Tanvir Ashraf Kaira calls upon the govt to accept the demands of the PTI and immediately initiate the process of voter verification

12-22-2010_7515_l_u
Pakistan People’s Party, Punjab Secretary General Tanvir Ashraf Kaira has said that his Party support to the government should not be taken for granted adding the mandarins should focus on to provide relief to the people instead of compounding their miseries through neglect and inaptness, the present government is unfortunately known for.

This he said in a statement issued from here today from the Party Secretariat.

He said that Co-Chairman Asif Ali Zardari accepted the results of May 2013 for the sake of continuity of the political system despite his serious reservations on the fairness and impartiality of the electoral process. But that does not give carte blanche to the ruling Party to trample on the aspirations of the people with impunity.

He said that the torturous long hours load shedding of electricity, runaway food inflation, worsening law and order situation and abject neglect of the health and education sectors, have made the lives of the people miserable and the apathy of the government was appalling that could not be condoned by PPP that believed in the people’s politics.

He called upon the PML (N) government to jettison the family style of government adding their intimidation of the elected representatives and the Ministers alike would not bear fruit measuring up to the expectations. The outsourcing the Punjab Chief Ministership by the Shahbaz Sharif is hierarchal inclination that diametrically runs against the democratic culture.

He said that the Prime Minister and Punjab Chief Minister should conduct their governmental affairs in harmony with the elected Prime Minister and the elected Chief Minister in the real sense of the word. The highest public offices should not be treated as family fiefdom, he observed.

Mr. Tanvir Ashraf Kaira called upon the government to accept the demands of the PTI and immediately initiate the process of voters verification through thumb impression of four constituencies of Lahore to avoid the clash in next month. Good thinking will prevail at the end of the day, he hoped.

He pointed out that the maneuvering of the delay of voters verification through procedural lacunas by the PML (N) leaders would not help to shy away the possibility of gathering political storm with terrible consequences for the system and the country.

He maintained that consistent engagement with opposition was the best policy in functioning democracy because opposition was the integral part of the set up. Opposition is treated as a government in waiting and accepted as such, he argued.

پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے سیکرٹری جنرل تنویر اشرف کائرہ نے کہا ہے کہ اُنکی پارٹی کی موجودہ حکومت کی حمایت عوام کے مسائل حل کرنے سے مشروط ہے جو بدقسمتی سے حل نہیں ہو رہے اور عوام کے مصائب بڑھ گئے ہیں۔ یہ بات انہوں نے آج پارٹی سیکرٹیریٹ سے جاری ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے مئی 2013 ؁ء کے انتخابی نتائج کو تحفظات کے باوجود اس لیے تسلیم کیا تھا تا کہ ملک میں جمہوریت کا تسلسل رہے لیکن اسکا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ حکمران عوام کی امنگوں کو روندتے چلے جائیں ایسا اختیار اُنکو نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے عذاب، امن عامہ کی بگڑتی ہوئی صورتحال، غذائی اشیاء کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ اور صحت اور تعلیم کے شعبوں پر مجرمانہ غفلت نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے۔ پیپلز پارٹی جو کہ عوام کی سیاست کرتی ہے اس لیے ایسی طرز حکومت کی حمایت نہیں کرسکتی۔ انہوں نے پی ایم ایل (این) کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ خاندانی طرز حکومت کی روش دفن کردیں اور وزراء بشمول منتخب نمائندوں کو ڈرانے دھمکانے سے اجتناب کریں کیونکہ ایسا رویہ جمہوری اقدار کے سراسر منافی ہے۔ انہوں نے پنجاب کے وزیراعلیٰ کی حکمت عملی جس میں وزیراعلیٰ کے آفس کو ’’آؤٹ سورس‘‘ کرنے کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ اس سے ملوکیت کا رجحان پایا جاتا ہے جو جمہوریت کی بنیاد کو ہلا دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو منتخب سربراہانِ حکومت کی طرح کاروبار حکومت چلانے چاہئیں۔ یہ سب سے اعلیٰ عہدے جمہوریت میں خاندانی جاگیر نہیں ہیں۔ تنویر اشرف کائرہ نے کہا کہ حکومت کو پی ٹی آئی کے انگوٹھوں کے ذریعے ووٹرز کی تصدیق کے مطالبے کو فورًا تسلیم کرلینا چاہیے کیونکہ ایسا نہ کرنے سے ایک بڑا نقصان اٹھنے کا اندیشہ ہے جو جمہوریت اور ملک دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ضابطوں میں کمزوریاں نکال کر انتخابی شکایات کے ازالے میں التواء اس تاثر کو تقویت دے رہا ہے کہ حکومت دھاندلی کے کاروبار میں ملوث تھی۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں ڈائیلاگ ناگزیر ہوتے ہیں انکی اشد ضرورت سے انکاری یقیناًجمہوریت میں یقین نہ رکھنے کے برابر ہے۔ جمہوریت کے نظا میں اپوزیشن ناگزیر ہے بلکہ اپوزیشن کو ’’گورنمنٹ اِن ویٹنگ ‘‘کہا جاتا ہے۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں