خواتین کے حقوق کب بحال ہوں گے؟…خصوصی مراسلہ۔۔۔۔جہاں آرا ءوٹو

459907-violencewomen-1351906294-202-640x480

ابھی 8؍ مارچ کو ہی ہم نے ساری دنیا کے ساتھ عورتوں کے حقوق کا دن منایا ہے۔ خوب سیمینار ہوئے، ایوارڈ دیئے گئے، محفلیں سجیں۔
اگر ہمارے دین اسلام کی رُو سے دیکھا جائے تو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر سب سے پہلے جس نے بیعت کی اور اسلام کے دائرے میں داخل ہوئیں،وہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ آپؓ بیوہ تھیں اور تجارت کے شعبے سے منسلک تھیں۔ اس زمانے میں معاشرے کےہر شخص کو نہایت احترام کے ساتھ بلایا جاتا تھا،عموماً
کسی بھی شخص کو اس کے بیٹے یا بیٹی کی نسبت سے بلایا جاتا تھا۔

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھی ابوالقاسم اور ابو فاطمہ کی
کنیت سے پکارا جاتا تھا اور اس طرح اولاد اور والدین دونوں کے صاحب تکریم اور باعزت ہونے کا عملی درس دیا جاتا تھا۔ حضور کی بیٹی سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراؓ کمرے میں آتیں تو آپؐ احتراماً کھڑے ہو جاتے۔ مسلمان عورتوں کا تاریخ میں ایک خاص مقام ہے اور انہوں نے جنگوں میں حصہ لینے کے ساتھ کئی ملکوں پر حکمرانی بھی کی ہے۔ اگر ہم واقعی صدق دل سے اپنے دین کے سنہری اصولوں پر عمل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں خود بھی خیال رکھنا چاہئے اور دوسروں کو بھی تاکید کرنا چاہیئے کہ دین کے نام پر عورتوں اور بچیوں کا استحصال نہ کریں کیونکہ ہمارے مذہب نے عورت کو جو احترام دیا ہے، جو حقوق دیئے ہیں، جو آزادی دی ہے کسی اور مذہب میں اس کی مثال ناممکن ہے۔ جہاں تک پاکستانی معاشرے کا تعلق ہے تو مجھے فخر ہے کہ میں اُس قوم کی بیٹی ہوں جسے اسلام کی آغوش محبت میں پالا گیا ہے۔

اس قوم کو مسلمان ممالک میں یہ افتخار حاصل ہے کہ اس نے پہلی بار ایک خاتون کو ملک کی سربراہ بنایا۔ ملک میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ بلکہ کئی شعبوں میں ان سے بڑھ کر کام کر رہی ہیں۔ خاتون اسپیکر، وزیر اعظم، وزیر خارجہ بھی ہمارے ہی ملک میں بنی ہیں۔ بینکنگ، اورتجارت کے میدان میں بھی خواتین اپنی صلاحیتوں کا جوہر دکھا رہی ہیں۔ مگراس کے باوجود ان کی مدد اور رہنمائی کرنے کے بجائے انہیں زمانہ جاہلیت میں دھکیلا جا رہا ہے۔ میں خاص طور پر بات کروں گی اسلامی آئیڈیالوجی کونسل کی جس نے شادی کی عمر کے بارے میں صلاح دی ہے کہ بلوغت کو پہنچنے کے بعد ہی بچی، بچے کی شادی کر دی جائے۔ اس کی ضرورت اور جواز کیا ہے۔ ہمارے ملک میں تو موجودہ دور میں انتہائی کم سن بچے اور بچیاں بھی درندگی سے محفوظ نہیں، 90فیصد گھریلو عورتیں تشدد کا سامنا کرتی ہیں، بہو جہیز نہ لائے تو گیس کا چولہا پھٹ جاتا ہے، بیٹیوں کے پیدا ہونے پر اب بھی کئی بدنصیب روتے ہیں، جہاں جائیدادوں کو ابھی بھی کسی نہ کسی طرح صرف بیٹوں کو ہی دیا جاتا ہے، بیوہ کی دوسری شادی کو براسمجھا جاتا ہے ۔

مرد کو ذرا سا شک ہو جائے تو بیوی کو چھوڑ دینے کی بجائے اس پر تیزاب پھینک دیا جاتا ہے ۔ جہاں عورت ہی سب سے زیادہ بے سہارا ہے ۔ وہ کبھی بے توقیر ہےتو کبھی بے نظیر۔اس تفاوت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اور خواتین کے حقوق کے خلاف امتیازی قوانین کے خاتمے کے لئے ہمیں اب بھی بہت جدوجہد کرنا ہوگی۔

Source: Daily Jang

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں