پانچ جولائی: پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن #BlackDay

10517561_10204198636997155_8714352094798601783_n

پانچ جولائی انیس سو ستتر، پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن جب پیپلز پارٹی کے بانی اور ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کو غیر آئینی طور پر برطرف کرکے اس وقت کے آرمی چیف جنرل ضیاالحق نے مارشل لا نافذ کردیاتھا۔ گیارہ سال پر محیط اس طویل دور آمریت کے یوم آغاز اور جمہوری حکومت پر ضیاالحق کے شب خون کو پیپلز پارٹی یوم سیاہ کے طور پر منارہی ہے ، اس موقع پر مختلف شہروں میں ریلیاں نکالی جائیں گی۔ پیپلز پارٹی کے دفاتر پر سیاہ پرچم لہرائےجارہے ہیں،شہروں میں اہم مقامات پر سیاہ بینر آویزاں کردئیےگئے ہیں۔ علاوہ ازیں جنرل ضیا کے سیاہ ترین دور کے ملک اور سیاست پر ہونے والے بد ترین اثرات کےحوالےسے مذاکرے، سیمینار اور جلسے بھی منعقد کیے جارہے ہیں۔

10358712_514545475340264_2701817855744390243_n

ضیاالحق کی سیاہ ترین آمریت میں نہ صرف پیپلز پارٹی کے بانی وقائد شہید ذوالفقارعلی بھٹو کا عدالتی قتل ہوا بلکہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا، ضیاء الحق مارشل لاء کے بعد ملک بھر میں ہزاروں سیاسی کارکنوں کو پابند سلاسل کیا گیا اور لاکھوں کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بیگم نصرت بھٹو اور شہید بے نظیر بھٹو کو نظر بند رکھاگیا ،مرتضی بھٹو اور شاہنواز بھٹو کو جلاوطنی اختیار کرناپڑی۔

جنرل ضیاالحق نے 1977 میں غیر آ ئینی طور پر اقتدارپرقبضہ کیا اورپھر اپنے اقتدار کی طوالت کے لئے مذہب کو بطور ڈھال استعمال کیا،جس کے اثرات ہم آج بھی مذہبی انتہاپسندی اور دہشت گردی کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔ سابق صدر اور پارٹی کے کوچیئرمین آصف علی زرداری نے کہاتھا کہ 5جولائی ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، جسے شدت پسندی، فرقہ واریت پھیلانے اور ملک میں آئین توڑنے کےلئے یوم سیاہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ 1977ءمیں آج کے روز ایک آمر نے آئین میں تبدیلی کر کے اس میں اپنا نام شامل کروایا اور قوم کو تباہی کے راستے کی طرف دھکیلا تھا۔

شہید ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کو ایک ترقی یافتہ جمہوری ملک بنانا چاہتے تھے، جس میں بلاتفریق سب کو بنیادی انسانی حقوق دستیاب ہوں ۔ انہوں نے عوام کو ووٹ کا حق دے کر امیر اور غریب کے درمیان واضح فرق کو ختم کردیا، اب عوام سیاسی طور پر بااختیار ہوچکے تھے۔

پانچ جولائی سے شروع ہونے والی یہ نحوست اور وحشت آج بھی بنیاد پرستی ، فرقہ وارانہ قتل وغارتگری اور دھشت گردی کی صورت میں انتہائ بھیانک صورت میں اپنا اظہار کر رہی ہیں۔ اس دور کی پالیسیوں سے آج پاکستان کی عالمی سطع پر پہچان دہشت گرد ملک کی بنی ہوئ ہے۔ پوست سے ہیروین بنانے کی فیکٹریوں اور اسلحہ کی بھرمار سے بنے کلاشنکوف اور ہیروین کلچر نے اس سماج کے صوفی اور امن پسند ثقافت کو تباہ و برباد کردیا، اورپاکستان کا ہر شہر مقتل گاہ بنتا چلاگیا۔ اس دور میں فرقہ ورانہ اور لسانی سیاست اور قوم پرستی کو ریاستی سرپرستی میں فروغ دیا گیا جس کا بڑا مقصد پیپلز پارٹی کا قومی سیاست میں کردار ختم کرنا تھا۔

آصف علی زرداری نے درست کہا تھا کہ آمروں کو ان کی موت اور تدفین کے بعد بھی آئین توڑنے کی سزا ملنی چاہئے۔ پاکستان کي تاريخ ميں پانچ جولائي کو ايک سياہ دن کے طور پر ياد رکھا جائے گا- جمہوری ڈھانچے کو سبوتاژ کرنے کا جو سلسلہ پانچ جولائی انیس سو ستتر کو شروع ہوا تھا وہ ہمیں اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ کس طرح ایک فوجی آمر نے اپنی سیاسی بقاء کیلئے انتہا پسندوں کی پرورش کی اور کس طرح ایک دوسرے آمر نے انہی انتہا پسندوں کو اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے ایک نئے انداز سے استعمال کیا۔

آج ہمیں جمہوریت کی بقا اوراستحکام کے لئے عہد کرنا ہوگا، کہ ہم بھٹو شہید کی فلاسفی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے جنرل ضیا کی پھیلائ ہوئ سیاہ رات کے خاتمے میں اہم اور مثبت کردار ادا کریں گے۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں