صدر صاحب سے ایک ملاقات – عالیہ شاہ

10-22-2012_18329_l_T

اقبال نے کہا تھا
سلسلہ روز و شب نقش گر حادثات   سلسلہ روز و شب اصل ممات و حیات

تجھ کہ پرکھتا ہے یہ مجھ کو پرکھتا ہے یہ سلسلہ روز و شب صیرفی کاینات

روز و شب کے اس سلسلے نے صدر زرداری کو ہر لمحہ پرکھا ہے ۔پانچ سال کی مدت پوری کر لینے کے بعد آ خر کار پیپلز پارٹی حالیہ الیکشن میں کامیابی حاصل نہ کر پائی۔سب کا خیال تھا کہ صدر صاحب کی جادو کی چھڑی چلے گی اور اگلے پانچ برس بھی وہ صدارت کے تخت پر براجمان رہنے کی سند حاصل کر لیں گے ۔۔۔لیکن ایسا نہ ہو سکا۔وہ شخص جس کو مرد آہن کہا جاتا رہا ،جس نے گزشتہ پانچ سالوں میں مشکل سے مشکل گھڑی سے نکلنے کا گر جان لیا تھا ،وہ ان انتخابات میں وقت کے ہاتھوں مات کھا گیا۔اگرچہ ان سے مل کر ایسا بلکل محسوس نہیں ہوا کہ وہ ایک ہارے ہوئے شخص ہیں،یا ہار جیت کی بازی میں مات کھائے ہوئے کھلاڑی ہیں۔وہ انتہائی ہشاش بشاش دکھائی دکھائی دے رہے تھے۔کٹھن حالات میں حوصلہ مندی اور جرات دکھانے کا یہ فن وہ اپنے جیل کے دنوں میں سیکھ چکے ہیں۔
لاہور کے بلاول ہاوس میں بیٹھ کر ان کا یہ کہنا کہ اب وہ لاہور میں ڈیرے لگائیں گے اور پیپلز پارٹی کی تنطیم نو کریں گے،پیپلز پارٹی کے ان ورکرز کے لئے یقیناًخوش آئیند بات ہو گی جو انتخابات کے نتایج کے بعد انتہائی مایوس دکھائی دیتے تھے ان میں سے بیشتر ٹکٹوں کی تقسیم پر سخت نا خوش تھے۔یہی وجہ ہے کہ لاہور کے بلاول ہاوس میں ناراض کارکنوں نے اپنے دل کے پھپھولے پھوڑے ہیں۔سیفما کی جانب سے صدر صاحب سے ملنے کے لیے جانیوالے وفد کا خیال تھا کہ زیادہ سخت سوال نہ کئے جائیں اس کے باوجود یہاں تک کہا گیا کہ صدر صاحب لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ نے بھٹو کی پیپلز پارٹی کو دفن کر دیا ہے۔یہ سب آپ کا کیا دھرا ہے جو پیپلز پارٹی ان حالون کو پہنچی ہے۔صدر صاحب نے انتہائی سخت سوالات کو بھی خندہ پیشانی سے سن تو لیا مگر یہ تو خدا بہتر جانتا ہے کہ انھوں نے دل ہی دل میں ان باتوں سے اتفاق کیا یا ان کو مسترد کیا۔وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی جادو کی چھڑی اپنا جادو نہیں دکھا پائی ،یہ کہتے ہوئے صاف ظاہر تھا کہ ان کو اس بات کا خاصا قلق ہے کہ حالات و واقعات نے کچھ ایسی چال چلی ہے کہ وہ اپنے منصوبوں کو عملی جامہ نہ پہنا سکے۔اس تنا ظر میں وہ خاص طور پر آر ۔اوز کا ذکر کرتے ہیں کہ اگر ایسے ریٹرننگ آفیسرز ان کے پاس ہوتے تو وہ بھی الیکشن میں کامیابی حاصل کر سکتے تھے۔سوال یہ ہے کہ ایسی بات تھی تو دوسروں کی طرح انھوں نے ایسے آر ۔اوز کا اپنے لئے قبل از وقت انتظام کیوں نہ کیا۔شاید بات اس سے کچھ بڑھ کر ہے ،جس میں پیپلز پارٹی کا طالبان کی دھمکیوں کی وجہ سے انتخابی مہم نہ چلاپانا بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر پانچ سالوں میں بجلی کی فراہمی کے
سلسلے میں کچھ بھی نہ کر پانا ،شکست کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اس پر سوا کچھ وزیروں مشیروں اور ان کے بچوں کی کرپشن کے زبان زد عام قصوں نے بھی لوگوں کو بد ظن کیا۔بیڈ گورننس بھی پچھلی حکومت کا خاصہ رہی۔صدر صاحب نے میری اس بات کو تسلیم کیا کہ گلگت بلتستان ،فاٹا کرائیمز ،آٹھویں ترمیم ،ایران گیس پائپ لائن اور گوادر پورٹ جیسے بہادرانہ اقدام اور انتہائی مشکل فیصلوں پر عملدرآمد ر کام کے باوجود بجلی کی طویل بندشوں نے عوام کو ان کی پارٹی سے بد ظن کر دیاجو ان کی شکست کا سبب بنا۔وہ ان سب اقدامات کے بجائے ایک بجلی کا شعبہ د رست کر لیتے اور لود ڈ شیڈنگ کا کوئی حل نکال لیتے تو ان کی جماعت کا پنجاب میں یہ حال نہ ہوتا۔لیکن صدر صاحب کا یہ بھی ماننا ہے کہ عالمی طاقتوں کو یہ پسند نہیں آیا کہ وہ انھوں نے گوادر کو چین کے حوالے کر کے پاکستان کو اقتصادی ترقی کی عظیم شاہراہ پر دھکیل دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کو اقتدار میں آنے سے روک دیا گیا۔
میرے اس سوال پر کہ کرسی صدارت پر نہ ہوتے ہوئے ان کو پاکستان میں کئی خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ان کا کہنا تھا۔۔موت تو رات کو سوتے میں بھی آ سکتی ہے تو پھر موت سے ڈرنا کیسا؟۔۔۔
میرے اس سوال پر کہ آیا بلاول بھٹو زرداری اگلے الیکشن میں حصہ لیں گے ان کا کہنا تھا ۔۔نہ صرف بلاول بلکہ میرے تینوں بچے سیاست میں آیءں گے۔اب نئی نسل سیاست کو آگے بڑھائے گی۔صدر صاحب نے منظور وٹو اور پنجاب کی سیاست اور ٹکٹو ں کی تقسیم پر سخت حملوں کو سہا اور اپنی کچھ غلطیوں کو تسلیم بھی کیا۔
یہ بات طے ہے کہ صدر آصف زرداری ملک میں ہی رہنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔بلکہ اب وہ پنجاب میں ڈیرے لگانا چاہتے ہیں۔ان کا آیندہ لایحہ عمل کیا ہو گا یہ تو آنیولا وقت بتائے گا۔کیا وہ مستقبل میں دوبارہ صدارت یا اس جیسے کسی اہم عہدے پر متمکن ہونے کا خواب دیکھ رہے ہیں یہ تو فی الوقت صرف وہی جانتے ہیں،ان کا ایسا کوئی خواب پورا ہو گا یا نہیں اس کا فیصلہ وقت ان کی ہمت اور حوصلے کو ایک بار پھر پرکھ لینے کے بعد ہی کرے گا۔بہر حال صدر صاحب ایک بار پھر اپنی ہمتیں مجتمع کر چکے ہیں۔دیکھتے ہیں مستقبل میں ان کی جادو کی چھڑی جادو کر پاتی ہے یا نہیں۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں