ملتان کو میٹروبس سے بچاؤ – تحریر ریاض حسین بخاری

Multan-Metro-Bus-System-rout-approval-by-CM

آج پہلی مرتبہ میں کسی موضوع پر قلم اٹھانے لگا ہوں جس پر ہمارا پرنٹ میڈیا کسی حد تک اور الیکٹرانک میڈیا (معذرت کے ساتھ) مکمل طور پر خاموش ہے مجبور اً مجھے اس اہم موضوع پر اپنے ناقص علم کو زیر استعمال لانا ہوا۔ سرائیکی کی ایک مثال ہے۔
بھاندے دی ہر شے بھادے۔ نہ بھاندے دی کوئی شے نہ بھاوے اس مثال کا مطلب ہے کہ جواچھا لگے اس کی ہر چیز اچھی لگتی ہے اور اگر اچھا نہ لگے تو اس کی کوئی چیز بھی اچھی نہیں لگتی۔ یہی مثال ہمارے موجودہ حکمرانوں پر بھی سو فیصد صادق آتی ہے جنہیں حکومت کرتے ہوئے تھوڑے وقفے کے علاوہ دہائیاں گذر گئیں لیکن ان کے انداز حکمرانی (خاص طور پر پنجاب حکومت کے حوالے سے لکھ رہا ہوں) جو کہ مغلوں کا تھا اس میں بہتری کی جانب کوئی قدم ایسا نہیں اٹھایاگیا جس سے معلوم ہو کہ انہوں نے تاریخ سے سبق سیکھا ہے۔
اب میں اپنے اصل موضوع کی طرف آتا ہوں جس کیلئے میں نے سرائیکی کی مثال دی ہے۔ وہ ہے ملتان کی خوبصورتی اور اہل ملتان کا المیہ ، ملتان وہ خطہ ہے جو کہ شریف حکومتیں ہوں یا کوئی ڈکٹیٹر کی حکومتیں ہمیشہ ملتان ان کے نظر کرم کا منتظر ہی رہا۔ ایوب خان ہوں ، یحییٰ خان، ضیاء الحق یا شریف خاندان ان سب کو جنوبی پنجاب اور ملتان آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھتے رہے۔ بھٹو صاحب نے یہاں پاک عرب فرٹیلائزر اور نیو ملتان کالونی جسیے فائدہ مند منصوبے دیے حالانکہ اس وقت کے حالات پاکستان کو سانس لینے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ 77ء کے بعد پنجاب میں زیادہ تر شریف حکمران ہی حکومت کرتے رہے لیکن انہیں ملتان کبھی نظر نہ آیا۔ ملتان اور جنوبی پنجاب سے بڑے بڑے سیاستدان اعلیٰ عہدوں پر براجمان رہے ملتان انہیں بھی نظر نہ آیا۔ صادق قریشی ہوں یا صاحبزادہ فاروق غلام مصطفی کھر ہوں یا فاروق لغاری ، شاہ محمود قریشی ہوں یا بوسن صاحبان، سب کے دور میں ملتان پسماندہ ہی رہا بلکہ اس کی حالت دن بہ دن خراب سے خراب تک ہوتی گئی۔لیکن کسی نے نہ توجہ دی۔ آخر کار اللہ کے فضل سے ملتان کا ایک وفا پرست انسان سید یوسف رضا گیلانی وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوا تو ملتان کے مایوس باسیوں کے دل میں امید کی کرن جاگی اور پھر اہل ملتان نے دیکھا کہ ان کے شہر میں ایسے ایسے ترقیاتی کام ہونا شروع ہوئے جن کی مثال ساٹھ سالوں میں نہیں ملتی تھی۔ میں چار سالوں میں پرانا ٹوٹا پھوٹا ملتان ایک نئے خوبصورت ملتان کے سانچے میں ڈھل گیا۔ اور آج ہمیں ہر طرف خوبصورتی ہی خوبصورتی نظر آتی ہے انہوں نے سڑکوں کے انفراسٹرکچر پر بھرپور توجہ دی۔ اورپھر اہم چوراہوں پر انتہائی خوبصورت فلائی اوووربناکر ٹریفک کا ابدی مسئلہ کافی حد تک حل کردیا۔ اندرون شہر ہوں یا بیرون یہ جگہ دل جمعی سے کام کیا گیا اور آج ہم عزت اور آرام سے ہر جگہ آجا سکتے ہیں۔ جس سے وقت کی بچت ہوتی ہے اور کیونکہ ٹریفک رواں دواں رہی ہے۔ جہاں جہاں سڑکوں کو کشادہ اور دو رویہ کیا گیا ہے جس میں باقی جگہ کے علاوہ نواب پور روڈ (اور خاص طور پر بوسن روڈ) شامل ہیں۔ وہاں من من کی جائیداد میں یا کاروبار تھے ان کے حالات یکسر تبدیل ہوگئے۔ انہیں منہ مانگامعاوضہ بھی دیا گیا اور آج وہ اکثر لوگ باعزت رتوزگار کما رہے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ملتان میں ابھی بھی بے حد غربت ہے مگر پھر بھی یہاں کے رہنے والوں کا رہن سہن بہت بہتر ہوا ہے۔ اور ان کا کریڈٹ (انتخابات کی ہار جیت کے قطع نظر) سید یوسف رضا گیلانی کو جاتا ہے۔ یہاں میں کیپٹن ناصر مہے صاحب کے لکھے ہوئے کالم سے اختلاف کرتا ہوں جس میں انہوں نے حسن سید یوسف گیلانی صاحب سے زیادہ کریڈٹ نسیم صادق اور زاہد سلیم گوندل کو دیا ہے۔ یہ میرے خیال میں گیلانی صاحب کی خدمات کا صحیح اعتراف نہیں ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ دونوں ڈی سی او صاحبان نے بہت ایمانداری اور محنت سے کام کیا جو کہ ان کا منصبی فریضہ تھا۔ ایس پورا کرنے میں دونوں ڈی سی او صاحبان کو مبارکباد دیتا ہوں اور ان کیلئے دعا گو ہوں لیکن یہاں جو کریڈٹ کے اصل حق دار ہیں وہ گیلانی صاحب ہیں اور ہم کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ انتخابات میں یادتی کی گئی ۔
بہر حال بات دوسری طرف نکل گئی۔ ملتان (جو کہ اب ایک کافی ترقی یافتہ شہر ہونے کا منظر پیش کرتا ہے) کی خوبصورتی اور یہاں کے باسیوں کا آرام محترم شہباز شریف صاحب جو کہ خود کو خادم اعلیٰ کہلاتے ہیں ذرا برابر ہضم یا برداشت نہیں ہورہا اور وہ ملتان کے اصل سٹائل (مثلاً سیوریج، تعلیمی اداروں کی کمی، بیروزگاری اور غربت) کی طرف توجہ دینے کی بجائے خود نمائی منصوبوں مثلا بنگلہ شریف میں (جسے میٹرو بس کہتے ہیں)میں عوام کا پیسہ لگانے پر تلے ہیں یہ گڈ گورننس کا کونسا انداز ہے کہ اچھے بھلے شہر کی خوبصورتی اور ٹریفک کی روانی کو تباہ و برباد کیا جائے۔ میں عوام میں رہتا ہوں اور ان کے جذبات کو اچھی طرح سمجھتا ہوں ۔ عوام کی اکثریت اس نمائشی منصوبے سے نالاں ہے۔ ملتان ایک چھوٹا شہر ہے معلوم نہیں کہ وہ اس رقم سے جو وہ میٹروبس میں برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں اس سے ملتان کے کئی مسائل حل ہوسکتے ہیں ۔ سیوریج سسٹم جو کہ کافی حد تک بہتر ہوا ہے اسے مکمل طور پر فعال کیا جاسکتا ہے۔ پینے کا صاف پانی ملتان کے عوام کو مہیا کیا جاسکتا ہے۔ کئی سکول بنائے جاسکتے ہیں کئی تعلیمی اداروں کی اپ گریڈیشن کی جاسکتی ہے۔ بجلی کا ترسیلی نظام درست کیاجاسکتا ہے مگر اس میں محترم شہباز شریف صاحب ظاہری طور پر سڑکوں پر میٹروبس کی صورت میں نظر نہیں آئیں گے یا پھر وجہ وہ 5ارب کا کمیشن ہے جس کا الزام عامر ڈوگر صاحب ایک پریس کانفرنس میں لگا چکے ہیں۔ اتفاق خونڈری کا سرمایہ اور میاں منشاں کی ڈی جی سیمنٹ کا استعمال ہونا ہے۔ مگر ایسا نہیں ہے تو برائے مہربانی خادم اعلیٰ صاحب خود آکر دیکھیں کہ فیصل موورز کی خالی بسیں جو سڑکوں پر گھسٹ رہی ہوتی ہیں وہ کیوں خالی ہوتی ہیں اہم چوراہوں پر چھ چھ ہائی ایس ویگنیں مسافروں کے انتظار میں کھڑی ہوتی ہیں اور ان کے کنڈیکٹر مسافروں کو بازؤں سے پکڑ کر اپنی ویگنوں میں بٹھا رہے ہوتے ہیں ان سب چیزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم اہل ملتان جناب خادم اعلیٰ سے درخواست کرتے ہیں کہ اس فضول منصوبے کو جس کی ملتان میں قطعی ضرورت نہیں ہے ختم کیا جائے اور اس کا پیسہ ملتان اور جنوبی پنجاب کے اصل منصوبوں پر خر چ کیا جائے امید ہے خادم اعلیٰ صاحب ملتانیوں کو ذہنی دباؤ سے نکالنے کیلئے اس منصوبوں کو ختم کرکے پہلے سے جاری منصوبوں کو مکمل کریں گے جن میں خاص طور پر چونگی نمبر6 کا فلائی اوور شامل ہے۔

دعاگو
ریاض حسین بخاری
ڈپٹی سکریٹری اطلاعات
پی پی پی ملتان

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں