وفاقی حکومت نے زبردستی کورونا پھیلایا، کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کی ہماری کوششوں کو زبردستی سبوتاژ کیاگیا: بلاول بھٹو زرداری

کراچی/اسلام آباد/لاہور/کوئٹہ/پشاور: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے زبردستی کورونا پھیلایا، کورونا کا پھیلاؤ روکنے کےلیے ہماری کوششوں کو سبوتاژ کیا گیا، وزیراعظم کہتے ہیں کہ کورونا وائرس پھیل چکا اور ہم کچھ نہیں کرسکتے لیکن پاکستان پیپلزپارٹی آخری دم تک عوام کو اس وبا سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کرے گی.

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کرونا کی صورتحال اور این ایف سی کے مسئلے پر صوبائی سطح پر اے پی سی بلانے کا بھی اعلان کردیا ہے، ہفتہ کی شام سندھ اسمبلی کے آڈیٹوریم میں چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

اس موقع پر ان کے ہمراہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہ، وزیراطلاعات ناصر حسین شاہ، وزیر تعلیم سعید غنی، مشیر وزیراعلی سندھ بیرسٹر مرتضی وہاب اور دیگر موجود تھے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیراعظم کہتے ہیں کہ کورونا وائرس پھیل چکا اور ہم کچھ نہیں کرسکتے ہماری رائے ہے کہ کورونا وائرس صرف پھیلا نہیں بلکہ زبردستی پھیلایاگیا ہے.

چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کی ہماری کوششوں کو زبردستی سبوتاژ کیاگیا، وفاق نے کام نہیں کرنا تھاتو کم ازکم دوسروں پر تنقید تو نہ کرتے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں اسپتالوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے، خدانخواستہ اگر یہی صورت حال رہی تو مریضوں کے لئے جگہ تک نہیں ہوگی، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سوال کیا کہ اس صورتحال کا میں کسے ذمہ دار ٹہراؤں؟ ڈاکٹرز اور نرسز آج تک چیخ رہے ہیں، چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ میری بات نہ مانیں فرنٹ لائن سولجرز کی بات تو سنیں، بیماری اور وبا کے بارے میں تاجروں اور معاشی ماہرین سے رائے لیں تو کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلے گا.

انہوں نے کہا کہ ہیلتھ ورکرز کو سیکیورٹی الاونس ملنا انکا حق ہے، ہیلتھ ورکرز اپنی جان کو خطرات میں ڈال رہے ہیں جبکہ دوسری جانب وفاقی حکومت کے نمائندوں کی جانب سے عوام کو ورغلایا جارہاہ، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مطالبہ کیا کہ پروپیگنڈا پھیلانے والوں پر بھی ایف آئی آر ہونی چاہیے، انہوں نے مزید کہا کہ ہم ڈاکٹرز اور اسپتالوں پر حملے کی مذمت کرتے ہیں.

وفاقی حکومت کے عدم تعاون کے باوجود سندھ حکومت وبا کے نقصان کو کم کرنے کی کوشش کرےگی، ہم کورونا ٹیسٹنگ کی استعداد بڑھاتے رہیں گے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ سندھ میں کورونا ٹیسٹنگ دیگر صوبوں سے زیادہ ہے، ہم ہیلتھ کیئر سہولیات میں مزید اضافہ کرینگے.

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اعدادوشمار سے کھیل کر عوام کو بیوقوف بنارہی ہے،ایچ ڈی یو میں مریض بڑھتے جارہے ہیں، خیبر پختونخواہ میں ٹیسٹنگ کی شرح سب سے کم ہے اور اموات زیادہ ہیں، انہوں نے سوال کیا کہ آخرکب تک پی ٹی آئی کی نالائقی کو برداشت کریں،کیا کسی نے پی ٹی آئی سے اس صورتحال پر پوچھا ہے؟

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اپنا رویہ درست کرے،وفاقی حکومت نے عوام ڈاکٹرز نرسز کو لاوارث چھوڑ دی ہے، انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت غریب کا نام لے کر امیر کا کام کررہی ہے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ اسٹیل مل پر پیپلزپارٹی کا موقف واضح ہے۔ وباکے دوران دس ہزار لوگوں کو بیروزگار کرنے کا کیا جواز ہے، ہم اسٹیل مل کے مزدوروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں.

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی ایک سال سے ٹڈی دل پر حکومت کو خبردار کرتی آرہی ہے کیونکہ ٹڈی دل سے زراعت کو نقصان پہنچے گا، ٹڈی دل کے خاتمے کی آئینی اعتبار سے ذمہ داری وفاق کی ہے، جسے وہ پوری کرنے کو تیار نہیں، اگر وفاق نے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی تو مستقبل میں فوڈ سیکیورٹی کے مسئلے سے ہر شہری متاثر ہوگا.

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے مئی جون میں ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے فضائی اسپرے کا وعدہ کیا جسے پورا نہیں کیا گیا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انہیں این ایف سی کے معاملے پر بھی تحفظات ہیں، سندھ اسمبلی آڈیٹوریم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بتایا کہ پاکستان پیپلزپارٹی صوبائی سطح پر اے پی سی بلارہی ہے جس میں کورونا اور این ایف سی کے مسئلے پربات ہوگی.

صوبائی اے پی سیز میں قومی مالیاتی کمیشن پر دیگر جماعتوں سے بھی مشاورت کرینگے، انہوں نے سوال کیا کہ اس وقت وفاق اپنی کون سی ذمہ داری پوری کررہاہے، عالمی وبا کا مقابلہ کرنے کے لئے وفاق تیار نہیں، چئیرمین پی پی پی نے کہا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان وفاق کے زیر انتظام ہیں، وفاقی حکومت آزاد کشمیر گلگت بلتستان کی مالی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہونا چاہتی ہے، ایسا کرکے کشمیر بیچنے کا الزام آپ خود اپنے اوپر سچ ثابت کررہے ہیں.

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سوال اٹھایا کہ آزاد کشمیر کو صوبے کا درجہ دے کر وفاقی حکومت دنیا کو کیا پیغام بھیجنا چاہتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دینا ہے تو آئین میں ترمیم کریں، آزادکشمیر کے بارے میں وفاقی حکومت کا پیغام بہت خطرناک ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اسٹیل ملز کے معاملے پر نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کا موقف یکساں نہیں، عالمی وبا کے دوران حکومت کسی ملازم کو فارغ نہیں کرسکتی.

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت وزیروں معاونین خصوصی کی فوج کا پیسہ کاٹے لیکن غریبوں کو بے روزگار نہ کرے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کو ایک سازش کے تحت سنبھالا نہیں جارہا، پی آئی اے کے طیارے کا حادثہ انتہائی افسوسناک ہے، انہوں نے کہا کہ فضائی حادثے پر بھی وفاقی حکومت کہے گی یہ ہماری ذمہ داری نہیں ہے.

انہوں نے کہا کہ یہ بیمار ذہنیت ہے کہ بہادر پائلٹ پر حادثے کا الزام ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے اور یہ کتنی شرمناک بات ہے کہ پی آئی اے طیارہ سانحے کے متاثرین کو لاوارث چھوڑ دیا گی، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ عجیب بات ہے کہ کورونا آیا تو کہتے ہیں کہ ڈرامہ چلادو اورپی آئی اے سانحے کے دوران وزیراعظم نتھیا گلی چلے گئے تھے، انہوں نے کہا کہ ہم آخری دم تک عوام کو وبا سے بچانے کی کوشش کرینگے.

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ویت نام اور ہمارے وسائل کا موازنہ کیاجاسکتاہے ویت نام نے فوری اقدامات کرکے کورونا سے اپنی معیشت اور عوام کو بچایا، انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وبا کے دوران سنجیدہ سیاست کی ضرورت ہے، صحافی عزیز میمن کے قتل کا الزام ہماری جماعت پر لگانے کی کوشش کی گئی، قتل کی انکوائری سے صحافی برادری کا متفق ہونا خوش آئند ہے،

ایک سوال کے جواب میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ لاک ڈاون سمیت دیگرآپشنز سندھ حکومت کے پاس ہیں، سندھ حکومت نے اپنے لوگوں کے تحفظ کےلیے روز اول سے اقدامات کئے ہیں لیکن وفاقی حکومت نے ہماری مدد نہیں کی اورغلط معلومات شہریوں کو دی جاتی رہیں۔انہوں نے کہا کہ جب حکومت اپنے فیصلے تبدیل کرتی رہی تو پاکستان میں کنفیوژن پیدا ہوئی۔

انہوں نے دریافت کیا کہ وزیراعظم سندھ پر کیوں تنقید کرتے ہیں، کیا وزیر اعظم کو پتہ نہہں کہ پنجاب خیبر پختونخواہ میں صحت عامہ کی کیاصورتحال ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ سندھ حکومت پر وزیراعظم کی تنقید غیر منصفانہ اور سیاسی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں