جو زہر پی چُکے ہو، اُگلنے کا وقت ہے – سید احسن عباس رضوی

10517561_10204198636997155_8714352094798601783_n

جولائی ١٩٧٧ کو قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت پر شب خون مارا گیا۔یہ شب خون صرف جمہوریت یا بھٹو خاندان کے اقِتدار پر ہی نہیں بلکہ یہ انسانیت، مذہبی آزادی اور حقِ رائے پر شب خون تھا۔مذہبی انتہا پسندی، کلاشنکوف کلچر، منشیات فروشی اور صوبائی مُنافرت کے آغاز کا سیاہ باب اِسی روز سے پاکستان میں شروع ہو گیا۔یہ پاکستان میں ایک سیاہ دور کا آغاز تھا اور یہاں سے پاکستان مُسلم لیگ نے پاکستان مسلح لیگ کی طرف اپنا رختِ سفر باندھا۔پاکستان پیپلز پارٹی ہر سال کی طرح اِسے یومِ سیاہ کے طور پر منا ئے گی، اور کیوں نہ ہو یہ یومِ سیاہ، اِس یوم کی بدولت ہی آج ہم اپنے گھر میں غیر محفوظ ہیں، اَسی یوم کی بدولت آج ہمیں میلاد و مجلس کا اہتمام کرنے سے پہلے حفاظتی اِنتظامات کے لیے پولیس اور پرائیوٹ سکیورٹی گارڈز کا مرہونِ منت ہونا پڑتا ہے، اِسی منحوس تاریخ پر بد نصب اور بد کردار ڈکٹیٹڑ نے عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا اور پاکستان کو آج اِس دوراھے پر لا کھڑا کیا کہ اب نہ ہماری مسجدیں محفوظ رہیں نہ مدرسے، نہ قبرستان اور نہ ہی صوفی بُزرگ اور اؤلیاء کرام کے مزارات۔
ہمیں اپنے ہر عمل سے اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ٥ جولائی ١٩٧٧ پاکستان کی جمہوری تاریخ میں پھر کبھی نہ آنے پائے ۔

اپنے لہو کی آگ میں جلنے کا وقت ہے
اب دامِ تیرگی سے نکلنے کا وقت ہے۔

بیدار ہو کہ صُبح نہ آئے گی لوٹ کر
اٹھو کہ اب گھروں سے نکلنے کا وقت ہے۔

پربت ہو تم، تو کُچھ تو حرارت کا دو ثبوت
لاوا ہو تم اگر تو اُبلنے کا وقت ہے۔

اب تو سروں سے خوف کی چادر اُتاردو
ہوتی ہے شام، دُھوپ کے ڈھلنے کا وقت ہے۔

ہشیار! مرحلہ ہے یہ موت و حیات کا
جو زہر پی چُکے ہو، اُگلنے کا وقت ہے۔

سید احسن عباس رضوی

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں