حکومت پنجاب نے ٹریفک وارڈن کو آمدنی کا ذریعہ سمجھ لیا ہے: دیوان محی الدین

x240-7wx

ٹریفک وارڈن کا کردار پنجاب حکومت کی طرف سے روزانہ کی بنیاد پر ایک خاص حد تک لوگوں کے چالان کرنے تک محدود رہ گیا ہے اور اسکے بعد وہ ٹریفک کے قوانین کی پابندی کرانے کی بجائے ایک سائیڈ پر کھڑے گپیں مارتے نظر آتے ہیں۔ یہ بات ڈپٹی سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی پنجاب دیوان محی الدین نے آج یہاں سے جاری ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نے ٹریفک وارڈن کو آمدنی کا ذریعہ سمجھ لیا ہے کیونکہ انکے چالانوں سے حکومت کو جرمانے کی شکل میں خاصی آمدنی ہو رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لاہور شہر کے لوگ یہ تماشا دیکھ دیکھ کر اب پنجاب حکومت کی گڈ گورننس کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہری علاقوں میں سڑکوں اور سوریج کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے جبکہ پنجاب حکومت کے وزیر اعلیٰ صرف چند نمائشی منصوبو ں میں دلچسپی لینے کے علاوہ باقی صوبے کو اسکی قسمت کے حال پر چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نہ تو بلدیاتی انتخابات کراتی ہے تا کہ لوگوں کے مقامی مسائل مقامی سطح پر حل ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں لوڈشیڈنگ، مہنگائی، اغوا ء برائے تاوان جیسے سنگین جرائم میں صوبے کے لوگوں کو شدید عدم تحفظ اور خوف میں مبتلا کر رکھا ہے لیکن موجودہ حکمرانوں کو کوئی فکر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ دار رشتہ داروں کو اربوں روپے کے فائدے پہنچائے جا رہے ہیں جبکہ عوام دو وقت کی روٹی کو ترس گئے ہیں۔ دیوان محی الدین نے کہا کہ رمضان پیکج نے غریب عوام کو ریلیف دینے کی بجائے تکلیف دینے کا موجب بنا ہے کیونکہ انکو اشیائے خوردنی مارکیٹ میں اول تو دستیاب نہیں اور اگر دستیاب ہیں تو انکی قیمتیں اتنی ہیں جوکہ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ رمضان پیکج کے تحت جو اشیائے خوردنی دستیاب ہیں انکی کوالٹی اتنی خراب ہے کہ وہ انسانوں کے لیے مضر صحت ہیں۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں