عمران خان محترمہ بینظیر بھٹو کو شہید نہیں کہتے جبکہ اسامہ بن لادن جیسے دہشتگرد کو شہید کہتے ہیں: بلاول بھٹو زرداری

اسلام آباد (29 جون 2020): پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کی معیشت تباہ کرنے پر وہ قوم سے معافی مانگے۔ چیئرمین بلاول بھٹو نے یہ مطالبہ قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے عمران خان کی جانب سے بدنام زمانہ دہشتگرد اسامہ بن لادن کو شہید کہنے پر بھی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عمران خان گزشتہ حکومتوں پر پٹرول پر لیوی لگانے پر تنقید کرتے تھے لیکن اب بجٹ پاس ہونے سے قبل ہی انہوں نے پٹرول کی قیمتوں پر لیوی عائد کرکے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

یہ پٹرول بم عوام پر اس وقت گرایا گیا ہے جب پاکستان عالمی کساد بازاری ، کورونا اور ٹڈی دَل کے حملوں کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ ٹڈی دَل نے پاکستان کے کسانوں کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول میں یہ اضافہ غیرقانونی اور ظالمانہ ہے۔ غیرقانونی اس لئے ہے کہ قیمتیں بڑھانے سے قبل نہ تو اوگرا سے مشورہ کیا گیا اور نہ ہی اوگرا نے اس کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ انہوںنے سوال کیا کہ کس طرح کوئی وزیر پٹرول کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر سکتا ہے؟

انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا ہے بجائے اس کے وہ عوام کو ریلیف دیتی۔ بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان کو مشورہ دیا کہ وہ کسی بھی چیز کا نوٹس لینا چھوڑ دیں کیونکہ وہ جب بھی کسی چیز پر نوٹس لیتے ہیں تو اس چیز کی قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ عمران خان دواﺅں کا نوٹس لیا ان کی قیمتیں بڑھ گئیں، ماسک کا نوٹس لیا تو اس کی قیمتیں بڑھ گئیں انہوںنے آٹے کا نوٹس لیا تو آٹا مہنگا ہوگیا۔ انہوںنے چینی کی قیمت پر نوٹس لیا تو چینی مہنگی ہوگئی انہوں نے عمران خان کو مشورہ دیا کہ وہ خود کو قرنطینہ کرنے اور نوٹسز لینا چھوڑ دیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کراچی جہاز کے حادثے کا الزام پائلٹ اور ائیرٹریفک کنٹرولر پر لگا رہی ہے تاکہ اپنی ناکامیاں چھپا سکے۔

انہوں نے کہ کہ اپوزیشن نے تو مشورہ دیا تھا کہ فلائٹ آپریشن کو معطل رکھا جائے تاکہ کورونا کو کنٹرول کیا جا سکے لیکن حکومت نے بات نہیں مانی۔ اب وزیر ہوا بازی آکر کہتے ہیں کہ پائلٹس کورونا پر گفتگو کر رہے تھے۔ ہوابازی کے وزیر نے مزید کہا کہپائلٹس کی ڈگری جعلی ہے حالانکہ وزیر موصوف کی ڈگری خود جعلی ہے جس کی وجہ سے وہ پیپلزپارٹی کو چھوڑ کر پہلے ق لیگ میں شامل ہوئے اور پھر پی ٹی آئی میں چلے گئے۔ ایک ایسا وزیر جس کی اپنی ڈگری جعلی ہو وہ کس طرح سے پائلٹس پر جعلی ڈگری رکھنے پر کس طرح الزام دے سکتا ہے۔ یہ حکومت سمجھتی ہے کہ ہر ملازمت سیاسی ہوتی ہے جبکہ یہ حکومت اپنے ہی ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن میں اضافہ کرنے سے انکاری ہے۔

اب پاکستان کی ساری دنیا میں تذلیل ہو رہی ہے۔ انہوںنے کہا کہ سویڈن نے لاک ڈاﺅن نہیں کیا تو وہاں مرنے والوں کی تعداد سویڈن کے پڑوسی ممالک کی نسبت بہت زیادہ ہوگئی اور اب یہی حکمت عملی پاکستان میں عمران خان استعمال کر رہے ہیں۔ سندھ میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے اور کراچی اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے لیکن پی ٹی آئی کی حکومت کو کوئی احساس نہیں۔ یہ حکومت پریشان حال عوام کو صحت اور بجلی کی سہولیات فراہم نہیں کر رہی۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی نے حکومت سے کہا تھا کہ وہ امیروں پر ٹیکس لگائے لیکن اس نے غریب عوام کو ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا دیا ہے۔ چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ یہ بجٹ کورونا، ٹڈی دَل کے حملوں، زراعت کے شعبوں کے مسائل اور گرتی ہوئی معیشت کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ حکومت چور چور کی رٹ لگائے ہوئے ہے لیکن کسی بھی عدالت نے ہمارے خلاف کوئی کسی ثابت نہیں ہوا اور پیپلزپارٹی کے تمام لوگ بے گناہ قرار پائے ہیں۔ حال ہی میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو عدالت نے رینٹل پاور کیس میں بے گناہ قرار دے دیا اور اب حکومت کو چاہیے کہ وہ راجہ پرویز اشرف سے معافی مانگے۔ بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان کی جانب سے بدنام زمانہ دہشتگردی اسامہ بن لادن کو شہید کہنے کی سخت مذمت کی اور کہا کہ اسامہ بن لادن نے پاکستان کے ہزاروں فوجیوں ، مردوں، عورتوں اور بچوں کو شہید کیا۔

عمران خان محترمہ بینظیر بھٹو کو شہید نہیں کہتے جبکہ اسامہ بن لادن جیسے دہشتگرد کو شہید کہتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان کو بزدل کہا تو اسپیکر نے بزدل لفظ کو کارروائی سے حذف کروا دیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب عمران خان نے اسامہ بن لادن کو شہید کہا تھا تو اسپیکر نے عمران خان کا یہ بیان حذف نہیں کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں