 1972 کو ، ذوالفقار علی بھٹو نے ملتان میں ایٹمی سائنس دانوں اور انجینئروں کی ایک کانفرنس ملتان میں طلب کی ۔ یہ کانفرنس ذوالفقار علی بھٹو کے سائنس و ٹیکنالوجی کے مشیر ڈاکٹر عبدالسلام کی بھرپور معاونت سے ھوا ۔
ان تجربات کے پیچھے ذوالفقار علی بھٹو شہید اور ان کے خاندان کی لازوال قربانیوں محنت اور اپنی قوم کو ناقابل تسخیر بنانے کی جدوجہد شامل ھے جس نے اپنی قوم کی بجائے خود سینہ سپر ھو کر بہادر دلیر ھیرو کی طرح اپنی جان کی قربانی دی ۔ اس جدوجہد کی تاریخ پہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ھر کارکن کو ھی نہیں ھر شہری کو فخر ھونا چاھئے ۔
قوم کے محسن کے ساتھ کوفیوں کا سا سلوک کرنے والے کوئی اور نہیں تھے ھمارے ھی ملک کے باسی عالمی غنڈہ ریاست کی غلامی کے شوقین نام نہاد محب وطن جرنیل اور عیار ملاں تھے جو 1974 میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے عوض ساری عمر بھٹو شہید کی غلامی کے وعدے کر رھے تھے ۔ اور تقریبا تین سال بعد ھی امریکہ کے ڈالروں کے عوض سڑکوں پہ بھٹو کے خلاف تحریک چلا رھے تھے ۔ اور عوام بھی ان بلیک میلروں کی باتوں میں آ کر نظام مصطفی کی تحریک میں شامل ھو رھے تھے ۔ ان دائیں بازوں کی جماعتوں کی سیاست کردار کشی جھوٹ اور جھوٹی کہانیوں کی وکالت میں جھوٹی دلیلیں گھڑنے کے علاوہ کچھ نہیں ۔ حیرانگی ھے مذھب کے نام پہ سیاست کرنے والی جماعتیں منبر پہ کس زور شور سے جھوٹ بولتی ھیں اور سادہ لوگ ان کے جھوٹ پہ ایمان لے آتے ھیں ۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دوست منیر احمد خان ( جو 1972 میں پہلے ایٹامک انرجی کیمشن کے چیئرمین تعینات کئے گئے ۔) نے انہیں ہندوستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں آگاہ کیا۔ بھٹو نے فوری طور پر کہا ، “اگر .. بھارت ایٹم بم بنائے گا …. (پاکستان) گھاس کھائے گا ) ، لیکن ہم پاکستان ایٹم بم بنائے گا اور ضرور بنائے گا ھم بھارت کی خطے میں اجارہ داری نہیں ھونے دیں گے ۔ کوئی دوسرا چوائس نہیں ہے! “. 1969 میں اپنی کتاب ” The Myth of Independence ” میں بھٹو نے استدلال کیا کہ یہ ‘ضرورت’ ہے کہ پاکستان کے پاس اسلحے کا ہتھیار حاصل کیا جائے ، اور صنعتی ریاستوں کے سامنے کھڑے ہونے کے لئے مسلح جوھری ھندوستان کے خلاف پروگرام شروع کرنا ھے ۔ بھٹو نے ایک منشور بنایا اور آئندہ کی پالیسی بنائی کہ اس پروگرام کو کس طرح تیار کیا جائے گا اور کون سا انفرادی سائنسدان اس پروگرام کا آغاز کریں گے۔ بھٹو نے منیر احمد خان اور عبدسلام سے سب پہلے یہ پروگرام طے کیا ۔ [2] جب بھٹو نے اس مسئلے کی اہمیت کو محسوس کیا تو ، انہوں نے 11 دسمبر 1965 کو صدر ایوب خان سے لندن کے ڈورچسٹر ہوٹل میں منیر خان کی نجی ملاقات کا اہتمام کیا۔ بغیر وقت ضائع کیے منیر خان نے صدر ایوب خان سے کہا کہ وہ بھارت کے مسلح جوہری خطرے کے خلاف جوہری توانائی حاصل کریں۔ جب صدر ایوب خان نے منیر خان کی پیش کش کو صبر سے سنا ، جو منیر خان کے مطابق ، بغیر کسی قیمت کے مفت مشورہ تھا اور اس مقصد کے لئے سامان سستی قیمت پر بین الاقوامی سپلائر ریاستوں سے دستیاب تھا ، صدر نے اس پیش کش کو فوری طور پر مسترد کردیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ1۔ “پاکستان ایک غریب ملک ھے اور جوھری ھتھیار بنانے کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا ” ہے۔ 2۔اس پروگرام سے امریکہ ناراض ھو جائے گا ۔3۔ ضرورت پڑی تو چین سے خرید لیں گے ۔ اور میٹنگ ختم ہو گئی ۔ اگرچہ یہ ملاقات توقع کے مطابق کامیاب نہیں ہوئی تھی ، لیکن بھٹو اور منیر خان نے بھٹو کے ساتھ ہندوستانی جوہری خطرے کو روکنے کے عزم کا اظہار کیا: “فکر نہ کرو ، ہماری باری آئے گی”۔ یہ ان کی وابستگی کا آغاز تھا ، اور منیر خان بہت تیزی سے پاکستان کو اسلامی جوھری ملک بنانے کے لئے ذوالفقار علی بھٹو کے بہت قریب ھوگئے ۔ [3] میٹالرجیکل انجینئرنگ شعبہ میں پی ایچ ڈی کر کے آنے والے نوجوان ماھر انجینئر ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے نیدر لینڈ میں ڈچ انجینئرنگ کمپنی میں ملازمت اختیار کر لی ۔ یہ کمپنی نیدر لینڈ ۔ جرمنی اور برطانیہ کے لئے یورینیم کی افزودگی کے لئے خفیہ خدمات دے رھی تھی ۔ بی وی ڈی ڈچ کی خفیہ ایجنسی نے ڈاکٹر اے کیو خان کی سیکیورٹی کلیئرنس دی ۔[4]
اکتوبر 1972دو پاکستانی جوہری سائنسدانوں ، ڈاکٹر ریاض الدین اور ڈاکٹر مسعود جو انٹرنیشنل سینٹر برائے تھیورٹیکل فزکس اٹلی میں عارضی کام کر رھے تھے ۔ واپس پاکستان آگئے اور ان کو قائداعظم یونیورسٹی میں اور ساتھ ساتھ Pakistan Institute for Nuclear Science & Technology (PINSTECH) میں تعینات کردیا گیا ۔ جہاں انہوں نے فیزن دھماکہ خیز آلہ پر کام شروع کر دیا ۔ [5]
مارچ 1973پاکستانی جوہری سائنسدانوں پر مشتمل تین خلیل قریشی ، ظفر اللہ ، اور عبدالماجد اور انجینئروں کی ایک ٹیم
پائلٹ ایٹمی ایندھن کی ڈیزائننگ میں حصہ لینے اور
ایندھن کو استعمال کرکے دوبارہ پروسس کر کے ایندھن بنانے کی تربیت حاصل کرنے کے لئے مول کے بیلگونیکیلیئر Belgonucleaire at Mol کے صدر دفتر بھیجا گیا ۔[6]
دسمبر 1973پاکستان جوہری توانائی کمیشن (پی اے ای سی) کے سربراہ ڈاکٹر منیر احمد خان نے جنوبی صوبہ پنجاب میں یورینیم کے بڑے ذخائر دریافت ھونے کا اعلان کیا ۔[7]
25مارچ 1974سینئر پاکستانی جوہری سائنسدانوں ڈاکٹر سلام ، منیر احمد خان ، ڈاکٹر ریاض الدین ، ​​اور حفیظ قریشی نے واہ چھاؤنی میں پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل قمر علی مرزا سے ملاقات کی ۔ ملاقات میں دھماکہ خیز پھٹنے والے مواد (HMX) تیار کرنے کے لئے ایک پلانٹ تیار کرنے کی بابت اھم مشاورت کرکے فیصلے کئے گئے ۔
اس پلانٹ کے ڈیزائن فیزشن ڈیوائس کے اس منصوبے کا نام “ریسرچ” رکھا گیا ۔ [8]
18- مئی 1974 کو بھارت نے پورکھان 1 کے مقام پہ زیر زمین اپنا پہلا ایٹمی دھماکہ کیا ۔ اس دھماکے کو بھارتی سیولین نے مسکراتا بدھا Smiling Buddha کا نام دیا ۔ جبکہ بھارتی فوج نے اس کو اپریشن ھیپی کرشنا Happy Krishna کا نام دیا ۔[9]
19۔ مئی 1974ایک نیوز کانفرنس میں وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ پاکستان کو دھمکی نہیں دی جاسکتی اور نہ بھارت ایٹمی بلیک میل کر سکتا ھے ۔ ذوالفقار علی بھٹو یہ بھی اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان اپنی موجودہ پالیسیوں میں ردوبدل نہیں کرے گا۔[10]
7 جون 1974وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے کہا کہ بھارت کا جوہری پروگرام پاکستان کو ڈرانے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے
“برصغیر پہ تسلط قائم کرنے کے لئے “۔ اور پاکستان , بھارت کے جواب میں جوہری پروگرام تیار کرے گا
بھٹو کا اصرار ہے کہ پاکستان کا پروگرام پرامن مقاصد کے لئے ھوگا۔[11]
17 ستمبر 1974ڈاکٹر عبد القدیر خان وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستانی سفیر کے ذریعے خط لکھتے ہیں
بیلجیم میں یورینکو میں سینٹری فیوج پر مبنی یورینیم کی افزودگی ٹیکنالوجیز میں اپنی مہارت کی بابت تعارف کرواتے ھوئے پاکستان کو جوہری ہتھیاروں کے پروگرام میں اپنی خدمات پیش کرتے ھیں۔
ذوالفقار علی بھٹو, عبد القدیر خانخط کے کا بھرپور جواب دیتے ہیں اور پاکستان جوہری توانائی کمیشن کے چیئرمین کو ہدایت دیتے ہیں
(پی اے ای سی) ڈاکٹر منیر احمد خان اے کیو خان سے ملاقات کرنے کے احکامات جاری کرتے ھیں۔[11a]
۔
پہلی قسط _______________
[1] Sublette, Carey (10 September 2001). “Pakistan’s Nuclear Weapons Program – 1998: The Year of Testing”. nuclearweaponarchive.org. Retrieved 10 May 2012.

[2] The Myth of Independence
Bhutt o, pp. 196–399

[3] Khan, Munir Ahmad. “Chaghi Medal Award Ceremony”. Munir Ahmad Khan’s Speech on Chaghi Medal Award Ceremony.

[4] Steve Weissman & Herbert Krosney, “The Kindly Dr. Khan,” The Islamic Bomb: The Nuclear Threat to Israel and
the Middle East, (New York: 1981, Times Books), pp. 176-177.

[5] Shahid-ur-Rehman, “A Tale of Two Scientists,” Long Road to Chagai, (Islamabad: 1999, Print Wise Publication),
pp. 38-39

[6] Shahid-ur-Rehman, “A Tale of Two Scientists,” Long Road to Chagai, (Islamabad: 1999, Print Wise Publication),
pp. 36-37.

[7] Information Bank Abstracts, New York Times, 27 December 1973; in Lexis-Nexis Academic Universe, 27
December 1973, http://web.lexis-nexis.com.

[8] Shahid-ur-Rehman, “A Tale of Two Scientists,” Long Road to Chagai, (Islamabad: 1999, Print Wise Publication), p.41

[9] FIles. “1974 Nuclear files”. Nuclear Age Peace Foundation. Nuclear files archives. Retrieved 14 January 2013.

[10] Information Bank Abstracts, New York Times, 20 May 1974; in Lexis-Nexis Academic Universe, 20 May 1974,
http://web.lexis-nexis.com.

[11] Information Bank Abstracts, New York Times, 8 June 1974; in Lexis-Nexis Academic Universe, 8 June 1974,
http://web.lexis-nexis.com.

[11a] Shahid-ur-Rehman, “Dr. A.Q. Khan: Nothing Succeeds Like Success,” Long Road To Chagai

اپنا تبصرہ بھیجیں