Majid Nizami’s death irreparable loss: Mian Manzoor Wattoo

Mian Manzoor Wattoo in a meeting with Majeed Nizami at Lahore on December 21, 2012.
Mian Manzoor Wattoo in a meeting with Majeed Nizami at Lahore on December 21, 2012.

The passing away of the Chief of Nawa-i- Waqat Group of Papers and veteran journalist Majid Nizami is an irreparable national loss, said Mian Manzoor Ahmed Wattoo in his condolence message to Ramazee Nizami, daughter of the deceased. He was a national asset and a symbol formidable support for the cause of the people of Pakistan in general and for the Kashmiri people in particular, he added.

He paid rich tributes to departed soul who always spoke truth in the face of successive tyrannical rules in the country without fear or favour. He is known as the greatest upholder of “speaking the truth in the face of tyrannical rulers is the best form of Jihad’.

Mian Manzoor Ahmed Wattoo recalled his acquaintance with late Majid Nizami as a great experience who would speak out on delicate issues with confidence and clarity with objectivity overtones.

He said that late Majid Nizami played a leading role in mobilizing the Muslim students under the banner of Muslim Students Federation that gave the requisite impetus to the Pakistan Movement. Quad-i- Azam appreciated the role of the MSF on a number of times.

Mian Manzoor Ahmed Wattoo said that it would not be bit of an exaggeration if he was described as the father of the freedom of Press Movement in the country and was lucky to see the same during his life time. He services for the freedom of the press will be remembered in golden words in the history of Pakistani journalism, he added,

Mian Manzoor Ahmed Wattoo maintained that he proved worthy of being the true follower of the Quaid-i- Azam because throughout his life he upheld the ideals of the Quaid like his unequivocal commitment to democracy, constitutional rule , freedom of expression and above all struggle for the inalienable rights of the Kashmiri people .

He prayed that Almighty Allha may blessed the departed soul with eternal peace and grant the fortitude to the bereaved family to bear this loss.

پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے نوائے وقت گروپ آف نیوز پیپر کے سربراہ مجید نظامی کی وفات پر رمیز ے نظامی کے نام اپنے تعزیتی پیغام میں اسکو قومی نقصان قرار دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی عوام اور پاکستان کے مفاد کے علاوہ کشمیریوں کی آزادی کے لیے ایک طاقتور آواز تھے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ جابر حکمران کے سامنے بغیر خوف و خطر کلمہ حق کہنا صرف مرحوم مجید نظامی کا ہی شیوہ تھا۔ وہ کہتے تھے کہ جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا بہترین جہاد ہے اور انہوں نے یہ جہاد بلا شبہ ساری عمر کیا۔ میاں منظور احمد وٹو نے مرحوم مجید نظامی سے اپنی شناسائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بڑے سے بڑے حساس قومی امور پر صاف گوئی سے بات کرنے کے عادی تھے جس میں قومی مفادات کا پورا پورا لحاظ کیا جاتا تھا۔ انہوں نے انکی تحریک پاکستان کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے بینر تلے مسلمان طلباء کو تحریک پاکستان کے لیے منظم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا جس سے تحریک پاکستان اور بھی فعال ہوئی۔ قائداعظم نے کئی موقعوں پر مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا تھا۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ کسی مبالغہ آرائی کے بغیر یہ کہنا حق بجانب ہو گا کہ مرحوم پاکستان میں آزادی صحافت کے معتبر قائد تھے اور وہ خوش نصیب تھے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ہی آزادی صحافت کا سورج طلوع ہوتے دیکھا اور انشاء اللہ اب سینسر شپ کی اندھیری رات کبھی بھی پاکستان کی صحافت پر ڈیرے نہیں ڈالے گی۔ پاکستانی صحافت کی آزادی کی تاریخ میں مجید نظامی کی خدمات کو سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ مرحوم قائد اعظم کے مخلص پیروکار تھے کیونکہ انہوں نے ہمیشہ پارلیمانی جمہوریت، آئین کی بالادستی، آزادی صحافت اور سب سے بڑھ کر کشمیریوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کی جسمیں کبھی بھی لرزش تک محسوس نہیں ہوئی۔ میاں منظور احمد وٹو نے اپنے تعزیتی پیغام میں مرحوم کے بلند درجات کے لیے دعا کی اور کہا کہ سوگوار خاندان کو اللہ تعالیٰ اس ناقابل تلافی نقصان کو برداشت کرنے کا حوصلہ عطا فرمائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں