میاں منظور وٹو کی سربراہی میں پی پی پنجاب کے عہدیداروں کی رمیزہ مجید نظامی سے ملاقات اور مجید نظامی کی وفات پراظہار تعزیت

10583866_428721163932311_2021720003393010008_n
10445963_428723527265408_5762607344497531140_n

میاں منظور احمد وٹو کی سربراہی میں پی پی پنجاب کے عہدیداروں نے گزشتہ روز ایڈیٹر انچیف نوائے وقت گروپ اور ایڈیٹر نوائے وقت رمیزہ مجید نظامی سے ملاقات کی اور مجید نظامی کی وفات پر تعزیت کی۔ اس موقع پر میاں منظور احمد وٹو نے کہا ان کی مجید نظامی سے ذاتی نیازمندی تھی۔ وہ ملکی معاملات پر مجید نظامی مرحوم سے مشورہ اور گائیڈنس لیتے تھے۔ مختلف معاملات پر ان سے بات کرکے ان کی رائے حاصل کرتے تھے۔ مجید نظامی مرحوم کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا کبھی پورا نہیں کیا جاسکتا۔ مجید نظامی اپنی ذات میں ایک ادارہ تھے۔ وہ نظریہ پاکستان کے تحفظ، ملکی سلامتی، آئین، قانون، جمہوریت کے تحفظ کے لئے ہمیشہ مضبوط چٹان کی طرح کھڑے رہے اور ان کے پایہ استقلال میں کبھی لغزش نہیں آئی۔ وہ ہمیشہ سچی اور کھری بات کرتے تھے۔ یہ صرف ان کی خوبی تھی کہ وہ ان لوگوں سے بھی جو ان سے قریبی تعلق رکھتے تھے ان کے سامنے بیٹھ کر صاف صاف سچی بات کرتے تھے۔ ایسا کرنا صرف مجید نظامی مرحوم کا ہی کام تھا۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ انہیں نہ کوئی لالچ تھا اور نہ کسی سے کوئی غرض تھی۔ وہ سچے محب وطن تھے۔ وہ نہایت اچھی اقدار کے مالک تھے اور انہوں نے ان اقدار کو پھیلانے کے لئے پوری زندگی صرف کردی۔ پیپلز پارٹی کے وفد میں میاں منظور، مانیکا، ایڈیشنل جنرل سیکرٹری، دیوان محی الدین، ڈپٹی جنرل سیکرٹری افنان بٹ، میاں ایوب، سیکرٹری اطلاعات بیرسٹر راجہ عامر، بیرسٹر حسن صفدر، میاں عبدالوحید، سہیل ملک، اکرم شہیدی، قدیر وڑائچ اور مانی پہلوان شامل تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں