Mian Manzoor Wattoo comments on Amir-Jamait-i- Islami’s press conference


While commenting on the Jamait-i-Isalm Amir, Professor Sirjaj-ul- Haq’s statement in the newspapers Mian Manzoor Ahmed Wattoo, President Punjab PPP said that it should be the utmost endeavors of all the political leadership to contribute in the continuity and the strengthening of democracy in the country.
IT may be pointed out that Amir-i- Jamait-i- Islami in a press conference yesterday in Islamabad said that most of the members of Assembly and the people of KPK were not in favour of dissolution of the Assembly and wanted continuity of the incumbent government.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo added that the statement of the Amir Jamait-i- Islami was significant as the Party was the coalition partner of the KPK government.
He maintained that although there was constitutional provision for the dissolution of Assembly and seeking a fresh mandate from the people was quite in accordance with the provisions of the constitution and the democratic practices.
He, however, maintained that PTI would take back the Long March call before the deadline given by it for the acceptance of the demands adding that Long March and Military Operation could not co-exist in tandem.
He called upon the political leadership to use the Parliamentary forums for the redressal of their grievances instead of opting for politics of agitation that the country could not afford at this stage because it was in a state of war.
He cautioned that it was the time that the entire political leadership of the country should put their acts together and supports the army now fighting the war of survival instead of treading on trajectory of point scoring and Party politics.
He referred to the plea of Chariman Bilawal Bhutto a few days back in which he had underscored the importance of shunning the political differences among the politicians and called upon them to focus their entire attention to defeat the common enemy, extremism and terrorism.
Mian Manzoor Ahmed Wattoo said that it did not need a rocket science to understand that jf there was state of Pakistan all the politicians would avail countless opportunities to do party politics. It was for this reason that politicians of all hues should spare no effort in defeating the evil that posed formidable threat to the state of Pakistan, our way of life and the constitution, he maintained.
He said that PPP was doing the national politics and those parties who intended to do party politics through destructive methods should see writing in the wall that they would also be losers at the end of the day.
He expressed the hope that the rest of the political leadership of the country would reconsider their priorities and put their entire political weight behind the politics leading to the preservation of territorial integrity.

جماعت اسلامی کے امیر پروفیسرسراج الحق کی کل کی اسلام آباد میں پریس کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے میاں منظور احمد وٹوصدر پیپلز پارٹی پنجاب نے کہا ہے کہ ملک کے تمام سیاسی قائدین کی حتی المقدور کوششیں ملک میں جمہوریت کی بقاء اور اِسکی مضبوطی پر مرکوز ہونی چاہئیں۔یادرہے کہ کل امیر جماعت اسلامی نے کہا تھا کہ خیبر پختونخواہ میں اسمبلی کے ممبران اور وہاں کے عوام اسمبلی کے توڑنے کے حق میں نہیں ہیں اور وہ موجودہ سیاسی نظام کا تسلسل چاہتے ہیں ۔میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ اسمبلی کا توڑنا اور عوام سے نیا مینڈیٹ لینا آئین اور جمہوری روایات سے متصادم نہیں ہے لیکن انہوں نے کہا کہ اُنکی سیاسی سوجھ بوجھ کے مطابق پی ٹی آئی لانگ مارچ کی کال واپس لے لے گی کیونکہ لانگ مارچ اور ملٹری آپریشن ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ انہوں نے شکایات اور مسائل کے ازالے کے لیے پارلیمانی فورم کو استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اِس سے جمہوری ادارے اور جمہوریت مضبوط ہو گی۔انہوں نے ملکی سیاسی قیادت سے کہا کہ وہ اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملٹری آپریشن کی حمایت کریں کیونکہ پاکستان اِسوقت اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے چےئرمین بلاول بھٹو کی کچھ دن پہلے کی اپیل کا ذکر کرتے ہوئے کہا جسمیں چےئرمین نے تمام سیاسی قیادت سے گزارش کی تھی کہ وہ سیاسی اختلافات بھلا کر اپنی تمام تر توجہ اپنے مشترکہ دشمن، انتہاپسندی اور دہشتگردی کے خلاف مرکوز کریں۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ اگرملک پاکستان ہو گا تو سیاستدان سیاست کریں گے اِس حکمت کو سمجھنے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے اس لیے تمام سیاستدانوں کو دہشتگردی کو شکست دینے کے لیے یکجا ہو کر ملٹری آپریشن کی حمایت کرنا اپنا اولین فرض سمجھنا چاہیے ۔ د ہشتگردی ایک ایسی لعنت ہے جس نے پاکستان کی ریاست اِسکے طرز زندگی اور آئین کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے ۔میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی اِسوقت قومی سیاست کر رہی ہے کیونکہ پیپلز پارٹی کی جمہوریت، غریب عوام کے حقوق اور پاکستان کے لیے بیشمار قربانیاں دی ہیں اس لیے اسکے نزدیک جمہوریت، ملکی سلامتی اور یکجہتی پر کو ئی سودے بازی نہیں ہوسکتی۔ میاں منظور احمد وٹو نے اپنے مکمل یقین کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چند سیاسی جماعتیں اپنی ترجیحات کا ازسرِنو متعین اسطرح کریں گی جس سے ملک کی سلامتی کی ضمانت یقینی ہو جائے گی۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں