Mian Manzoor Wattoo lauds hectic efforts of Asif Ali Zardari to diffuse the present political stalemate

218860_l
President Pakistan People’s Party Punjab, Mian Manzoor Ahmed Wattoo has appreciated the hectic efforts of the former President Asif Ali Zardari and Amir-i-jamait-i-Islami Professor Sirjaj-ul-Haq aimed at to diffuse the present political stalemate in the country. It clearly suggests their unequivocal commitment to democracy and constitutionalism as being in the best interest of the country and the people of Pakistan

He expressed the hope that the efforts of two leaders along with the support of other parties would succeed in breaking the deadlock in the interest of democracy, constitution and Pakistan’s security.

He maintained that the overwhelming majority of the political parties believed in change in the government through political means for which the constitution of the country stipulates the rules quite clearly. He was upbeat that Parliamentary Reforms Committee would bring changes in the electoral process to ensure the impartiality of the elections in absolute terms.

Mian Manzoor Ahmed Wattoo called upon the government not to resort to petty pre-emptive arrests of the political workers of the political opponents because it could throw cold water on the efforts of the leaders who were actively engaged to save the country from plunging into a chaos.

He recalled that the PPP in its previous democratic government applied the political methodology to settle the political issues through political means and did not contemplate to witch hunting because in democratic dispensation it always proved counter-productive. Not a single political

worker was put behind bar by the PPP government during its five years, he pointed out.

The PPP government pro-actively followed the policy of reconciliation and taking all political parties on board on matters of national importance and excessively used the forum of Parliament to resolve the issues through consensus.

He maintained that that despite being the coalition government almost all the amendments in the constitution were brought in on the basis of total consensus. It must be kept in mind that the amendments were of far reaching nature having bearings on the relations between the federation and its units, division of resources from the Divisible Pool, appointment of judges of the Apex Court, giving special status to Gilgit Baltistan, identity to KPK.

پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے امید ظاہر کی ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور امیر جماعت اسلامی پروفیسر سراج الحق کی کوششیں ملک میں سیاسی ڈیڈلاک کو ختم کرنے میں کامیاب ہوں گی۔ انہوں نے یہ بات یہاں سے جاری ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں قائدین کی کوششوں سے بلاشبہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جمہوریت اور آئین کی بالادستی کو ملک کے بہترین مفاد میں سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی اکثر سیاسی جماعتیں جمہوری طریقوں سے سیاسی تبدیلی لانے کے حق میں ہیں جیسا کہ آئین میں طریقہ کار وضح ہے۔ انہوں نے پورے یقین سے کہا کہ پارلیمانی ریفارمز کمیٹی موجوپاکستاندہ انتخابی عمل میں دور رس تبدیلیاں لانے میں ضرور کامیاب ہو گی۔ اور جن کے اطلاق سے ملک میں ایسے شفاف انتخابات کروانا ممکن ہو گا جس پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔ انہوں نے کہا کہ منصفانہ اور شفاف انتخابات جمہوریت کی بنیاد ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سیاسی کارکنوں کی گرفتاری سے پرہیز کرے کیونکہ اس سے سیاسی فضاء مزید خراب ہو گی اور قائدین کی کوششوں پر اوس پڑ جائے گی جو کہ وہ حالات کو سدھارنے کی اور ملک کو لاقانونیت اور انارکی سے محفوظ رکھنے کی انتھک کوششیں کر ہے ہیں۔انہوں نے یاددلایا کہ پیپلز پارٹی کی پچھلی مخلوط جمہوری حکومت نے سیاسی مسائل کو سیاسی طریقوں سے حل کرنے کی کامیاب حکمت عملی اپنائی۔ انہوں نے کہا کہ انتقامی سیاست ہمیشہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوتی ہے۔ انہوں نے یاددلایا کہ پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور میں ایک بھی سیاسی کارکن کو جیل میں نہیں ڈالا گیا۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے مفاہمت اور رواداری کی سیاست کی اور قومی امور کے فیصلے کرتے وقت ہمیشہ ملک کی سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیا۔ انہوں نے کہا کہ یادرکھنا چاہیے کہ اس پالیسی کی بدولت مخلوط حکومت ہونے کے باوجودہ پیپلز پارٹی کی حکومت تقریباً آئین میں تمام ترامیم متفقہ طور پر لانے میں کامیاب ہوئی جسمیں تاریخی 18ویں ترمیم بھی شامل ہے جس سے 1973 ؁ء کے آئین کی مکمل بحالی ہوئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں