جاسوسی کرنے پر پیپلز پارٹی کا امریکا سے معافی کا مطالبہ

53b4657f421c1

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت کی امریکا کی جانب سے جاسوسی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول اور پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔

بدھ کو جاری ایک بیان میں انہوں نے 2010 میں امریکا کی جانب سے پیپلز پارٹی کی جاسوسی کیے جانے والے حوالے سے حالیہ انکشاف پر شدید مایوسی کا اظہار کیا۔

پیپلز پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاملے کو سفارتی سطح پر اٹھائے اور بین الاقوامی قانون کی دوبارہ خلاف ورزی نہ ہونے کی گارنٹی لی جائے۔

پیپلز پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ ایک خود مختار ملک کی سیاسی جماعت کے معاملات پر حساس آپریشن اور ناقابل قبول مداخلت سے عدم اعتماد کے سوا کچھ حاصل نہ ہو گا۔

اس موقع پر فرحت اللہ بابر نے ایک خودمختار ملک کی سیاسی جماعت کی جاسوسی کرنے کے غیر ذمے دارانہ عمل میں ملوث اداروں سے معافی مانگنے کا بھی مطالبہ کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق خفیہ دستاویزات میں انکشاف کیا گیا تھا کہ امریکی خفیہ ادارے این ایس اے نے 2010 میں پیپلز پارٹی حکومت کی جاسوسی کی تھی۔

دوسری جانب قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ نے بھی امریکا کی جانب سے جاسوسی کرنے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو پاکستان میں کسی فرد یا پارٹی کی جاسوسی کا کوئی حق نہیں اور ہم حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ وہ اس معاملے پر امریکا سے احتجاج کرے۔

پیپلز پارٹی رہنما نے مزید کہا کہ پارٹی کی قیادت سے مشاورت کے بعد اس سلسلے میں امریکی سفارتخانے کو خط بھی لکھا جائے گا۔

Source: DAWN

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں