پانچ جولائی 1977 کا یومِ سیاہ —— تحریر و تحقیق محمد ضرار یوسف

ضیاء کا عوامی حکومت پر شب خون مارنا کوئی اچانک یا عجلت میں کئے گئے فیصلے پہ عملدرآمد نہیں تھا ۔ جنرل ضیاء جس کو اپریشن فیئر پلے ( Operation Fair Play ) کا نام دیتا تھا دراصل فاؤل پلے ( Operation Foul Play) تھا۔
یہ شطرنج کے مہروں کی چال کی وہ چال تھی جس کے بعد عالمی غنڈہ ریاست پاکستان کے تمام معاملات اپنے وفادار کٹھپتلیوں کے ذریعے چلانے اور اگست 1976 میں قائد عوام جناب ذوالفقار علی بھٹو کو دی گئی دھمکی کہ “تم کو عبرت ناک مثال بنا دیں گے” پر عملدرآمد کر کے تیسری دنیا کی پر پرزے نکالنے کی کوشش کرنے والی ریاستوں کو بھی خبردار کرنا مقصود تھا کہ
ھم ایسے مہرے چلا کر آپ کے خوابوں کو نیست و نابود کر دیا کرتے ھیں ۔

جس طرح ذوالفقار علی بھٹو 1965 سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کے لئے سرتوڑ کوشش کر رھے تھے اسی طرح امریکہ ذوالفقار علی بھٹو کو روکنے اور ان کے ارادوں کو شکست دینے کے لئے پاکستان میں غدار مہرے  تلاش کر رھا تھا ۔

امریکہ نے اپنا ایک ایجنٹ پاکستان کے غدار ضیاع کی صورت میں چھان پھٹک کے بعد تیار کرنا شروع کر دیا تھا ۔

جیک او کونل ( Jack O’Connell ) ایک امریکی انٹیلی جنس اہلکار، وکیل، سفارت کار و مصنف تھا۔
اور اردن کے شاہ حسین کا ایک اہم مشیر اور اعتراف کار تھا۔
وہ اپنی یادداشت میں لکھتا ھے ۔
“عمان اردن کا آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا شہر جبکہ اربد آبادی کے لحاظ سے دوسرا یا تیسرا بڑا شہر ھے اربد شہر اردن کے نقشے پہ ایک کونے میں واقعہ گنبد بنا دکھائی دیتا ھے ۔ اس شہر کی سرحدیں  شمال میں شام اور مغرب میں اسرائیل اور فلسطین سے ملتی ہے۔ جس کے مغرب میں اردن کا مغربی کنارہ، اوپر کی طرف فلسطین کا علاقہ غزہ کی پٹی اور گولان کی پہاڑیاں ھیں جس پر اسرائیل نے 1969 میں  قبضہ کرلیا تھا ۔ اور فلسطینوں کو دھکیل کر اردن کے شہر آربد اور عمان میں پناہ گزینوں کے کیمپوں میں رھائش پذیر ہونے کے لئے مجبور کردیا ۔ فلسطینی آربد شہر سے اسرائیل پر گولا باری کرکے اسرائیل کی ناک میں دم کر رکھا تھا ۔ ان دنوں فلسطینی مجاھدین اور فدائین کے حملے اس قدر منظم اور طاقتور تھے کہ امکان غالب تھا کہ اسرائیل سے وہ اپنے مقبوضہ علاقے خالی کروا سکتے تھے ۔ امریکہ اور سوئٹزرلینڈ کی سرکاری طور پر اسرائیل کی مدد کرنے کی وجہ سے فلسطینیوں میں دونوں ملکوں سے نفرت پیدا ھوگئی ۔ جس پہ فلسطینی مجاھدین کا ایک گروپ جو فدائین کہلاتا تھا اس نے امریکہ اور سوئس ائیر کے شہری ھوا بازی کے طیارے اغوا کرکے اردن کے الزرقا ائر پورٹ پہ اتارے اور تمام مسافروں کو رھا کرکے طیارے جلا کر بھسم کردیئے ۔
اس دوران اردن کے شاہ حسین پر یکے بعد دیگرے دو قاتلانہ حملے بھی ھوئے۔ اور ان حملوں کا الزام فلسطینیوں پہ عائد کیا گیا جس کی پی ایل او کے یاسر عرفات, خلیل ابراھیم الوزیر, وليد أحمد نمر اور نايف حواتمة‎ سمیت تمام فلسطینی کمانڈروں نے سختی سے تردید کی ۔
اس وقت پاکستانی فوج کا برگیڈیئر ضیاء پچھلے تین سال سے اردن کی فوج کو تربیت کی غرض سے اردن میں تعینات تھا ۔
جون 1971 کو فدائین کے حملوں کے جواب میں سی آئی ائے, اسرائیل اور اردنی افواج نے مشترکہ آپریشن کا فیصلہ کیا ۔
اس اپریشن میں اردن کی افواج اور اتحادی افواج کی مشترکہ قیادت برگیڈیئر ضیاع کر رھا تھا ۔
ایک مشترکہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر بنایا گیا اس آپریشن کے دوران گولان کی پہاڑیوں ۔ غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے سے اسرائیلی توپ خانہ کے ذریعے گولہ باری اور ھوائی جہازوں کے ذریعے بمباری کی گئی ۔ کنٹرول سینٹر سے فلسطینوں پر ھوائی جہاز کے ذریعے بمباری کے لئے نشاندھی کی جاتی ۔ 
آخرکار زمینی اور ھوائی حملوں میں پچیس ھزار فلسطینی شہید ھو گئے اس قدر وسیع پیمانے پہ قتل عام کے بعد بچے کھچے فلسطینوں کو براستہ شام لبنان ھجرت کر جانے کی اجازت دے دی گئی ۔
6۔ ستمبر 1970 سے 17۔ جولائی 1971 کے عرصے میں پیش آنے والے واقعات کو بلیک ستمبر ( Black September ) یا “أيلول الأسود‎” کے نام سے منسوب کیا گیا ۔ 
برگیڈیئرضیاء نے اسرائیل اور امریکی سی آئی ائے کے لئے خدمت انجام دے کر اور خود کو ان کا وفادار ثابت کر کے اپنے لئے نئی راھیں تلاش کر لیں تھیں۔
برگیڈیر ضیاء کی کارکردگی اسرائیل اور امریکہ کے لئے قابل تحسین و تعریف تھی” ۔
( جاری ھے )

اپنا تبصرہ بھیجیں