کہاں ہماری بی بی، کہاں آج کے انقلابی – زاہدہ حنا

جمہوریت کے استحکام کی لڑائی لڑنے والے اپنے شہیدوں کے خون کا انتقام نہیں لیتے‘ وہ جمہوریت کو ہی سب سے بڑا انتقام سمجھتے ہیں۔ 21 جون کو بی بی کے چاہنے والوں نے خون کی ہزاروں بوتلیں عطیہ کرکے یہ ثابت کردیا کہ وہ بے نظیر بھٹو کی سیاست کے سچے وارث ہیں۔یہ جمہوریت کے استحکام کی لڑائی ہے‘ اس لڑائی کا ہر اول دستہ میلے کپڑوں اور ننگے پیروں والے بنتے ہیں خواہ وہ ملک کی کسی بھی اس سیاسی جماعت سے وابستہ ہوں جو آئینی جدو جہد اور جمہوری اقدار کے لیے جان دے دیتی ہے۔
267385-ZahidaHinaNEWNEW-1404230947-144-640x480 (1)

21 جون کو پاکستان بھر میں شہید بے نظیر بھٹو کا 61واں یوم پیدائش منایا گیا۔ وہ ایک پُر عزم باپ کی پُر عزم بیٹی اور ایک بے نظیر ماں تھیں۔ انھوں نے قوم کو جمہوریت سے ہم کنار کرنے کے لیے بے مثال جدو جہد کی اور عوام کے حقوق اور جمہوری اقدار کے استحکام کی خاطر اپنے لہو کا آخری قطرہ بہادیا۔
عین اسی وقت پاکستان کی فضائیں ایک ایسے ’انقلاب‘کی بلند آہنگ آوازوں سے گونج رہی تھیں جو بزنس کلاس میں بیٹھ کر ایک سرد ملک کی ٹھنڈی فضائوں سے پرواز کرتا ہوا‘ دبئی کے دولت مند فضائی اڈے سے 150جاں نثاروں کے جلو میں اسلام آباد اترنے اور خلافت کے منصب پر فائز ہونے کے خواب دیکھتا ہوا آرہا تھا۔
اسلام آباد میں ’ پُر امن انقلاب ‘کے دعویدار اس ہر اول دستے نے جو بہ مشکل ہزار ڈیڑھ ہزار افراد پر مشتمل تھاجس تشددکا مظاہرہ کیا‘ اسے کیمرے کی آنکھیں دیکھتی اور دکھاتی رہیں۔ انقلاب بردار طیارے کا رُخ اسلام آباد سے لاہور کی طرف موڑا گیا تو داعیٔ انقلاب نے اعلان کیاکہ میرے لاکھوں جاں نثار اسلام آباد ایئرپورٹ پر موجود تھے‘ میں وہاں اتر جاتا تو ا ن کی قیادت کرتا ہوا پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کی عمارتوں تک پہنچتا جس کے بعد موجودہ حکومت اور نظم ریاست لپیٹ کر رکھ دیا جاتا۔’ہٹلر اور مسولینی‘ نے اپنی فاشسٹ ذہنیت کے سبب میرے طیارے کو لاہور میں اتروادیا۔
یہ سنسنی خیز اور اشتعال انگیز بیانات ایک طرف رہے لیکن لاہور میں جو کچھ انقلاب کے غبارے پر گزری‘ اسے ہم نے ہی نہیں ‘ساری دنیا نے دیکھا۔ بار بار فوج کی اعلیٰ کمان اور اعلیٰ افسروں کی دہائی دی گئی لیکن جب ان کوپہچاننے سے انکار کردیا گیا تو پھر بہ امرمجبوری ’ہٹلر‘ کی نیابت کرنے والے ’’مسولینی‘‘ کے صوبے کے گورنر کو بیچ میں ڈال کر ساکھ بحال کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ اعلان کیا گیا کہ میری جان کو خطرہ ہے اس لیے مجھے بُلٹ پروف گاڑی اور ذاتی گارڈ مہیا کیے جائیں۔ خواتین اور ان کے شیر خوار بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا رجحان پُرانا ہے جس کا مظاہرہ ہم اسلام آباد کی سڑکوں پر دیکھ چکے ہیں۔
لیکن لاہور ایئرپورٹ پر فوری طور سے یہ انسانی ڈھال مہیا نہیں ہوسکتی تھی اسی لیے ’ہٹلر‘ کے متعین کردہ گورنر کی آڑ میں’ انقلاب‘ نے ماڈل ٹائون کے قلعہ نما گھر میں پہنچ کر اطمینان کا سانس لیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اسلام آباد اور لاہور کے اس تجربے سے وہ کچھ سیکھتے‘یہ جانتے کہ دنیا بدل چکی ہے‘ شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں سے مقابلہ جاری ہے اور پاکستان کی بقاء کے لیے لڑی جانے والی جنگ اہم مرحلے میں داخل ہورہی ہے۔ ایف16- طیارے دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں۔
ان علاقوں میں رہنے والے ہم جیسے انسان اپنے اپنے گھروں پر تالے ڈال کر چند جوڑے کپڑے اور برتن بھانڈے لے کر جائے پناہ کی تلاش میں نکلے ہیں۔ ہراساں چہروں والے بچے اور بچیاں یہ سمجھنے کی کوشش کررہی ہیں کہ وہ اپنی چھت کے سائے اور اپنے آنگن میں لگے ہوئے پیڑوں کی چھائوں سے کیوں محروم ہوئیں‘ ٹرک میں ان کے برابر بیٹھی ہوئی بکری بھی اپنی حیران نگاہوں سے بدلتے ہوئے منظر نامے کو دیکھ رہی ہے۔ افسوس کہ یہ حقیقتیں ان کے ذہن تک رسائی حاصل نہ کرسکیں۔
مشکل یہ ہے کہ پرانے خوابوں سے پیچھا بہت مشکل سے چھوٹتا ہے۔ اسی لیے زمینی حقائق بدل جانے کے باوجود ’انقلاب‘ کے نعرے بلند کیے جاتے رہے اور یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ عوام بہت جلد حکومت کا تختہ اُلٹ دیں گے۔ سب سے زیادہ حیرت یہ سن کر ہوئی کہ خونِ شہادت کے ہر قطرے کا انتقام لیا جائے گا ٹیلی وژن چینلوں پر انتقام… انتقام… انتقام،کا نعرہ بار بار سنایا اور دکھایا گیا۔ یہ جملے سن کر جن بے شمار لوگوں کو بے نظیر بھٹو کی یاد آئی‘ میں بھی ان میں شامل ہوں۔ بے نظیر نے سیاست میں اس وقت قدم رکھا جب باپ کے سر پر پھانسی کا پھندا جھول رہا تھا‘ پارٹی قیادت کی اکثریت اپنے لیے نئی پناہ گاہیں ڈھونڈھ رہی تھی‘ عوام تھے جو ان سے بے شمار ایسی توقعات وابستہ کیے ہوئے تھے جس کے لیے وہ ابھی تیار نہیں تھیں۔
اس کے باوجود انھوں نے کبھی اپنی پارٹی سے وابستہ لوگوں کو مایوس نہیں کیا۔ باپ کو پھانسی ہوئی تو انھوں نے کبھی ان لوگوں سے انتقام لینے کی بات نہیں کی جو اس عدالتی قتل کے مرتکب ہوئے تھے۔ وہ دو مرتبہ اقتدار میں آئیں لیکن دونوں مرتبہ انھوں نے یہی کوشش کی کہ انتقام کا لفظ بھی ان کے لبوں پر نہ آئے۔ وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ دانشور خاتون تھیں اور اس بات سے بہ خوبی آگاہ تھیں کہ انتقام کا راستہ انارکی اور نراج کی طرف جاتا ہے جس کی جمہوریت میں کوئی گنجائش نہیں ہوتی جب کہ ایسے سیاسی رہنما جواس ذہنی کجروی میں مبتلا ہوجائیں وہ ہٹلر اور مسولینی کی راہ پر چل نکلتے ہیں۔
ذوالفقار علی بھٹو اپنی چہیتی بیٹی کو خارجہ امور کی ماہر کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے۔ شومئی قسمت کہ پھانسی اُن کا مقدر ہوئی اور پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی رہنمائی کم عمر اور نا تجربہ کار بے نظیر کے حصے میں آئی۔ پیپلز پارٹی کی رہنمائی کرتے ہوئے ان کے لیے یہ بہت آسان تھا کہ وہ بھی اپنے بھائیوں مرتضیٰ اور شاہنواز کی طرح انقلاب اور انتقام کی سیاست کا راستہ اختیار کریں‘ لیکن بے نظیر میں وہ جرأت اور قوت فیصلہ موجود تھی کہ اپنے ماں جایوں سے اختلاف کرتے ہوئے انھوں نے آمر کے خلاف جدو جہد کا جمہوری ‘ قانونی اور آئینی راستہ اختیار کیا۔ آخری نتیجے میں وہی کامیاب اور کامران ٹھہریں ۔
ان دنوں جب ایک منتخب حکومت کو اپنی ایک ٹھوکر سے اُڑانے اور ایوان اقتدار میں تہلکہ مچادینے کا دعویٰ کرنے والے کیا کچھ نہیں کہتے ۔ جب وہ مقتولین کے خون کی ایک ایک بوند کا انتقام لینے کا ارادہ ظاہر کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی اپنی جان کو لاحق خطرات کا شور مچاتے ہیں تو بے اختیاربے نظیر بھٹو یاد آتی ہیں ۔وہ ایک جری سیاستدان تھیں‘ ان کے گرد ہمیں ایسا کوئی حفاظتی حصار کبھی نظر نہیں آیا جس کا مطالبہ ہمارے ’ انقلابی‘ کیا کرتے ہیں۔بے نظیر بھٹو کو اپنے لوگوں سے جس قدر گہری وابستگی تھی اس کا اندازہ لاہور میں 1986 کے استقبالی جلوس سے لے کر دسمبر 2007 کے اس آخری جلسے اور جلوس سے ہوتا ہے جس میں انھوں نے عوام کے درمیان رہتے ہوئے جان جیسی انمول شے جمہوریت پر نثار کردی ۔
ان کے شریک حیات آصف علی زرداری کی بھی داد و تحسین لازم ہے کہ جب بی بی شہید ہوچکی تھیں اور ان کے جاں نثار آتش انتقام میں جل رہے تھے تو یہ زرداری صاحب تھے جنہوں نے لوگوں کے سینوں میں بھڑکتی ہوئی انتقام کی آگ کو تحمل اور بردباری سے ٹھنڈا کیا۔ بار بار یہ جملہ کہا کہ ’جمہوریت سب سے بڑا انتقام ہے‘۔ اس جملے کا دائرہ کتنا وسیع تھا۔ یہ بی بی کے چاہنے والوں کو یاد دلاتا تھا کہ ان کے قاتلوں سے انتقام اسی طرح لیا جاسکتا ہے کہ جمہوری عمل کا تسلسل جاری رہے اور ووٹ کی طاقت سے آمریت کی جڑیں کاٹ دی جائیں ۔
کوئی بھی شخص جو قافلۂ حسینؓ کا ایک فرد ہونے کا دعویٰ کرتا ہے‘ اس سے یہ سوال ضرور کیا جانا چاہیے کہ حسینؓ نے شب عاشور اپنے خیمے کا روشن چراغ یہ کہہ کر گُل کردیا تھا کہ کل روز قتال ہے‘ آج رات جو بھی فرد خود کو حسینی لشکر سے الگ کرنا چاہتا ہے‘ وہ رات کے اندھیرے میں چلا جائے تاکہ اسے جاتے ہوئے حیا نہ آئے۔ وہ لوگ جو آج بات بے بات حسینؓ کا اور اسوۂ حسینؓ کا نام لیتے ہیں ‘ کیا انھیں خیال نہیںآتا کہ وہ کن اعلیٰ اخلاقی اقدار سے وابستگی کی دعویداری کرتے ہوئے حسینیت کی توہین کررہے ہیں؟
جمہوریت کے استحکام کی لڑائی لڑنے والے اپنے شہیدوں کے خون کا انتقام نہیں لیتے‘ وہ جمہوریت کو ہی سب سے بڑا انتقام سمجھتے ہیں۔ 21 جون کو بی بی کے چاہنے والوں نے خون کی ہزاروں بوتلیں عطیہ کرکے یہ ثابت کردیا کہ وہ بے نظیر بھٹو کی سیاست کے سچے وارث ہیں۔یہ جمہوریت کے استحکام کی لڑائی ہے‘ اس لڑائی کا ہر اول دستہ میلے کپڑوں اور ننگے پیروں والے بنتے ہیں خواہ وہ ملک کی کسی بھی اس سیاسی جماعت سے وابستہ ہوں جو آئینی جدو جہد اور جمہوری اقدار کے لیے جان دے دیتی ہے۔
ان تمام جمہوریت پسند سیاسی جماعتوں اور رہنمائوں کو داد دینی چاہیے جو سیاست کے ضدی بچوں یا انقلاب لانے کے دعویداروں کے شور اور واویلا کو نظر انداز کرتے ہوئے ہر قیمت پر جمہوریت کو مستحکم کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ لوگوں کو اپنے ہاتھوں سے پھانسی دینے کا اعلان اور انتقام‘ انتقام کے نعرے لگانے کا یہ مفہوم نہیں کہ آپ ’انقلابی‘ ہوگئے ہیں۔ سچی انقلابی بے نظیر بھٹو تھیں جنہوں نے جمہوریت کو ہر ظلم اور جبر کے خلاف بہترین انتقام قرار دیا اور اسے ثابت بھی کردکھایا۔
واقعی کہاں ہماری بی بی اور کہاں آج کے انقلابی !

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں