پنجاب حکومت کے غیر سنجیدہ بجٹ کو مسترد کرتے ہیں: میاں منظور احمد وٹو

1003833_271370693000693_452391308_n

پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر اور سابق وفاقی وزیر میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کے ساتھ جو رابطہ کیا ہے وہ بہت اچھا کام ہے ۔ اور ہماری قومی مفاہمتی پالیسی کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اور پاکستان پیپلز پارٹی دونوں سندھ کی نمائندہ اور سب سے طاقتور جماعتیں ہیں۔اگر انھوں نے مل کر اپنی مخلصانہ کو ششوں کی وجہ سے کراچی میں امن قائم کر دیا تو یہ ملک کی بہت بڑی خدمت ہو گی۔انہوں نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ ایم کیو ایم کی قیادت قومی مفاد میں مثبت جواب دے گی۔اور اس کے قومی سیاست میں بہت دور رست نتائج ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کا بجٹ ایک روایتی بجٹ ہے۔اس میں پنجاب صوبے کے ملازمین کی تنخواہ میں صرف 10فیصد اضافہ بہت مایوس کن ہے۔انہوں نے کہا کہ اس دور میں جی ایس ٹی سے مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔توتنخواہ یہ اضافہ بالکل ناکافی ہے۔اور پاکستان پیپلز پارٹی اس کو مسترد کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن نے انتخابی مہم کے دوران جتنے بھی وعدے کیے تھے۔وہ سب جھوٹے تھے اور صرف جھوٹے وعدے کر کے لوگوں سے ووٹ لئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اب انھوں نے اپنے کئے گئے وعدوں میں سے ایک وعدہ بھی پورا نہیں کیا۔وہ کہتے تھے عام مزدور کی تنخواہ 15ہزار مہینہ کریں گے جو کہ مزدور کی کم سے کم تنخواہ ہو گی مگر وہ کسی وعدے پر پورا نہیں اترے۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح پنجاب کے کاشت کاروں کو بھی اس بجٹ میں کوئی سہولت مہیا نہیں کی گئی۔پنجاب کی معشیت زراعت پر انحصار کرتی ہے۔اانہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جو سہولتیں کاشت کاروں کو دینے کا فیصلہ کیا تھاجس میں شیڈولڈ لودشیڈنگ ختم کرنا اور 8روپے فی یونٹ ٹیوب ویل ریٹ اور ٹیوب ویل پر جی ایس ٹی اور سر چارج ٹیکس ختم کرنا تھا۔وہ سب بھی مسلم لیگ نواز کی پنجا ب عوام دشمن حکومت نے ختم کر دیا ہے۔جو کہ کاشتکاروں کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کو رعایت دینا تو ایک طرف بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے دور میں ان کو جورعایت دی تھی وہ بھی واپس لے لی ہے۔ستم ظریفی تو یہ ہے کہ پنجاب حکومت نے چھوٹے صوبوں کے برابر بھی کاشتکاروں کو ریلیف نہیں دیا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب نے تعلیم کا بجٹ خیبر پختونخواہ سے بھی کم رکھا ہے۔اس وجہ سے تعلیمی سیکٹر بہت مایوس ہے۔اور یہ اس پات کا واضح پیغام ہے کہ پنجاب حکومت تعلیم کی ترقی میں سنجیدہ نہیں ہے۔ہم ایسے غیر سنجیدہ بجٹ کو مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے وزیر اعلی کے دورمیں لازمی پرائمری تعلیم کا ایکٹ 1994پاس کیا تھا جو اب موجودہ پنجاب کی حکومت اس پر بھی عمل نہیں کر رہی۔انہوں نے کہا کہ چھوٹے صوبوں نے کوئی جی ایس ٹی نہیں لگایا جبکہ پنجاب اور مرکزی حکومت نے اس میں اضافہ کیا ہے۔جو ہوش اڑا دینے والی مہنگائی کا سبب بنے گا۔پنجاب حکومت نے چھوٹے صوبوں کے مقابلے میں بھی سہولتیں دینے سے انکار کر دیا ہے۔ہم اس عوام دشمن بجٹ کو مکمل مسترد کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں