بجٹ کا اعلان , مہنگائی کا طوفان , سیکڑوں مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ

پٹرول کی نئی قیمت100.63روپے ،ہائی سپیڈ ڈیزل105.50روپے ،ہائی اوکٹین 136.30روپے ،مٹی کا تیل 94.59روپے اورلائٹ ڈیزل کی قیمت 89.90روپے فی لٹر مقرر ،سی این جی 47پیسے تک مہنگی ٹافی،بسکٹ ،دودھ، آئس کریم اورپیپمر تک ہر پیک چیز کی قیمت میں 1سے 17فی صد اضافہ،ٹیکسٹائل اور چمڑے کے ملبوسات و جوتے ،بجلی اور گیس سے چلنے والے آلات پربھی سیلز ٹیکس کی شرح 1فی صد بڑھادی گئی
151364_24010006
لاہور،اسلام آباد ( کامرس رپور ٹر،سٹی رپورٹر،نامہ نگار ،جنرل رپورٹر سے ،خبرنگار خصوصی ) بجٹ کا اعلان ہو تے ہی عوام کو مہنگائی کے طو فان نے آلیا ،سیلز ٹیکس کی شرح میں ایک فیصد اضافہ کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ کرکے مہنگائی کا بم گرادیاگیا ، پٹرول 86پیسے ،ہائی سپیڈ ڈیزل 90پیسے ،ہائی اوکٹین1.35روپے ،مٹی کا تیل 80پیسے اورلائٹ ڈیزل 77پیسے فی لٹر مہنگا کردیا گیا ہے ۔قیمتوں میں اضافہ کے بعد پٹرول کی نئی قیمت100.63روپے فی لٹر،ہائی سپیڈ ڈیزل 105.50 روپے ،ہائی اوکٹین 136.30روپے ،مٹی کاتیل 94.59 روپے اورلائٹ ڈیزل کی نئی قیمت89.90روپے ہوگئی ہے ۔ دو سر ی جانب خیبرپختونخوا ،پوٹھوہاراوربلوچستان کیلئے سی این جی 47پیسے ،پنجاب اورسندھ کیلئے 40پیسے فی کلو مہنگی کردی گئی ،ریجن ون میں سی این جی کی نئی قیمت 74.91روپے اورریجن ٹو میں 66.81 روپے فی کلو ہوگئی ہے یکم جولائی سے بجلی کی قیمت میں بھی 2 روپے فی یونٹ اور گیس کے نرخوں میں بھی اضافے کا امکان ہے ۔ سیلز ٹیکس کی شرح میں 1 فیصد اضافے اور سیلز ٹیکس ایکٹ میں ردوبدل سے بچے کی ٹافی سے لے کر بسکٹ ،دودھ آئس کریم سے لے کر پیپمر تک ہر پیک چیز کی قیمت میں 1 سے 17 فی صد اضافہ ہو گیا ، بجٹ دستاویزات میں وفاقی حکومت نے ٹیکسٹائل اور چمڑے کے ملبوسات و جوتے ، بستروں کی چادریں جو پیکنگ میں فروخت کے لئے پیش کی جاتی ہیں، ان پر 17 فی صد سیلز ٹیکس عائد کر دیا۔ اسی طرح گھروں میں استعمال ہونے والے بجلی اور گیس سے چلنے والے آلات، بشمول ائیرکنڈیشنر، ریفریجریٹر، ڈیپ فریزر، ٹیلی ویڑن، ریکارڈر، پلئیر، الیکٹرک بلب، ٹیوب لائٹس، پنکھے ، بجلی کی استری، واشنگ مشین، ٹیلی فون سیٹ، کوکنگ رینج، اوون، گیزرز، پر سیلز ٹیکس کی شرح میں 1 فی صد اضافہ کر دیا گیا ۔ گھروں میں استعمال ہونے والے فوم اور سپرنگ میٹرس، پیکنگ میں فروخت ہونے والے آٹو پارٹس، لبریکیٹنگ آئلز، بریک فلیوڈ، ٹرانسمیشن آئل اور گاڑیوں و موٹرسائیکلوں میں استعمال ہونے والے دیگر پیک تیل اور ہر قسم کے ٹائر، ٹیوب، بیٹریوں پر بھی سیلز ٹیکس کی شرح 17 فی صد کر دی گئی ہے ۔ دیگر اشیاء جن پر 17 فی صد سیلز ٹیکس لاگو ہو گا ان میں رنگ روغن، ڈسٹمپر، انیمل، وارنش، پگمنٹس، کلرز، گم، ریزنز، ڈائیز، تھنر، لیکر اور پالش، کھادیں، سیمنٹ، ٹائلیں، بسکٹس، کنفکشنری، چاکلیٹس، گولی ٹافی، اسلحہ اور ریٹیل میں فروخت ہونے والی ایسی تمام اشیا شامل ہیں جو پیکنگ میں فروخت کے لئے پیش کی جاتی ہیں۔ لاہور ٹیکس بار کے سابق صدر محمد اویس کا کہنا ہے کہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ء کے تیسرے شیڈول کا بنیادی مقصد ہول سیل اور ریٹیل کے غیر دستاویزی شعبوں کو بالواسطہ طریقے سے ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا ہے ، سیلز ٹیکس ایکٹ کے تیسرے شیڈول میں 20 کے قریب اشیا پہلے ہی موجود تھیں، جن میں پھلوں سبزیوں کے پیک جوس، بوتلیں، سکوائش، سیرپس، آئس کریم، مشروبات ، سگریٹ، منہ دھونے کا صابن، ڈیٹرجنٹس، شیمپو، ٹوٹھ پیسٹ، شیونگ کریم، پرفیومری اور کاسمیٹکس، چائے ، پاوڈر ، ٹشو پیپرز، پیک مصالحہ جات، بجلی کے بلب انرجی سیورز، ٹیوب لائٹس، آلو کے پیک چپس اور جوتوں کی پالش شامل ہیں، جن پر صارفین پہلے 16 فی صد سیلز ٹیکس ادا کر رہے تھے اور اب یہ شرح 17 فی صد کر دی گئی ۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ بجٹ سے ایک دو دن پہلے سے ہی بیشتر کمپنیوں نے مال کی فراہمی بند کر دی تھی، شہری یہ شکایت کرتے دکھائی دئیے کہ وفاقی حکومت نے بجٹ کا اعلان کیا کیا ہے ہر شخص منہ مانگی قیمت وصول کر رہا ہے ، کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ اصل میں بجٹ کا عام آدمی کی زندگی پر کیا فرق پڑنے والا ہے ۔ روزنامہ دنیا کے سر وے کے مطا بق دودھ کا ڈبہ 92 سے بڑھ کر 110 روپے ۔اچھی کوالٹی کے چاول 160 سے بڑھا کر180 روپے فی کلو ، 54روپے کلو بکنے والی چینی 68 ، گھی 180 سے 210،دال چنا 80 سے 88 روپے فی کلو، دال ماش 160 سے 172 روپے کلو،بیسن سو روپے سے بڑھا کر 111 روپے کلو ، گڑ 80 روپے سے بڑھا کر 94 روپے کر دیا گیا جبکہ اسی طرح ایک کلو دودھ کی قیمت 60 روپے سے بڑھا کر 80 روپے ، دہی 62 روپے سے بڑھا کر 84 روپے ، کھلا دیسی گھی 600 سے بڑھ کر 770 میں فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ سبزی اور پھلوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے ۔ تاجروں نے اپنی تیار کر دہ فہر ست آویزاں کر دی، مارکیٹ میں بعض جگہ پر د کانداروں اور گاہکوں کے درمیان تلخ کلامی بھی دیکھنے میں آئی بجٹ کے بعد پھلوں اور سبزیوں کے ریٹ بھی بڑھ گئے ۔ الیکٹرانک مارکیٹ میں تاجروں نے من مانی شرو ع کر دی اور ازخود نئی قیمتیں مقرر کر دیں جس کے مطا بق ڈیڑھ ٹن کے سپلٹ اے سی 500روپے ،مائیکرو او ون 150روپے ،آٹو میٹک واشنگ مشین 300روپے ،عام واشنگ مشین 120روپے ،فریزر400روپے ،فریج 350روپے مہنگی کر دی ۔نئی حکومت نے جنرل سیلز ٹیکس میں ایک فیصد اضافہ یکم جولائی سے قبل اورپارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر ہی نافذ کردیا ،بجٹ سے اگلے ہی روز ٹیکسوں کے نفاذ پرلوگوں نے سرپکڑلئے ،سیلز ٹیکس کیابڑھا ،اشیاخورو نوش کی قیمتوں کو بھی پر لگ گئے ،چینی خریدنے جائیں گے تو قیمت اب کاٹ کھانے کو دوڑے گی ،عام آدمی کی جیب نچوڑی جائے گی ،آج کے بعد کھانے کے مصالحے ہانڈی کا تو کیا مزہ دوبالا کریں گے ،قیمت سن کر منہ کا مزہ کرکرا نہ ہو جائے تو نام بدل دیجیے گا۔رمضان سے پہلے ہی شربت کی قیمت کڑوی دواؤں کی طرح نگلنی پڑے گی۔صابن ایسی دھلائی کریں گے کہ طبیعت صاف ہو جائے گی،یہ سب کرامات ایک فیصد جی ایس ٹی کی ہوں گی ۔ ایف بی آر نے جمعرات کو ایک اعلامیے میں کہا ہے کہ بجٹ میں کسٹم ڈیوٹی سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائزڈیوٹی کے نئے نرخوں کا اطلاق فوری ہوگا اور یہ جمعرات سے نافذ
العمل ہوگیا جبکہ انکم ٹیکس میں اضافے کا اطلاق یکم جولائی سے کیا جائے گا۔ٹیکس ماہرین کے مطابق حکومت نے سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے کے ساتھ ساتھ انتہائی چالاکی سے غیر سیلز ٹیکس رجسٹرڈ کاروباروں کے بجلی اور گیس کے بلوں پر بھی 5 فی صد اضافی سیلز ٹیکس عائد کیا جس کے نتیجے میں پیداواری لاگت بڑھنے سے سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ نہ ہونے کے باوجود ان مینوفیکچررز کی اشیا بھی خوبخود مہنگی ہو جائیں گی۔دوسری جانب آئندہ مالی سال میں بجلی کے ٹیرف میں 2روپے 50پیسے فی یونٹ اضافہ کیاجانے کا امکان ہے ،یہ اضافہ مرحلہ وار بنیاد پرکیا جائے گا، لائف لائن صارفین کوسبسڈی مہیا کی جائے گی ، 300یونٹس تک کم ٹیرف سبسڈی فراہم کی جائے گی۔
Source: Roznama Dunya

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں