Mian Manzoor Wattoo for withdrawal of article 245

Mian Manzoor Ahmed Wattoo, President Punjab PPP, has called upon the government to immediately withdraw article 245 because almost all the political leadership of the country and the civil society had opposed it bitterly describing it as unwarranted and most unpopular decision.

He said this in a statement issued from the Party headquarters here today.

He argued that the situation in Islamabad was not worst than of Peshawar and Quetta adding how come the government found it appropriate to invoke the article in the federal capital.

He urged the government to cut its political losses by lifting the article 245 from the federal capital because its continuation entailed the suspension of fundamental rights of the citizens who would not like it. The possibility of the clash of the institution with the people with devastating consequences could not be ruled out, he added.

He argued that it also implied that the government and its law enforcement agencies had failed to secure the federal capital reflecting poorly on the ability of the government regarding its acumen of crisis management.

He said that it could be stetted without the fear of contradiction that the government had taken the decision in panic adding such decision having far reaching implications must be taken after threadbare discussions at the Parliamentary forum so that its ownership could be taken by all across the political divide.

He maintained that it seemed that the ruling Party had not abandoned the temptation of taking solos flight regardless of its inevitability of violent turbulences with the prospects of crash landing. In this case, they are ironically descending to the same ill- fate if better sense does not prevail earlier, he predicted.

He said that denying the relevance of the collective wisdom in a democratic dispensation by mandarins was indeed repudiating the democratic ethos by any criterion by them.

He said that the ruling Party was unfortunately averse of taking the other political parties into confidence on matters of national importance and in the process had created political rift, not good for the promotion and strengthening of democratic institutions in the country.

He pointed out that ongoing military operation in Wazirstan was launched without taking into confidence the Parliament and the political leadership alike and the Prime Minister had not till this time took the trouble of bringing the Parliamentarians in the loop.

پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آرٹیکل 245کو فورًا واپس لے کیونکہ ملک کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں بشمول سول سوسائٹی نے اس فیصلے کی شدید مخالفت کی ہے۔ انہوں نے یہ بات پارٹی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں حالات کوئٹہ اور پشاور سے تو بدتر نہیں ہیں تو پھر حکومت نے کس بنیاد پر اس آرٹیکل کو اسلام آباد میں نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اس آرٹیکل کو فورًا واپس لے کر اپنے سیاسی نقصانات کو کم کر سکتے ہیں۔ کیونکہ اس فیصلے کے عملدرآمد سے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں جس کو وہ ہرگز پسند نہیں کرتے کیونکہ انہوں نے ان حقوق کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان محاذ آرائی کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا جسکے ملک کو سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ حکومت اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے وفاقی دارالخلافہ کو سیکیورٹی فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں جس سے حکومت کی نااہلی بھی عیاں ہوتی ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ یہ بلا خوف و تردید کہا جا سکتا ہے کہ حکومت نے یہ فیصلہ بوکھلاہٹ میں کیا ہے حالانکہ ایسے اہم فیصلے پارلیمنٹ میں ہونے چاہئیں تا کہ تمام سیاسی جماعتیں اسکی ذمہ داری لیں اور انکو عملی جامہ پہنانے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ کی قیادت نے سولو فلائٹ کی عادت نہیں چھوڑی ہے اسکے باوجودہ کہ ایسی فلائٹ کا انجام سیاست میں ہمیشہ کریش لینڈنگ کی صورت میں ہوتا ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ باہمی مشاورت کی روایت سے انکاری جمہوری روایت سے انکاری کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی پارٹی باہمی مشاورت سے حتی المقدور اجتناب کرتی ہے اور پارلیمنٹ اور سیاسی قائدین کو اہم قومی امور پر اعتماد میں لینے کی بجائے خاموشی سے اہم فیصلے صادر کردیتی ہے جس سے سیاسی تناؤ پیدا ہوتا ہے جو جمہوریت اور اسکے فروغ کے لیے نقصان دہ ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ وزیرستان آپریشن میں بھی موجودہ حکومت نے نہ تو پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا اور نہ ہی سیاسی جماعتوں کے قائدین کو اس ضمن میں باخبر رکھا۔ ابھی تک ایسی ہی صورتحال ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں