وہ سارے کوڑے نچوڑ دوں گا – تحریر احسن عباس رضوی

10517561_10204198636997155_8714352094798601783_n

الله کا شکر ہے کہ ہم پانچ جولائی ١٩٧٧ کو بھی ہوش میں تھے اور آج جولائی ٢٠١٤ کو بھی ہوش میں ہیں . بھٹو تب بھی ہیرو تھا اور آج بھی ہیرو ،ضیاء اسوقت بھی آ مر اور یزیدِ ثانی تھا اور آج بھی اسے پاکستان میں اِسی الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے۔
ضیاء الحق (لعنتی) کے دور میں جہاں ہر جمہوریت پسند پر ظلم و تشدد کیا گیا ویسے میرے بزرگوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔۔۔ اُسی تاریک دور میں لکھی گئی میرے دادا(سیف زُلفی) مرحوم کی ایک نظم پیشِ خدمت ہے۔۔

تمام کوڑے نچوڑ دوں گا۔۔۔۔ !

تُو کاہے، خود کو خُدا سمجھنے لگا ہے کافَر
تِرے تکبر کا سخت پتھر
مَیں اِستقامت کے نرم شیشے
سے توڑ دوں گا
تمام کوڑے نچوڑ دوں گا
تُو اپنے دستِ سِتم پہ اتنا گھمنڈ مت کر
قریب تر ہے وہ دِن جفا گر
تِری کلائی مروڑ دوں گا
تمام کوڑے نچوڑ دوں گا
تِرے تشدد کی ناگنوں کا مَیں زہر پی کر
تجھے دِکھا کر تیرا مقدر
میں تیری نَس نَس میں چھوڑ دوں گا
تمام کوڑے نچوڑ دوں گا
تِری شرافت کی پارسائی کا — کِینہ پرور
عوام کے رُو برُو —- دِکھا کر
مَیں آج بھانڈا ہی پھوڑ دوں گا
تمام کوڑے نچوڑ دوں گا
یزیدِ ثانی — جفا کے پَیکر
لُہو سے جو میرے تر بتر ہیں، سُن اے ستمگر !
وہ سارے کوڑے نچوڑ دوں گا۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں