Provocative statements by PMLN & PTI will only deepen the prevailing political deadlock: Mian Manzoor Wattoo

218860_l
Threats and counter threats by PML (N) and PTI along with provocative statements by respective leaders will only deepen the prevailing political deadlock in the country at a time when the country is fighting the war of its survival, said Mian Manzoor Ahmed Wattoo in a statement issued from here today.

He said that the country’s security was under threat and the declaration of political fight unto submission by the PTI and the acceptance of the challenge by the PML (N) would only strengthen the hands of the forces of extremism and terrorism at the expense of democracy.

He deplored the sense of proportion of the political parties which were up in arms to subdue the political opponents through agitation and while other was gearing up to deny the legitimate right of peaceful procession on August 14.

He recalled that the PML (N) leaders had also lunched long march and train march in the past but they were not stopped adding why the same democratic right was being denied to the PTI. Heaven will not fall as a result of PTI long march, he observed.

He underscored the importance of calling the joint session of the Parliament to resolve the issue through the highest democratic forum instead of resorting to street politics because the time was not right for the politics of agitation.

He predicted that protests and processions would not bring down the elected government but the mistake like the Model Town incident by this government could lead to their early packing up like in the past.

He maintained that the suicidal politics was anathema to democratic dispensation the essence of which was accommodation, reconciliation and finding the way out from the complicated political situation. Failure to find the way out will reflect poorly on the government of the day, he argued.

He recalled that the Chairman Bilawal Bhutto’s advice to the leadership of the country regarding shunning the political differences and focusing on to secure country’s security as their top priority was the need of the hour.

پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کی سیاسی محاذ آرائی کے علاوہ انکے قائدین کے دھمکی آمیز بیانات سے ملک کا سیاسی ڈیڈلاک اور بھی سنگین صورت اختیار کرگیا ہے جب پاکستان اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے۔ یہ بات پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے آج یہاں سے جاری ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا حکومت کو گرانے کا اعلان اور حکومتی ممکنہ پیش بندی سے دہشتگردوں اور انتہا پسندوں کو ہی فائدہ ہو گا جبکہ جمہوریت کو اس سے نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے ان جماعتوں کی سیاسی سوچ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا رویہ جمہوریت کے مزاج کے سراسر منافی ہے۔ حکومت 14 اگست کوپی ٹی آئی کے پر امن احتجاج کرنے پر کیوں بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے بھی لانگ مارچ اور ٹرین مارچ کئے تھے لیکن اسوقت کی حکومت نے کوئی مداخلت نہیں کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے کوئی آسمان نہیں گرے گا۔ میاں منظور احمد وٹو نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی مسائل کو جمہوریت کے سب سے بڑے فورم یعنی پارلیمنٹ میں ہی حل ہونے چاہئیں۔ انہوں نے پیشینگوئی کی کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے حکومت نہیں گرے گی لیکن حکومت کی ماڈل ٹاؤن طرز کی غلطیوں سے حکومت کے خاتمے کا جلد احتمال ہو سکتا ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ جمہوری سیاست میں کشتیاں جلانے کی سیاست کا تصور نہیں ہوتا بلکہ جمہوریت میں مشاورت، مفاہمت، اور پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر چلتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر سیاستدان مشکل سیاسی حالات کو حل کرنے میں ناکام رہے تو اس سے سیاستدانوں کا امیج بھی متاثر ہوتا ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے چےئرمین بلاول بھٹو کے ملک کے سیاستدانوں سے باہمی اختلاف پس پشت ڈالنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور ملک کی سلامتی انکی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں