بزدار حکومت جنرل ضیا، جنرل مشرف، جنرل ایوب کی آمریتوں کا تسلسل ہے: سید حسن مرتضیٰ

لاہور: پیپلز پارٹی پارلیمانی لیڈر پنجاب سید حسن مرتضیٰ نےماڈل ٹاوُن پارٹی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہا کہ ایک بار پھر ثابت ہوگیا کہ بزدار حکومت جنرل ضیا، جنرل مشرف، جنرل ایوب کی آمریتوں کا تسلسل ہے، یہ آمریت کی باقیات اور مارشل لا کے پیروکار ہیں.

اب عوامی نمائندگان کو بلڈوز کرنے کی انتہا آگئی ہے، میں نے اسمبلی میں زراعت پر بات کی، کاشتکاروں کی بات کی، تو حکومتی خواتین اراکین نے مداخلت کئیں، آپ اس قوم کو کہاں لے کر جارہے ہیں، وزیر قانون نے میری ویڈیوز رکوائیں.

پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ ان کو ہر چیز کھڑکی کھڑکائی ملتی ہے، جس کا افتتاح یوسف رضا گیلانی نے کیا، اُس کا کریڈٹ عمران نیازی لینے کی کوشش کررہے ہیں، یہ دوسروں کے منصوبوں کے افتتاح کو شغل سمجھتے ہیں، اور ان کی عقل دیکھیں کہہ رہے ہیں کہ اب ہمین پانی امپورٹ نہیں کرنا پڑے گا.

عمرانی‌حکومت نے کلبھوشن یادیو کو ریلیف دینے کے لئے آرڈیننس نکالا ہے، یہ ناقابل تلافی جرم ہے. اب خاموش رہنا جرم ہوگا، سلیکیٹرز بھی اپنے فیصلے پر ںظر ثانی کریں، کلبھوشن یادیو ریلیف لینا نہین چاہتا اور یہ پارلیمنیٹ سے چوری چھپے ریلیف دے رہے ہیں.

یہ ہر روز بحران پیدا کرکے اپنے سہولت کاروں کو فائدہ پہنچاتے ہیں، ساری قوم دیکھ رہی ہے، یہ نوٹس لیتے ہیں اور جس وزیر کا نام انکوائری اور کرپشن میں آتا ہے اُس کو ترقی دے کر نئی وزارت دے دی جاتی ہے.

خورشید شاہ پر کوئی کیس کوئی ریفرنس نہیں، مگر انتقامی کاروائی کے تحت اُن کو گرفتار کیا ہوا ہے.

حکومت نے ادارے تباہ کردئیے ہیں، یہ فاشسٹ حکومت ہے. انہوں نے کہا کہ چئیرمین بلاول بھٹو کی صورت میں شہید ذوالفقار علی بھٹو، شہید بے نظیر بھٹو موجود ہیں.
ہم آج کے پنجاب اسمبلی میں حکومتی رویے کی ًمذمت کرتے ہیں. میری تقریر بھی نکال لی جائے، اور ان کی بھی تقریر نکال لی جائے ، میں مطالبہ کرتا ہوں اس کو پبلک ہونا چاہیئے، قوم خود فیصلہ کرلے گی، میں نے زراعت پر بات کی، کاشت کاروں کے حقوق کی بات کی، میں اپنا مقدمہ پارلیمنٹ میں ہی رکھوں گا.

اپنا تبصرہ بھیجیں