PPP totally committed to the continuity of democracy: Mian Manzoor Wattoo

Mian Manzoor Ahmed Wattoo, President Punjab PPP, has reiterated that the PPP was totally committed to the continuity of the political system in the country and would not allow its derailment come what may. He said this in a statement issued from here today.

He mentioned that the PPP previous democratic government completed the five year constitutional tenure in pursuance of the political foresight of the former President Asef Ali Zardari which was based on mutual consultation and reconciliation along with taking all political parties on board on all important issues of national importance.

He maintained that unfortunately there was trust deficit between the ruling party and the rest of the majority of political parties and the mandarin’s reluctance to extend olive branch had futher complicated the political environment of the country filled with apprehensions of hurting the system.

He maintained that the protests and the processions would not lead to the downfall of the elected government but the blunders of the incumbent government could because they were known for shooting their feet with their own gun.

He urged the government to negotiate with the Parties at all cost even it had to resort to door crashing adding that the time was the essence and there no room for the indecisiveness and complacency.

He called upon that the government should not contemplate to the pre-emptive arrests of the political opponents and instead engage them to defuse the situation by accepting their demands. Their delay to the vote verification of four seats has led to the demand of mid-term polls, he observed.

He said that the mid terms polls were not unconstitutional as maintained by the some quarters adding that the Prime Minister of Pakistan could dissolve the Assembly for seeking fresh mandate if in his judgment the conditions prevailing in the country warranted so.

Mian Manzoor Ahed Watto pointed out that it was the sole prerogative of the Prime Minister to take such decision and nobody else was empowered to do so for which the credit goes to the PPP leaders.

He recalled that the former President Asef Ali Zardari voluntarily delegated this notorious power, 58-2/ B, to the Parliament and now the leader of the House was totally empowered to decide the fate of the incumbents National Assembly.

پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے آج یہاں سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ انکی پارٹی جمہوریت کے تسلسل کی کسی قیمت پر کوئی بارگیننگ کرے گی اور نہ ہی اسے پٹڑی سے اترنے دیگی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی پچھلی جمہوری حکومت نے صدر آصف علی زرداری کی سیاسی حکمت عملی کی بدولت اپنی آئینی مدت پوری کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مفاہمت، رواداری اور دوسری جماعتوں کو اعتماد میں لینا انکی سیاسی حکمت عملی کی بنیاد تھی۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے موجودہ حکومت ان خصوصیات سے عاری ہے جسکی وجہ سے حکومت اور اکثر سیاسی جماعتوں کے درمیان بداعتمادی کی فضاء پیدا ہو گئی ہے مزید برآں حکومت نے بھی صلح صفائی کی خلوص نیت سے کوشش نہیں کی جس سے ملک کا سیاسی ماحول اور سنگین ہو گیا ہے جس میں جمہوریت کے لیے خطرات موجود ہیں۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ احتجاج اور جلوسوں سے حکومت نہیں گرے گی، اگر گرے گی تو حکومت کی اپنی فاش غلطیوں سے گرے گی کیونکہ پاکستان مسلم لیگ کی قیادت اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے لیے مشہور ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے حکومت پر زور دیا کہ وہ فورًا ناراض سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کرے اور انکے مطالبات کو تسلیم بھی کرے ۔مذاکرات شروع کرنے کے لیے اگر ڈور کریشنگ بھی کرنا پڑے تو کوئی حرج نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں سستی نہیں کرنی چاہیے اور یہ وقت کا تقاضہ ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے حکومت سے کہا کہ وہ سیاسی مخالفین کی گرفتاریوں سے اجتناب کرے اسکے برعکس انکے ساتھ بات چیت کے ذریعے موجودہ سیاسی کشمکش کو ختم کرنے کے لیے خلوص دل سے کام کرے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے 4حلقوں میں ووٹوں کی تصدیق کے مطالبے کو نہ مان کر اب بات مڈٹرم انتخابات تک جا پہنچی ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ مڈٹرم انتخابات کچھ ایسی انہونی نہیں ہے جیسا کہ بعض سرکل اسکو غیر آئینی قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں وزیراعظم پاکستان کو پورا پورا اختیار دیا گیا ہے کہ وہ جب چاہیں وہ اسمبلی کو توڑ دیں اگر وہ یہ سمجھیں کہ ملک میں حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جو نئے مینڈیٹ کے متقاضی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اختیار وزیراعظم کو سابق صدر آصف علی زرداری نے رضا کارانہ طور پر پارلیمنٹ کو دیا تھا تا کہ ماضی کی طرح صدر 58-2/b استعمال کرتے ہوئے جمہوری حکومتوں کو وقت سے پہلے گھر نہ بھیج سکے۔

کیٹاگری میں : News

اپنا تبصرہ بھیجیں