صحافت کے بغیر ایک منصف معاشرے کی تشکیل ممکن نہیں ہے: خرم جہانگیر وٹو

خرم جہانگیر وٹو نے کہا کہ وہ صحافیوں کے لیے انشورنس، رہائشی کالونی، علاج معالجہ، تنخواہ اور دیگر مراعات کے لیے پنجاب اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں بل پیش کریں گے

hqdefault

ساہیوال (نمائندہ جنگ) مسلح جتھے نسل اور مذہب کے نام پر اپنی مرضی مسلط کرنے کے لیے پاکستان کو درپیش سنگین خطرات پیدا کر رہے ہیں۔ حکومت، اپوزیشن، افواج پاکستان اور میڈیا مل کر اس دہشت گردی کا مقابلہ کریں۔ جیو کے معاملے میں حکومت صرف ذمہ داران کو سزا دے۔ ڈیکلیریشن کی معطلی سے ہزاروں صحافیوں اور ملازمین کا استحصال ہو گا۔ کسی صحافتی ادارے کو بند نہیں ہونے دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار ریجنل یونین آف جرنلسٹس پنجاب کے دوسرے یوم تاسیس کے موقع پر پاکستان کے سینئر صحافی، مجیب الرحمٰن شامی، صدر پریس کلب لاہور ارشد انصاری، جماعت اسلامی کے رہنما فرید پراچہ، ممبر صوبائی اسمبلی پنجاب اور پیپلز پارٹی کے رہنما خرم جہانگیر وٹو اور صدر ریجنل یونین آف جرنلسٹس پنجاب سید شفقت حسین گیلانی نے خطاب کے دوران کیا۔ مجیب الرحمٰن شامی نے کہا کہ آج صحافت، سیاست اور ریاست تینوں کو سنگین خطرات درپیش ہیں۔ پاکستان کی سالمیت خطرے میں ہے۔ دہشت گردی، مہنگائی، لوڈشیڈنگ کے عفریت سر اٹھائے کھڑے ہیں، اس کا مقابلہ کرنے کے لئے حکومت، افواج پاکستان اور میڈیا کو مل کر چلنا ہو گا۔خرم جہانگیر وٹو نے کہا کہ صحافت کے بغیر ایک منصف معاشرے کی تشکیل ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ صحافیوں کے لیے انشورنس، رہائشی کالونی، علاج معالجہ، تنخواہ اور دیگر مراعات کے لیے پنجاب اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں بل پیش کریں گے۔ لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے یقین دلایا کہ لاہور کے صحافی علاقائی صحافیوں کے حقوق کے حصول کے لیے کسی بھی سطح تک ان کے ساتھ چلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جیو کی بندش ختم نہ کی گئی اور اسے اسکی سابقہ پوزیشن پر بحال نہ کیا گیا تو پھر فیصلہ سڑکوں پر ہو گا۔ فرید پراچہ نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ماضی میں پہلی بار صحافیوں کے حقوق کا بل سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں میں پیش کیا تھا۔ ہم آج بھی صحافیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ تقریب سے سید شفقت گیلانی، سینئر نائب صدر رائے سجاد کھرل اور جنرل سیکرٹری عابد حسین مغل نے بھی خطاب کیا۔

Source: Daily Jang

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں