اپوزیشن رہنماؤں کی پریس کانفرنس: بجٹ نے پورے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو اس حکومت کے خلاف متحد کر دیا


حزبِ اختلاف کی مختلف جماعتوں کے رہنماؤں نے اتوار کو ایک مشترکہ اجلاس کے بعد موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے مالی سال 21-2020 کے بجٹ کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس آج وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ نواز، جماعت اسلامی، جمیعت علمائے اسلام (ف)، عوامی نیشنل پارٹی، بی این پی (مینگل)، نیشنل پارٹی اور قومی وطن پارٹی کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد حزب اختلاف کے رہنماؤں نے مشترکہ پریسں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری اور آئینی طریقے سے موجودہ حکومت کو واپس گھر بھیجنے کا بندوبست کیا جائے گا اور اس حوالے سے لائحہ عمل کُل جماعتی اپوزیشن کانفرنس کے دوران ترتیب دیا جائے۔

ایک سوال کے جواب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول کا کہنا تھا کہ کل جماعتی کانفرنس کا اجلاس پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد شہباز شریف کے صحت یاب ہوتے ہی طلب کر لیا جائے گا۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’اس بجٹ نے پورے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو اس حکومت کے خلاف متحد کر دیا۔ اس بجٹ میں عوام کو سہولت فراہم کرنے کی بجائے ان پر اور بوجھ ڈالا گیا ہے، جو سراسر ظلم ہے۔‘

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ نواز کے سینیئر رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ ’وزیر اعظم عمران خان اس قوم کے لیے ایک بوجھ بن چکے ہیں، جتنی دیر وہ اس عہدے پر براجمان رہے گے وہ ہمیں مزید تباہی کی طرف لے جائیں گے، جلد چھٹکارا پانے کے بعد شاید یہ ممکن ہو کہ جو بچا کھچا پاکستان ہے ہم اس کو محفوظ بنا سکیں گے۔‘

خواجہ آصف نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم اس حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے ہر طرح کا آئینی آپشن استعمال کریں گے۔ کسی قسم کا غیر آئینی راستہ استعمال نہیں کیا جائے گا۔ اس حوالے سے متحدہ اپوزیشن میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی، جو پہلے ہی کسی نہ کسی حد تک موجود ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی میں ہونے والی شکست و ریخت آئندہ آنے والے دنوں میں مزید واضح ہو جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ ’اس وقت نئے مینڈیٹ کی ضرورت ہے۔ نیا مینڈیٹ ہماری مشکلات کو حل کر سکتا ہے۔ گذشتہ دو سال میں جو کچھ ہوا ہے اس کے بعد موجودہ سیٹ اپ کا تسلسل مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔‘

خواجہ آصف کے جواب کے بعد بلاول کا کہنا تھا کہ جو کچھ خواجہ صاحب نے کہا ہے ان کی جماعت (پی پی پی) میں بہت سے لوگوں کا کچھ ایسا ہی خیال ہے مگر اس حوالے سے فیصلہ تمام جماعتیں اتفاق رائے سے کریں گی۔

انھوں نے کہا کہ اپوزیشن نے اب تک بہت بہتر رول ادا کیا اور کورونا کے دوران خاص طور پر کوئی سیاست نہیں کی گئی مگر ایک دن بھی ہمارے وزیر اعظم نے اس بات کو سنجیدہ نہیں لیا۔

’وزیر اعظم پہلے تو صرف جمہوریت اور معیشت کے لیے خطرہ تھے مگر آج عمران خان کا وزیر اعظم ہونا پاکستانیوں کی زندگیوں، صحت اور معاشی صورتحال کے لیے بھی خطرہ ہیں۔‘

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو اس حوالے سے جلد از جلد فیصلہ کرنے پڑیں گے اور یہ فیصلے کرتے ہوئے کورونا کی صورتحال کا جائزہ اور خیال بھی رکھنا پڑے گا، ہم چاہتے ہیں کہ کوئی جمہوری راستہ نکلے پاکستان کی مشکلات کا حل صرف اور صرف جمہوریت میں ہے سلیکشن میں نہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ حلقے جو پہلے انھیں زبردستی سپورٹ کر رہے تھے اور سینیٹ الیکشن میں انھیں جتوا رہے تھے وہ بھی اب ان کی سپورٹ کرنے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ حکومت کی اپنی صفوں میں بیدلی نظر آ رہی ہے اور ان کے اپنے اتحادی انھیں چھوڑتے جا رہے ہیں جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ان کا آخری وقت آن پہنچا ہے۔ ’حکومتی ادارے جس طرح اپوزیشن کو ٹارگٹ کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک بزدل حکمران اپنی انا کی تسکین کے لیے یہ سب کچھ کر رہا ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں بجٹ سے قبل کل جماعتی کانفرنس کرنا چاہتی تھیں مگر مسلم لیگ کے قائد شہباز شریف کی خرابیِ صحت کی وجہ سے ایسا نہیں ہو سکا۔ ہمارا منصوبہ ہے کہ جیسے ہی شہباز شریف مکمل صحت یاب ہوتے ہیں تو اگلے ہی ہفتے ہم کل جماعتی کانفرنس کر لیں گے۔

بلاول کا کہنا تھا کہ جس طرح حکومت نے دو روز قبل پیٹرول کی قیمتیں بڑھائی ہیں وہ ان کے جھوٹ اور بری پرفارمنس کا منھ بولتا ثبوت ہے۔

انھوں نے کہا کہ کورونا کی وبا ہزاروں جانیں لے چکی ہے، کاروبار ختم ہو چکے ہیں اور ان حالات میں یہ توقع کی جا رہی تھی کہ عوام کو کچھ ریلیف دیا جائے مگر موجودہ حکومت نے اس سے الٹ کیا ہے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں گیس اور بجلی کی قیمتیں بھی بڑھائے جانے کی امید ہے۔ انھوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمت بڑھانے سے جو مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا۔

اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے اکرام درانی جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے میاں اسلم نے بھی گفتگو کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں