اگرلوڈشیڈنگ بند نہ کی گئی توعید کے بعد پیپلزپارٹی ملک بھرمیں مظاہروں کی کال دے گی: سینیٹررضاربانی

ppp47924902_2013415154737

کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے ایڈیشنل سیکریٹری جنرل سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہاہے کہ اگر لوڈشیڈنگ بند نہ کی گئی تو عید کے بعد پیپلز پارٹی ملک بھر میں ہونے والی بدترین لوڈشیڈنگ کے خلاف ملتان، فیصل آباد، سیالکوٹ ،گوجرانوالہ سمیت پورے ملک میں مظاہروں کی کال دے گی،وہ آج یہاں کراچی میں ہونے والے بدترین بریک ڈاؤن اور لوڈشیڈنگ کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے تحت مظاہرے سے خطاب کررہے تھے جو کے الیکٹرک ہیڈ آفس کے سامنے منعقد کیا گیا۔سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ صرف ہلکی سی بونداباندی کی وجہ سے کراچی میں24گھنٹے سے زیادہ بریک ڈاؤن یہ ثابت کرتا ہے کہ کے الیکٹرک کی انتظامیہ ادارہ چلانے کی اہل نہیں اگر بارش ہوگئی تو کیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جب جنرل پرویز مشرف کے ای ایس سی کو پرائیویٹائز کررہا تھا تو ہم نے اس کی سخت مخالفت کی تھی اس لئے کہ یوٹیلٹی ادارے چلانا حکومت کا کام ہے ان اداروں کو حکومت بھاری سبسڈی فراہم کرتی ہے ،سرمایہ دار چاہئے ملکی ہو یا غیر ملکی صرف پیسہ کمانا چاہتا ہے، سرمایہ داروں کو عوام کو بجلی کی فراہمی سے کوئی دلچسپی نہیں۔ کے ای ایس سی نے بھی اپنے منافع میں اضافے کے لئے فرنس آئل سے چلنے والے پاورپلانٹ بند کررکھے ہیں 3200 میگا واٹ کی پیداواری صلاحیت کے باوجود صرف 600 میگا واٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے، باقی واپڈا اور آئی پی پی سے حاصل ہونے والی بجلی پر انحصار کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے کراچی جیسے بین الاقوامی شہر میں 16,16 گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک انتظامیہ نہ ملکی قوانین پر عمل کررہی ہے نہ ہی لیبر قوانین اور نیپرا کے احکامات پر عمل کررہی ہے۔ بغیر کسی وجہ کے 7000 سے زیادہ مستقل ہنر مند ملازمین کو جبری برطرف کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کر کے کراچی کے عوام کے ساتھ ظلم و زیادتی کی جارہی ہے کراچی کی معیشت کو تباہ کر دیا گیا ہے کاروبار بند ہوگیا ہے اور کراچی جو روشنیوں کا شہر تھا اندھیروں میں ڈوب گیا ہے رمضان کے مقدس مہینے میں لوڈشیڈنگ کر کے عوام کو سخت اذیت میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔ سینئر صوبائی وزیر تعلیم نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ کے الیکٹرک کی پرائیویٹائزیشن کا عمل غلط اور غیر قانونی تھا جنرل پرویز مشرف اور شوکت عزیز نے کے ای ایس سی کو پرائیویٹائز کر کے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اور بغیر بجلی کے کراچی کے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے ۔ کے الیکٹرک کی نجکاری ختم ہونی چاہیے اور اسے دوبارہ حکومت کی تحویل میں لیا جائے۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ کے الیکٹرک کی انتظامیہ جان بوجھ کر لوڈشیڈنگ کررہی ہے، ان میں ٹیکنیکل صلاحیت نہیں ہے انہوں نے 7000 سے زیادہ ملازمین کی برطرفیوں کی سخت مذمت کی اور ہائی کورٹ سے اپیل کی کہ کے ای ایس سی کے ملازمین کے مقدمہ کا فیصلہ جلد سنایا جائے۔صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا کہ کے الیکٹرک بدترین لوڈشیڈنگ کررہی ہے واٹر بورڈ کے پمپنگ اسٹیشنز پر بھی بلاجواز لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے جس کی وجہ سے کراچی کو کروڑوں گیلن پانی کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے اور پانی کی قلت پیدا ہوجاتی ہے اور کراچی کے عوام کے الیکٹرک کی وجہ سے کروڑوں گیلن پانی سے محروم ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واٹر بورڈ پر بوگس بلنگ کی گئی ہے، یہ شہری سہولتیں فراہم کرنے والے ادارہ ہے پمپنگ اسٹیشنوں اور واٹر بورڈ کی تنصیبات پر لوڈشیڈنگ غیر قانونی اور ہائی کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے الیکٹرک کی خلاف قانون لوڈشیڈنگ کا نوٹس لے گی۔ مظاہرے سے صوبائی وزیر جاوید ناگوری، شرمیلا فاروقی، ایم کیو ایم کے ایم پی اے سید خالد احمد، ایم پی اے ساجد جوکھیو نے بھی خطاب کیا۔ مظاہرے میں ایم کیو ایم کے پارلیمانی وفد نے بھی شرکت کی اس موقع پر پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی سینیٹر سعید غنی، ایم این اے شاہجہان بلوچ،وزیراعلیٰ سندھ کے اسپیشل اسسٹنٹ وقار مہدی،راشد ربانی،صدیق ابو بھائی، شاہ جہاں خان، ایم پی اے شمیم ممتاز،ایم پی اے شاہینہ شیر علی،ایم پی اے ثانیہ ناز،ایم پی اے نواب تیمور تالپور، سید نجمی عالم، لطیف مغل ،ذوالفقار قائم خانی، منظور عباس ،سردار خان، ،سلمان عبداللہ مراداور یپلز پارٹی کے عہدیداروں اور کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

Source : Media Cell PPP Sindh

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں