وزیراعظم عمران خان، احسان اللہ احسان کی چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو دھمکی پر اپنی پوزیشن واضح کریں: قمر زمان کائرہ


پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) وسطی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ سیکیورٹی اداروں کی تحویل سے فرار ہونے والے دہشت گرد احسان اللہ احسان کی طرف سے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کو دی گئی دھمکیوں پر ریاست کو نوٹس لینا چاہئیے
ٹویٹ پر حکومت اپنا موقف جاری کرے، انہوں نے خبردار کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے راستے گندم اسمگل ہورہی ہے اور ملک میں ایک مرتبہ پھر بحران کھڑا ہونے والا ہے۔

لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےپیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ حکومت پر تنقید میں کہا کہ موجودہ حکومت نے ان تمام بحران کو دوبارہ زندہ کردیا جو ختم ہوچکے تھے، آج حکومت کو چینی، آٹا، تیل، معاشی قرضوں کی ادائیگی سمیت دیگر بحران کا سامنا ہے۔

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ چینی کے بحران میں نواز شریف اور آصف علی زرداری پر الزامات لگائے جاتے ہیں جبکہ کمیشن نے نشاندہی کی کہ چینی کے بحران میں تحریک انصاف کے ایک رہنما کا پروڈکشن میں 20، 16 اور 10 فیصد شامل ہے۔

رہنما پیپلز پارٹی نے بتایا کہ موجود حکومت میں ہی مافیا کے سربراہ ہیں اسی لیے عدالتوں کے نوٹس کے باوجود بھی چینی کی قیمت کم نہیں ہوئی۔

علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا گندم کا بحران پھر کھڑا ہورہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابھی گندم کی فضل اٹھائی گئی ہے لیکن بحران پیدا ہونا شروع ہوگیا اس لیے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے صرف حکومت سندھ پر الزامات لگانے سے کام نہیں چلے گا۔

قمر زمان کائرہ نے الزام لگایا کہ گندم خیبرپختوا سے اسمگل ہورہی ہے لیکن حکومت اسمگلنگ روکنے میں ناکام ہے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ‘حکومت کو اسمگلنگ کو روکنا ہوگا کیونکہ وفاقی ادارے آپ کے پاس ہیں، بلوچستان میں آپ کے اتحادی ہیں اورگندم پھر بھی اسمگل ہوجائے تو صرف الزامات کی بنیاد پر سیاست نہیں چلے گی’۔

رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ ‘جس کا ہتھیار سروس یعنی خدمات نہ ہوں وہ پراپیگنڈہ پر انحصار کرتے ہیں، چیئرمین بلاول بھٹو بعض مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں تو موجودہ حکومت کے مختلف رہنما قومی اسمبلی سے لیکر دیگر فورم پر پراپیگنڈہ شروع کردیتے ہیں’۔

علاوہ ازیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم عمران خان، احسان اللہ احسان کی چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو دھمکی دینے کے معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کریں۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو ہمیشہ اکٹھے ہوتے وقت لگتا ہے۔ شہباز شریف کی طبعیت بہتر ہو گئی ہے، جلد آل پارٹیز کانفرنس ہوگی۔ حکومت کا مزید چلنا پاکستان کے لیے نقصان دہ ہے۔

قمر زمان کائرہ نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو کورونا سمیت ہر چیز میں سازش نظر آ رہی ہے۔ خان صاحب! یہ سازشی تھیوری نہیں چلے گی۔

پیپلز پارٹی رہنما کا کہنا تھا کہ عمران خان کا راستہ درست نہیں ہے۔ وہ الیکشن میں کیے وعدوں سے مکر گئے، اس لیے یوٹرن کا سہارا لیا۔ ملک دشمن جماعتیں ان کے ساتھ مل جائیں تو محب وطن جبکہ اپوزیشن جماعتیں غدار ہو جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم صاحب! صرف سندھ حکومت پر الزام لگانے سے کام نہیں چلے گا۔ عدالتوں کے نوٹس کے باوجود چینی کی قیمت کم نہیں ہوئی۔ گندم کا بحران پھر سر اٹھا رہا ہے۔ اسے سمگل کیا جا رہا ہے، اس کا جواب دینا ہوگا۔ ہر کام سابق حکومت پر ڈال دیا جاتا ہے لیکن اپنے لاڈلوں کے خلاف ایکشن نہیں لیتے۔

انہوں نے کہا کہ احسان اللہ احسان جس تنظیم سے وابستہ تھا وہ ماضی میں بھی ہمارے دشمن تھے۔احسان اللہ احسان جس تنظیم سے وابستہ ہے وہ ہماری دشمن ہے انسانیت کی دشمن ہے ملک کی دشمن ہے وہ حکومت کی تحویل میں سے کیسے فرار ہوا ہے کس نےکروایا ہمیں بتایا جائے.

قمر زمان کائرہ نے سوال اٹھایا کہ ‘احسان اللہ احسان کن حالات میں فرار ہوا، کیسے ہوسکتا ہے کہ قومی تحویل میں ایک شخص ہو اور فرار ہوجائے، اس کے اوپر کوئی جے آئی ٹی نہیں بنی’۔

ماڈل ٹائون سیکرٹریٹ میں پنجاب ایگزیکٹو کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کے دوران قمر زمان کائرہ بولے کہ بلاول بھٹو کو تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان کی جانب سے قتل کی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں، وزیر اعظم اس پر کیوں خاموش ہیں جواب دیں وگرنہ اپنا راستہ خود اپنا سکتے ہیں۔

قمر زمان کائرہ نے حکومت کی ان ہائوس تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ لانے والے پیچھیں ہٹیں اور سیاسی جماعتوں کو اندہائوس تبدیلی لانے دیں پی ٹی آئی کی حکومت کہیں نہیں اتحادی آہستہ آہستہ چھوڑ کر جا رہے ہیں،،کرپشن کرنے والے مافیا کوئی اور نہیں عمران خان کے دائیں بائیں کھڑے لوگ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قومی مسائل پر جلد آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلانا چاہتے ہیں، تبدیلی قومی اسمبلی کے اندر سے لائی جائے گی۔

قمر زمان کائرہ نے یہ بھی کہا کہ پلیئرز پیچھے ہٹیں مل کر ایوان کے اندر سے تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فاشزم کا اصول ہے کہ زندہ رہنے کے لیے پروپیگنڈا کیا جائے، چینی، آٹا، پٹرول بحران کے مافیاز عمران خان کے دائیں اور بائیں کھڑے ہیں۔

پی پی رہنما نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں سے جو بھی ناکامی ہوتی ہے، اسے اپنے خلاف سازش قرار دے دیتے ہیں۔

پی پی وسطی پنجاب کے صدر نے مزید کہا کہ ہم سنجیدگی سے جلد اے پی سی بلانا چاہتےہیں لیکن شہباز شریف کی طبیعت آڑے آرہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو نے اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک اے پی سی کے ایجنڈے پر لانے کی بات کی تھی۔

قبل ازیں صدر پاکستان پیپلزپارٹی وسطی پنجاب قمرزمان کائرہ کے زیر صدارت پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب ایگزیکٹو کا اجلاس ہوا جس میں جنرل سیکرٹری پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب چوہدری منظور احمد، سیکرٹری اطلاعات پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب حسن مرتضیٰ، سینیئر نائب صدر پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب چوہدری اسلم گل فنانس سیکرٹری پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب عاصم بھٹی ڈپٹی سیکرٹری پاکستان پنجاب عثمان سلیم ملک صدر علماء ونگ پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب علامہ یوسف اعوان، ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب بیرسٹر عامر حسن، پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما جمیل منج صدر یوتھ ونگ پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب زوہب بٹ صدر پاکستان پیپلزپارٹی لاہور حاجی عزیز الرحمن چن ڈویژنل صدر پاکستان پیپلزپارٹی گوجرانوالہ دیوان شمیم، خواجہ اویس مشتاق ڈویژنل صدر پاکستان پیپلزپارٹی فیصل آباد چوہدری سعید اقبال اور دیگر شریک ہوئے.

اپنا تبصرہ بھیجیں