عامر ڈوگر کی ملتان میٹرو بس کے خلاف پریس کانفرنس

10489656_526538397449524_7070184870735977183_n

محترمی صحافی بھائیوں! السلام علیکم!
1 ۔ جیسا کہ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ گذشتہ کئی دنوں سے مجھ سمیت ملتان کے شہری انتہائی اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہیں۔ جب سے سنا ہے کہ ملتان میں میٹروبس سروس کا منصوبہ شروع کیا جارہا ہے۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی ملتان میں جناب سید یوسف رضا گیلانی صاحب کی خصوصی دلچسپی سے وزیر اعظم پیکج کے تحت کم و بیش شہر کی تمام سڑکوں کو کشادہ کیا گیا، فلائی اوورز تعمیر کئے گئے اور سلپ وے بنائے گئے۔ جس سے ملتان میں ٹریفک کا دیرینہ مسئلہ عرصہ دراز کے بعد تقریباً حل ہوگیا اور جس کے باعث ملتان کے شہریوں نے کئی سال اذیت میں گزارے۔ وہ اذیت تھی جب سڑکوں کو کشادہ کرنے اور فلائی اوورز بنانے کیلئے مطلوبہ لینڈ حاصل کی گئی تو ملتان کی تاریخ کی سب سے بڑی لینڈایکوزیشن ہوئی اور کافی عرصہ تک ملتان عراق جیسی تصویر پیش کر رہا تھا کہ ہر طرف ملبے کے ڈھیر اور مٹی کے پہاڑ تھے۔ بچے، خواتین، بوڑھے، طلباء اور سرکاری ملازمین بہت زیادہ متاثر ہوئے۔ ملتان کے شہری مٹی اور گرد کی وجہ سے سانس اور جلدی بیماریوں میں مبتلا رہے۔ بالآخر خدا خدا کرکے وزیر اعظم پیکج مکمل ہوا ور شہر کا نقشہ یکسر تبدیل ہوگیا اور شہریوں نے سکھ کا سانس لیا۔
جب سے پاکستان وجود میں آیا ہے پہلی مرتبہ محسن ملتان سید یوسف رضا گیلانی کی خصوصی توجہ اور مہربانی سے اربوں روپے کے ترقیاتی کام ملتان شہر میں ہوئے۔
اس موقع پر ملتان کے دو DCOsکا ذکر کرنا ضروری سمجھتاہوں۔ جن میں جناب نسیم صادق اور بالخصوص موجودہ DCO جناب زاہد سلیم گوندل نے اپنی زیر نگرانی وزیر اعظم پیکج کی Finishingکرائی اور اس کا Makeupکیا۔ گرین بیلٹس اور کثیر تعداد میں پودے اور کھجوروں کے درخت لگائے اور ملتان کی خوبصورتی میں ان DCO صاحبان نے کوئی کسر باقی نہ چھوڑی ہے۔
2۔ ملتان تاریخ و تمدن کے حوالے سے قدیم ثقافت و مذہبی تہذیب کا گہوارہ اور سیاسی اہمیت کا حامل شہر ہے۔
لیکن آبادی، صنعتی اور تجارتی حوالے سے ملتان ابھی کراچی، لاہور اور فیصل آباد سے بہت پیچھے ہے۔ ملتان میں جس جگہ پر بھی کھڑے ہو کر اپنا منہ کسی طرف بھی کرکے چلیں تو 5کلو میٹر کے بعد ملتان شہر ختم ہوجاتا ہے۔ وزیر اعظم پیکج کے تعمیرات کے بعد اور ملتان شہر کے حدود اربع کے حوالے سے ابھی آئندہ 30سالوں تک ملتان کو میٹروبس جیسے منصوبے کی قطعاً ضرورت نہ ہے۔
خادم اعلیٰ پنجاب کی خصوصی توجہ سے LTC کا ادارہ قائم ہوا جس میں 10جدید اے سی بسیں دی گئیں۔ اگر شہریوں کو مزید اچھی سفری سہولت دینا مقصود ہے تو ان بسوں میں تعداد میں اضافہ کرکے اسے بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ جو کہ فیصل موورز کمپنی کے زیر اہتمام چل رہی ہیں۔ لیکن سارا دن کسی بھی وقت میں وہ رش آورز ہوں یا نارمل ٹائمنگ یہ بسیں آپ کو کبھی فل نظر نہیں آئیں گی۔ اس کی وجہ ملتان میں کوئی اتنی بڑی صنعت یا اتنی بڑی آبادی کا نہ ہونا ہے۔ اسی طرح شہر میںKB بس سروس بھی چل رہی ہے اور ہائی ایس سٹی سروس ہر روٹ پر چل رہی ہیں۔ یہ گاڑیاں بھی خالی دوڑتی نظر آئیں گی۔ مزید یہ کہ مغرب کے بعد ملتان شہر میں دوکانیں، مارکیٹیں، پلازے بند ہوجاتے ہیں اور ملتان کی تقریباً تمام سڑکیں سنسان ہوجاتی ہیں اور اربن ٹرانسپورٹ کیلئے ایک سوارملنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ ایسے میں تقریباً40 ارب روپے ایک ایسے منصوبے کیلئے مختص کرنا قطعی Fessibleنہ ہے۔ ماسوائے اس کے کہ اربوں روپے کا قومی خزانے کا نقصان ہے اور خادم اعلیٰ صاحب کی پوائنٹ سکورنگ ہے۔ میری تجویز ہے کہ ابھی ملتان اور جوبی پنجاب میں صحت، تعلیم، پینے کے صاف پانی اور دیگر بنیادی و ضروری سہولیات میسر نہ ہیں۔ ملتان شہر کا سب سے بڑا مسئلہ سیوریج کا ہے۔ ملتان کے شہری پینے کا جو پانی استعمال کرتے ہیں وہ زیر زمین سیوریج کے پانی کے ساتھ مکس ہو کر لوگوں کے گھروں میں جاتاہے۔ جس سے موذی امراض پھیلتی ہیں۔ اسی طرح ملتان شہر کا سیوریج کا تمام پانی شہر کے چاروں اطراف میں جو نہریں بنی ہوئی ہیں ان میں ڈال دیا جاتاہے اور اس سوریج کے پانی سے ملتان کے چاروں اطراف میں موجود کھیتوں میں سبزیوں اور فروٹ کے باغات کو لگایا جاتا ہے۔ جس سے لوگوں میں ہیپاٹائٹس (A,B,C) اور کینسر جیسے خطرناک امراض لاحق ہورہے ہیں۔
3۔ ایل ایم کیورو، بوسن روڈ، وہاڑی روڈ، نواں شہر، ڈیرہ اڈا، حافظ جمال رو اور اس سے ملحقہ علاقوں کی تقریباً پانچ لاکھ سے زائد آبادی اور دوسرے روٹ پر واقع آبادیاں جو پہلے ہی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہیں۔ بے گھر ہوجائے گی، ان کاروزگار ختم ہوجائے گا۔ معاشی صورتحال جو پہلے ہی خراب ہے مزید ابتر ہوجائے گی۔ لوگ خودکشیوں پر مجبور ہوجائیں گے۔ حال ہی میں یونیورسٹی سے پرانا خانیوال اڈا تک اور پورے شہر میں تقریباً 50کروڑ روپے کے خرچ سے سیوریج کی نئی لائنیں بچھائی گئیں۔ شاہراہوں پر سٹریٹ لائٹس لگائی گئیں۔ گرین بیلٹس، پودے اور درخت لگائے گئے۔ جس سے شہر کی خوبصورتی میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ میٹروبس منصوب سے جو اکھاڑ پچھاڑ کی جائے گی اس سے کروڑوں روپے سے تعمیر شدہ منصوبے ملبے کا ڈھیر بن جائیں گے۔ اور سب سے بڑھ کر ملتا ن کا ثقافتی ورثہ اور روایات مٹی میں مل جائیں گی۔ عوام کے پیسوں کا ضیاء کسی صورت قابل قبول نہ ہے۔
4۔ ملتان ماسٹر پلان میں ملتان کے چاروں اطراف تین واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹProposedہیں۔ جن میں سے ایک ایشین ڈویلپمنٹ بنک کے تعاون سے سورج میانی میں بن چکا ہے لیکن 100% Completion کے باوجود runningمیں نہیں آسکا۔ اور باقی دوٹریٹمنٹ پلانٹ بننے ہیں۔ میری گذارش ہے کہ میٹروبس کی خطیر رقم سے تین واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ بنائے جائیں۔ جن میں سیوریج کا پانی Processہو کر کاشت کیلئے استعمال ہو یا اسے دریا میں ڈال دیا جائے۔
5۔ اسی طرح ملتان شہر میں پچھلے 25سالوں سے نہ تو کوئی بوائز ہائی سکول بنایا گیا ہے اور نہ ہی کوئی گرلز ہائی سکول بنایا گیا ہے۔ اسی طرح پورے جنوبی پنجاب میں بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے علاوہ کوئی تیسری یونیورسٹی موجود نہ ہے۔ اس خطیر رقم میں سے جنوبی پنجاب بالخصوص ڈیرہ غازی خان میں ایک نئی یونیورسٹی قائم کی جائے اور ملتان میں عرصہ دراز سے ایک نشتر ہسپتال موجود ہے۔ اس رقم میں سے 10ارب روپے صحت کے شعبہ میں خرچ کئے جائیں تو نشتر جیسے 4ہسپتال جنوبی پنجاب میں بنائے جاسکتے ہیں اور بقیہ رقم جنوبی پنجاب کے تمام ہسپتالوں اور سکولوں کی اپ گریڈیشن میں لگادیں تو حقیقی معنوں میں جنوبی پنجاب میں انقلاب آجائے گا۔
6۔ ملتان میٹروبس سروس کی بجائے ملتان فیصل آباد موٹر وے جو تقریباً آدھا مکمل ہونے کو ہے اور پچھلے اڑھائی سالوں میں اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس منصوبہ کو فی الفور مکمل کیا جائے۔
8۔ پچھلے سال نواز شریف صاحب کے نام سے ٹیکنالوجی کالج کے گیٹ پر نوازشریف انجینئرنگ کالج اور ملتان گرلز کالج کچہری چوک کے گیٹ پروومن یونیورسٹی کا بورڈ لگا دیا گیا ہے۔ پرانے کالجوں پر بورڈوں کی تبدیلی سے ملتان کے عوام دھوکے میں نہیں آئیں گے۔ انجینئرنگ کالج کا قیام اور وومن یونیورسٹی کیلئے زمین کی فراہمی، الگ اور باقاعدہ بلڈنگ کی تعمیر اور سٹاف تعینات کیا جائے۔
9۔ ملتان میں 200بستروں پر مشتمل نیا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال جو جاپان کے تعاون سے چوک ناگ شاہ کے پاس پچھلے 2سالوں سے مکمل ہوچکا ہے۔ یہ ہسپتال حکمرانوں کی توجہ کا منتظر ہے کہ وہاں سٹاف اور آلات مہیا کئے جائیں تاکہ یہ 200بستروں کا ہسپتال فنکشنل ہوسکے۔ جس سے نشتر ہسپتال اور سول ہسپتال پر دباؤ کم ہوجائے گا۔ ملتان اور جنوبی پنجاب کا اکلوتا چلڈرن ہسپتال ملتان جو خادم اعلیٰ کی خصوصی توجہ کا طالب ہے جہاں ایک بیڈ پر پانچ بچے زیر علاج ہیں۔ ادویات نہ ہیں۔ ڈاکٹر اور عملہ کم ہے۔ عدم توجہ اور ادویات کی کمی کی وجہ سے ماہانہ سینکڑوں معصوم بچے اللہ کو پیارے ہوجاتے ہیں۔ 40 ارب روپے کی خطیر روم میٹرو بس سروس منصوبے جیسے فضول اورمحض ذاتی تشہیر والے منصوبے کی بجائے جنوبی پنجاب میں مزید چلڈرن ہسپتال قائم کئے جائیں۔
10۔ خادم اعلیٰ صاحب کے حکم پر 2010میں کارڈیالوجی سنٹر ملتان سے متصل چناب کلب اور شیش محل کلب کی جگہوں کو خالی کرایا گیا جہاں کارڈیالوجی سنٹر کا انتہائی نگہداشت کا نیا بلاک تعمیر ہونا تھا لیکن 5سالوں سے وہ جگہ ابھی تک خالی پڑی ہے۔ متذکرہ بلاک جلد از جلد بنایا جائے۔
11۔ ملتان میں میٹروبس نہیں چاہیے۔ ہمیں سب سے پہلے صحت، تعلیم، پینے کے صاف پانی اور بنیادی علاج معالجہ کی سہولتیں فراہم کی جائیں۔
12۔ سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی صاحب کے وزیر اعظم پیکج سے شجاع آباد روڈ کمہار منڈی تاناگ شاہ چوک 6لین روڈ ابھی تک مکمل نہیں ہوسکی۔ اسے فوراً مکمل کیا جائے۔ جو کہ اپنی مقررہ مدت تکمیل سے تین سال سے زیادہ تاخیر کی نذر ہوگئی ہے۔ اگر یہی منصوبے لاہور کے ہوتے تو کئی سال پہلے مکمل ہوچکے ہوتے۔ حکمرانوں کی عدم توجہ اس خطے کے ساتھ نا انصافی کی واضح مثال ہے۔
13۔ ملتان شہر کی ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کیلئے چونگی نمبر9، عیدگاہ چوک تا چوک رشید آباد لفائی اوور سڑک کو کشادہ کیا جائے اور چوک رشید آباد فلائی اوور تا ڈائیووبس ٹرمینل سڑک کشادہ کرکے 6لین روڈ بنا ئی جائے۔ اس کے بعد ملتان کی سڑکوں کا نظام تقریباً بہتر ہوجائے گا اور اگلے 20، 25سالوں تک ہمیں میٹروبس سروس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
14۔ خادم اعلیٰ صاحب ملتان کو بگ سٹی کا درجہ دینے کے بارہا اعلانات کرچکے ہیں۔ لیکن وہ اعلانات ہمیشہ جھوٹے ثابت ہوئے کیونکہ اس کا ابھی تک کوئی نوٹیفکیشن جاری نہ کیا گیا ہے اور نہ ہی اس ضمن میں صوبہ پنجاب کے موجودہ بجٹ میں کوئی رقم مختص نہ کی گئی۔
15۔ ملتان میں سول سیکریٹریٹ بنانے کیلئے 64 رکنی کمیٹی بنائی گئی۔ اس کمیٹی کی میٹنگز ہوچکی ہیں لیکن عملی طور پر ابھی تک کچھ نہ کیا گیاہے۔ یہ کمیٹی بھی جنوبی پنجاب کے عوام کیلئے لولی پاپ کے سوا کچھ نہ ہے۔
16۔ ملتان بالخصوص جنوبی پنجاب کی عوام کا دیرینہ اور جائز مطالبہ سرائیکی صوبہ کے قیام ہے۔ اگر خادم اعلیٰ صاحب جنوبی پنجاب کی عوام سے واقعی مخلص ہیں تو ہمیں تخت لاہور کی قید سے آزادی دیں اور ہمارے لئے علیحدہ سرائیکی صوبہ بنایا جائے۔ ہم اپنے مسائل اپنے وسائل جو ہمارے صوبہ کے حصہ میں آئیں گے سے ہم خود حل کرلیں گے۔ ہمیں ایسے منصوبے کی ضرورت نہیں جو لوگوں کی لاشوں پر بنیں۔ جس سے لوگوں کا معاشی قتل ہو اور اربوں روپے کا کمیشن حکمرانوں کی جیبوں میں جائے۔ اور پورے ملتان شہر میں جنگلا بس کی آڑ میں لوہے کی جیل نما دیواریں بنادی جائیں اور لوگوں کو مشکل میں ڈال دیا جائے۔ ہم خادم اعلیٰ اور حکومت سے اس پریس کانفرنس کی وساطت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس منصوبے کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور اس منصوبے کیلئے رکھی گئی خطیر رقم کو ملتان اور جنوبی پنجاب کے مختلف شعبہ ہائے زندگی او ر عوامی منصوبوں پر خرچ کیا جائے۔ جس کا ذکر ہم درج بالا پریس کانفرنس میں تفصیل سے کرچکے ہیں۔ اور اگر یہ منصوبہ ختم نہا کیا گیا تو ملتان کے عوام احتجاج کرنے پر مجبور ہوجائے گی۔ اور ہم اس منصوبے کے خلاف عوامی سطح پر مظاہرے کریں گے، دھرنے دیں گے اور اپنے شہر کی غریب عوام کے معاشی قتل اور تاریخی شہر کی بربادی ہر گز نہیں ہونے دیں گے۔ ہر طرح کا قانونی اور احتجاجی راستہ اختیار کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔ ملتان کی تمام سیاسی، سماجی، دینی ، تاجر برادری، سول سوسائٹی، انجمن شہریان اور ان تمام متاثرہ افراد سے اپیل کرتے ہیں کہ اس احتجاج میں وہ ہمارا ساتھ دیں۔ موجودہ حکمران جمہوریت نہیں بلکہ آمریت سے بھی بڑھ کر جمہوریت کے نام پر بدترین شخصی آمریت قائم کئے ہوئے ہیں۔
ملک محمد عامر ڈوگر
Ex-MPA / سیکریٹری جنرل
پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب
317۔ شیر شاہ روڈ ملتان

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں