سپریم کورٹ کے جج قاضی فائز عیسیٰ نے دس رکنی بینچ کے سامنے جو ڈاکومنٹ پیش کیا ہے کہ وزیراعظم اور ان کے مشیروں کی بھی برطانیہ میں جائیدادیں ہیں اس پر بھی جے آئی ٹی بننی چاہیے: ترجمان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری

اسلام آباد( ویب ڈیسک)پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما و ترجمان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج قاضی فائز عیسیٰ نے دس رکنی بینچ کے سامنے جو ڈاکومنٹ پیش کیا ہے کہ وزیراعظم اور ان کے مشیروں کی بھی برطانیہ میں جائیدادیں ہیں اس پر بھی جے آئی ٹی بننی چاہیے جس طرح نواز شریف ، آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے کیسوں پر بنی تھی ، ہم اس حوالے سے الیکشن کمیشن سے بھی رجوع کرینگے لیکن الیکشن کمیشن نے فارن فنڈنگ کیس کا ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا اس لئے ہمیں الیکشن کمیشن سے کوئی امید نہیں ہے .

پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ قاضی فائز عیسیٰ پر حملہ پوری قوم پر حملہ ہے جو طرز عمل سپریم کورٹ کے ساتھ کیا ہم اس کی مذمت کرتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران نزید ڈھوکی کے ہمراہ کیا ۔

مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ کے فاضل جج جسٹس قاضی فائز عیسی نے ایک کاغذ جمع کروایا ہے جس میں وزیراعظم اور ان کے مشیروں کے نام شامل ہیں یہ کاغذ دس رکنی بینچ کے سامنے پیش کیاگیا ہے جس میں قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جس ذرائع سے میرے اثاثے حاصل کئے گئے یہ بھی اس ذرائع سے ہی معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم اور ان کے مشیروں کی کتنی جائیدادیں ہیں یہ بہت بڑی خبر ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی اس معاملے کو بہت اہمیت دیتی ہے اور درخواست کرتی ہے کہ سب کے سب قانون کا مساوی سلوک ہونا چاہیے .

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے پنامہ لیکس میں جے آئی ٹی بنی آصف علی زرداری کے کیس میں جے آئی ٹی بنی بلاول بھٹو زرداری کے کیس میں جے آئی ٹی بنی اور ہم درخواست کرتے ہیں کہ ماضی کے کیسوں کی طرح اس کیس پر بھی جے آئی ٹی بنائی جائے نواز شریف ، آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری پر صرف الزامات لگائے گئے تھے لیکن وزیراعظم کے اثاثوں کا ذکر سپریم کورٹ کے فاضل جج نے کیا ہے لہذا اس حوالے سے جے آئی ٹی بنا کر تحقیقات کی جائیں .

انہوں نے کہا کہ بعض وفاقی وزراءکہہ رہے ہیں کہ بہت سے ایسے مشیر ہیں جن کو ہم جانتے نہیں اور جے آئی ٹی میں زلفی بخاری ، گورنرسٹیٹ بینک اور دوسرے مشیروں کے اثاثوں کا بھی پتہ چلانا چاہیے کہ ان کے اثاثوں میں کتنا اضافہ ہواہے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا کام ہے حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرنا قاضی فائز عیسی پر جو ریفرنس بنا ہے اس میں بدنیتی ان کی ہوگی جو ان کی جاسوسی کرتے رہے اور کس قانون کے تحت جاسوسی کی جو کام ایف بی آر نے کرنا تھا وہ کوئی اور کیسے کرسکتا ہے اور سپریم کورٹ کو تابع کرنے والوں کیخلاف کارروائی ہونی چاہیے انہوں نے کہا کہ ہم اس نقطے کو الیکشن کمیشن کے سامنے بھی اٹھائینگے لیکن معذرت کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس میں سالہا سال گزر گئے مگر فیصلہ نہیں ہوا اس لئے ہمیں انصاف کی امید نہیں ہے اس طرح جس طرح پہلے جے آئی ٹی کیلئے طریقہ کار اختیار کیاگیا ہے اس طرح وزیراعظم کی چھ جائیدادوں کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے اور ساتھ مشیر اور وزیر ہیں ان کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حفیظ شیخ کو ہم لے کر آئے تھے مگر جب ہمیں تمام چیزوں کا اندازہ ہواتو ہم نے ان کو منصب سے الگ کردیا اور سلیم مانڈوی والا کو وزیر بنا دیا ہم حفیظ شیخ کی معاشی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے اس لئے ان کو منصب سے ہٹایا اور بتایا جائے کہ جب حفیظ شیخ مشیر خزانہ بنے انہوں نے کتنا ٹیکس دیا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں