Kayani wanted NWA operation to be his call: Yousaf Raza Gilani

Kayani wanted NWA operation to be his call: Gilani by dawn-news
KARACHI: Former prime minister Yousuf Raza Gilani said Friday that Pakistan Peoples Party (PPP) government had not focused on launching an operation in North Waziristan during its tenure because former army chief General Ashfaq Parvez Kayani wanted the decision to be his alone, DawnNews reported.

Gilani’s statement on the matter comes days after Major General (retd) Athar Abbas disclosed that Kayani was reluctant to launch a military operation in North Waziristan.

The revelations come weeks after the government of Prime Minister Nawaz Sharif ordered Zarb-i-Azb to rid the tribal region of local and foreign militants.

Addressing a press conference at a media cell in Bilawal House, the former premier said that the Pakistan Muslim League – Nawaz’s stance on and treatment of Musharraf was not appropriate.

He also claimed that the PPP had held talks with the establishment to remove the former military ruler from power.

Gilani claimed that during the negotiations, the former army strongman had been guaranteed a safe passage in exchange for tendering his resignation from the president’s office.

He reiterated that the PPP had adhered to the reconciliation policy of assassinated former premier Benazir Bhutto, adding that it would not become party to those seeking to undermine democracy in the present scenario.

He said the PPP had endeavoured to strengthen the Parliament, adding that only then would the country’s institutions be strengthened.

Gilani also said that the PPP had restored the Constitution to its original form.

Source: DAWN
YRG

Our government had a deal with the… by videosfever
http://dai.ly/x21a0y6

سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے انکشاف کیا ہے کہ پرویز مشرف سے مذاکرات میں طے ہوا تھا کہ وہ استعفیٰ دینگے تو انھیں محفوظ راستہ دیا جائے گا۔ مسلم لیگ (ن) کو پرویز مشرف پر مقدمہ نہیں چلانا چاہیے تھا۔ وزیراعظم کو معاہدوں کی پاسداری کرنا چاہیے۔ ایک طاقتور فوجی بغیر معاہدے کے کیسے جا سکتا ہے۔

کراچی: (دنیا نیوز) سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے انکشاف کیا ہے کہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے معاملے پر پیپلز پارٹی کی حکومت نے سٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کئے تھے کیونکہ سٹیبلشمنٹ کی رضامندی کے بغیر مشرف سے استعفیٰ نہیں لیا جا سکتا تھا۔ سٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں مسلم لیگ (ن) بھی شامل تھی۔ مذاکرات میں طے ہوا تھا کہ اگر مشرف مستعفیٰ ہو جائیں تو ان کا مواخذہ نہیں کیا جائے گا۔ مسلم لیگ (ن) کو پرویز مشرف پر مقدمہ نہیں چلانا چاہیے تھا۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو سابق صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کیساتھ ہونے والے معاہدوں کی پاسداری کرنا چاہیے۔ سید یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان اور طاہر القادری ریلی نکالتے ہیں تو نواز شریف بھی نکالتے تھے۔ احتجاج کرنا عمران خان کا حق ہے لیکن عمران خان کی آئین سے متصادم اقدامات کی حمایت نہیں کرینگے۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے آئین کو اس کی اصل شکل میں بحال کیا۔ پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے کی کوشش بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ حکومت میں تھے تو عدلیہ بھی کام نہیں کرنے دیتی تھی۔ سید یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ حکومتی مدت چار سال کرنے کی تجویز دو تہائی اکثریت سے ہی منظور ہو سکتی ہے۔ ملک میں فی الحال تبدیلی نظر نہیں آ رہی۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کے دور میں پنجاب حکومت جن افسروں کے نام بھیجتی تھی ان کی منظوری دیدی جاتی تھی۔ اب (ن) لیگ کی حکومت بھی سندھ کی خواہشات کا احترام کرے۔

http://urdu.dunyanews.tv/index.php/ur/Pakistan/228463

اپنا تبصرہ بھیجیں