No room for mistake now for the government, says Mian Manzoor Wattoo

There is no room for mistake now for the government and therefore it must diffuse the looming political crisis without fail, said Main Manzoor Ahmed Wattoo while talking to media in Lalamusa today after offering condolence with Qamar Zaman Kaira and Tanvir Ashraf Kaira on passing away of their uncle, Chaudhry Akram Kaira, a veteran leader of the PPP.

He maintained that the Prime Minister should accept the demands of the PTI to the maximum extent clearly indicating that he was prepared to bring amendments for the sake of the continuity of the political system and also getting the country out of the present political crisis.

He observed that ironically PML (N) government had always decided in favour of delayed action when the damage had already been done. This time too they are making the same mistake, he added.

While responding to a question, Mian Manzoor Ahmed Wattoo said that the PPP was ready to contest the mid-term pools if these become inevitable. PPP is a national Party with glorious history of struggle for democracy, and the people of the country were aware of its credentials known as the Party of the poor masses.

He further said that the PPP Punjab had completed the organizational gigantic task of the Party up to tehsil level and would go to the ward and union council level during the next couple of months.

He said that PPP would take off impressively when Chairman Bilawal Bhutto would address the workers conventions right across the province of Punjab who were keenly looking forward to meet their leader.

To another question he said that Dr. Tahir-ul- Qadari unguarded use of words in his speech yesterday was the reaction of the coercive measures taken by the Punjab government to stop PAT workers to attend martyrs day adding that he also talked about the constitutionalism that projected his true thinking.

He recalled that the Punjab government killed fourteen PAT workers and injured as many as ninety during the operation of removing encroachments outside Dr. Qadari Lahore residence.

To another question, Mian Manzoor Ahmed Wattoo disapproved the PAT workers wearing gas masks and wielding offensive sticks adding it was also their reaction of the use of brutal force by the Punjab police. PAT workers have always been peaceful and they never took law into their hands during such protests in the past , he observed.

He advised the government to give free hand to the PTI and PAT workers on August 14 because stopping them to observe peaceful march would be dangerous for the country and the political system. They would not take over Prime Minister House, or the Parliament or Supreme Court, he added.

He strongly advocated that the government should not use the police force against the marchers and instead plan to facilitate them like the PPP did for the protestors during the sin-in last time.

He suggested that government should take advice of the handling of long march from the PPP leadership and must desist using the force blatantly against the Azadi marchers.

حکومت کے پاس اب غلطی کی گنجائش نہیں ہے اس لیے اس کو اب ہر قیمت پر سیاسی بحران کو صلح صفائی اور مذاکرات سے جلد حل کرنا چاہیے۔ یہ بات پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے آج لالہ موسیٰ میں صحافیوں کے باتیں کرتے ہوئی کہی۔ جہاں وہ قمر الزمان کائرہ اور تنویر اشرف کائرہ نے چچا چوہدری محمد اکرم کائرہ کی قرآن خوانی میں شریک ہوئے۔ انہوں نے وزیر اعظم پر زور دیا کہ وہ عمرا ن خان کے زیادہ سے زیادہ مطالبات جمہوریت کے تسلسل اور موجودہ بحران کو حل کرنے کی خاطر تسلیم کریں اگر اسکے لیے ترامیم بھی لانی پڑیں تو وہ ضرور ایسا کریں۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ پی ایم ایل(ن) نے صحیح اقدام اٹھانے میں ہمیشہ دیر کی ہے جس سے ماضی میں بڑے نقصانات ہوئے ہیں اور اب بھی پارٹی کی قیادت وہی غلطی کر رہی ہے۔ ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی مڈٹرم انتخابات کے لیے تیار ہے اگر یہ ناگزیر ہوگئے۔ پیپلز پارٹی ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے جسکا جمہوری جدوجہد میں شاندار ٹریک ریکارڈ ہے جس سے عوام بخوبی واقف ہیں ۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی پنجاب نے تحصیل کی سطح پر تنظیمی امور مکمل کر لیے ہیں اور آئندہ 2ماہ کے دوران یونین کونسلز اور وارڈز کی سطح تک بھی امور مکمل کر لیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی پنجاب میں ٹیک آف ضرور کرے گی جب چےئرمین بلاول بھٹو آئندہ سارے پنجاب میں ورکرز کنونشنز سے خطاب کریں گے جسکا پارٹی کے کارکن بڑی بیتابی سے انتظار کررہے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی کل کی تقریر میں کچھ الفاظ کا استعمال حقیقت میں پنجاب حکومت کے ظالمانہ اقدام کا ردعمل تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے اپنی تقریر میں آئین کی بھی بات کی جو کہ انکی سوچ کی صحیح عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس نے ڈاکٹر طاہرالقادری کی لاہور رہائشگاہ سے تجاوزات ہٹانے کے آپریشن کے دوران اُنکے 14لوگ ہلاک کر دئیے اور تقریباً 90زخمی کر دئیے۔ ایک اور سوال کے جواب میں پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر نے کہا کہ کارکنوں کا گیس ماسک پہننا اور ڈنڈے اٹھا کر احتجاج کرنے کو وہ پسند نہیں کرتے ہیں لیکن اُنکا یہ رویہ حکومت پنجاب کے سخت اقدامات کا نتیجہ تھا، ورنہ پی اے ٹی کے کارکنوں نے ہمیشہ قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے احتجاج کیا ہے جس میں کبھی ایک گملا بھی نہیں ٹوٹا۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ حکومت کو پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے کارکنوں کو آزادی مارچ میں نہ صرف فری ہینڈ دینا چاہیے بلکہ انکو سہولتیں بھی مہیا کرنا چاہئیں جیسا کہ پیپلز پارٹی نے پچھلے دھرنے میں کیا تھا۔ اگر حکومت ایسا کرتی ہے کو وہ کوئی پرائم منسٹر ہاؤس، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ پر قبضہ نہیں کر لیں گے؟ انہوں نے زور دار اپیل کی کہ حکومت طاقت کا بے جا استعمال ہرگز نہ کرے کیونکہ اس سے حالات مزید خراب ہونگے۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ لانگ مارچ کو احسن طریقے سے ڈیل کرنے کے لیے انہیں پیپلز پارٹی کی قیادت سے مشورہ لینا چاہیے۔ چوہدری محمد اکرم کائرہ کی قرآن خوانی میں پیپلز پارٹی لاہور، گجرانوالہ، شیخوپورہ اور کامونکی کے بڑی تعداد میں ٹکٹ ہولڈرز اور عہدیداروں نے شرکت کی جسمیں امتیاز صفدر وڑائچ، دیوان محی الدین، منظور احمد مانیکا، میاں عبدالوحید، ڈاکٹر خیام، میاں محمد ایوب، آصف خان، محمد صدیق گجر، طارق گجر، لالہ اسدا للہ، چوہدری ریاض، دیوان شمیم، زمان کائرہ اور عابد صدیقی شامل تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں