نئے پاکستان میں خواتین کی کوئی جگہ نہیں …! فاضل جمیلی

51afef4ed0b5a

الیکشن بھی ہو گئے ، مرکز سے لے کر صوبوں میں نئی حکومتیں بھی بن گئیں ۔ایک بھائی وزیراعظم تو ایک بھائی وزیراعلیٰ ۔اسی سالہ نوجوان سید قائم علی شاہ بھی تیسری بار وزیراعلیٰ بن کر میاں صاحب کی تیسری باری کے عالمی ریکارڈ میں شراکت دار ٹھہرے۔جیتنے والی تمام پارٹیوں کی خواتین بھی بڑی تعداد میں اسمبلیوں میں موجود ہیں لیکن یہ کیا کہ مرکز سے لے کر کسی بھی صوبائی حکومت میں خواتین کی نمائندگی آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ۔نوازلیگ باالخصوص اس جنسی امتیاز کو آگے بڑھانے میں پیش پیش ہے ۔ رہی سہی کسر نیا پاکستان تشکیل دینے کی دعویدار تحریک انصاف نے پوری کر دی ہے۔

Imran-Khan-Pervaiz-Khattak-s-nex-tKPchief-minister

مرکز اور پنجاب میں نوازلیگ نے اسپیکر ، ڈپٹی اسپیکر کے لیے کسی خاتون کو نامزد نہیں کیا جبکہ خیبر پختونخوا میں خواتین کے ساتھ یہی ناانصافی تحریک انصاف نے کی ہے۔ پیپلزپارٹی نے سندھ میں سیدہ شہلا رضا کو دوسری بار ڈپٹی اسپیکر بنا کر باقی جماعتوں کو آئینہ دکھانے کی کوشش ضرور کی ہے ۔لیکن پہلے مرحلے میں سندھ کابینہ میں کسی خاتون کو وزیر نامزد نہ کر کے وہی کام کیا ہے جو میاں برادران نے مرکز اور پنجاب میں اور عمران خان کی تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں انجام دیا ہے۔ رہی بات بلوچستان کی تو وہاں جنسی مساوات تو دور کی بات ، عوامی نمائندگی ہی کا فقدان ہے۔پچھلی حکومتوں میں نہ صرف خواتین وزراء نے اپنی ذمہ داریاں مرد وزراء سے زیادہ احسن طریقے سے انجام دیں بلکہ پارلیمنٹ کے اندر ہونے والی قانون سازی میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔دوست احباب کہہ سکتے ہیں کہ تسلی رکھیں، اگلے مرحلے میں تمام حکومتیں خواتین کی نمائندگی کو یقینی بنائیں گی ۔خواتین وزیر بھی بنیں گی اور مشیر بھی ۔کہیں کوئی جگہ بچ گئی تو ہو سکتا ہے سفیر بھی لگا دی جائیں ۔بالکل اسی طرح جس طرح اگلے وقتوں میں روایتی گھرانوں میں گھر میں جو بھی اچھی چیز پکائی جائے ، سب سے پہلے مردحضرات کو پیش کی جاتی تھی اور بچا کھچا کھاناخواتین کے نصیب میں آتا تھا ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے جب میں چھوٹا سا تھا تو دادی اماں جو بھی چیز پکاتیں سب سے پہلے مجھے کھلاتی تھیں اور میرے بعد میری بہنوں کے نصیب میں آتا تھا۔آج ہمارے گھر میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ اگر ہم اپنے گھروں میں اس ناانصافی کو دور کر چکے ہیں تو حکومتوں کی سطح پر خواتین کے ساتھ ہونے والے اس امتیاز کو کب دور کریں گے ۔ کیا یہ سمجھ لینا چاہیے کہ نئے پاکستان میں بھی خواتین کی کوئی جگہ نہیں ؟

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں