ملک میں لوڈشیڈنگ کا عذاب اس حکومت کو جلد لے ڈوبے گا: میاں منظوروٹو

218860_l

پاکستان پیپلز پارٹی 16،16گھنٹوں کی ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کو برداشت نہیں کریگی کیونکہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ حکومت کے بس کی بات نہیں ہے ۔ یہ بات صدر پنجاب پیپلز پارٹی نے آج یہا ں سے ایک جاری بیان میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں لوڈشیڈنگ کا عذاب اس حکومت کو جلد لے ڈوبے گا کیونکہ عوام کی اس ضمن میں تمام امیدیں دم توڑ چکی ہیں۔میاں منظور احمد وٹو نے خاص کر کسان برادری کا ذکر کرتے ہوئے کہا جو اس سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ سے ٹیوب ویلوں کے ذریعے آبپاشی کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے جس سے زرعی پیداوار خطرناک حد تک کم ہو رہی ہے۔ انہوں نے صنعتی شعبہ اور خاص کر چھوٹے کاروبار سے منسلک لوگوں کا ذکر کیا اور کہا کہ لوڈشیڈنگ سے انکے کاروبار تباہ ہو گئے ہیں اور اسکے ساتھ ہی مزدوروں کا ذریعہ معاش بھی ختم ہو گیا ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں ٹیوب ویلوں کو 3،3گھنٹو ں کی بلاتعطل اور سستی بجلی مہیا کی جاتی تھی جس سے کسانوں کی آبپاشی کی ضرورتیں بخوبی پوری ہو رہی تھیں اور ملک خوراک کے معاملے میں خودکفیل ہو گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب ایک ایک گھنٹہ ٹیوب ویلوں کو مہنگی بجلی سے پانی کھیتوں کے ٹیل تک نہیں پہنچتا جس سے آبپاشی کو شدید نقصان ہو رہا ہے جو کسانوں کے معاشی قتل کا موجب بن رہا ہے ۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ حکومت 7000میگا واٹ کی شارٹ فال کو کم کرنے میں ناکام رہی ہے جو عوام میں سخت مایوسی کا باعث ہے اور وہ اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ یہ حکومت نہیں کر سکتی اسکے باوجودہ کہ انہوں نے بلند بانگ دعوے کئے تھے کہ وہ لوڈشیڈنگ کو سالوں میں نہیں بلکہ مہینوں میں ختم کر دیں گے۔ میاں منظور احمد وٹونے کہا کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کا نندی پور ہائیڈل پاور پراجیکٹ مقام عبرت بن گیا ہے جو نہ تو بجلی پیدا کر رہا ہے اور اگر تھوڑی بہت کر رہا ہے تو وہ سب سے زیادہ مہنگی ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے یاد دلایا کہ پیپلز پارٹی کی پچھلی حکومت نے نیشنل گرڈ میں تقریباً3400میگا واٹ بجلی شامل کی تھی جس سے لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 3سے 4گھنٹے تک رہ گیا تھا ۔ اس حکومت نے ایک سال سے زائد عرصہ میں حقیقت میں ایک میگا واٹ بجلی بھی نیشنل گرڈ میں شامل نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ مینار پاکستان میں ہاتھ میں پنکھا لئے پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف احتجاج کیا کرتے تھے اب ان کو موجودہ اور ماضی کی صورتحال کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے خود ہی اپنے رد عمل کا فیصلہ کرنا چاہیے کیونکہ یہ اب انکی عزت کا سوال ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں